سیاحت

میروں کے دیس میں: قسط 10 بدھا کی چٹان اور طلسم ہوشربا…… عرفان ریاض

علی الصبح بیدار ہو کر حوائج ضروریہ سے فراغت کے بعد غسل کا ارادہ کیا مگر پانی میں برفیلی کاٹ تھی، سو منہ ہاتھ دھونے پر ہی اکتفا کیا گیا۔ ناشتہ سے فارغ ہو کر ایک بار پھر گلگت گردی کے لئے نکل پڑے۔کچھ دیر بازاروں میں مٹر گشت کرنے کے بعد ہم شہر سے باہر قریباً 10 کلو میٹر کی دوری پر واقع بدھا کی مشہور چٹان دیکھنے کے لئے روانہ ہوئے۔ بدھا کی چٹان تک پہنچنے کے لئے باقاعدہ پک اپ سروس کا انتظام تھا۔ پک اپ شہر سے نکل کر دریائے گلگت کے ساتھ دوڑنے لگی۔ شہر کی رونق اور ہلچل میں دریائے گلگت کے شور میں کمی آجاتی ہے لیکن اس کی روانی اور تندی ویسے ہی رہتی ہے اور اب شہر سے باہر اس کی جولانیاں اپنے پانیوں کے شور کے ساتھ جوبن پر تھیں۔ دریائے گلگت کے شوریدہ سر پانیوں سے پرے ایک طویل چٹیل فصیل کی طرح کھڑے بلند و بالا پہاڑ سورج دیوتا کی روشنی میں قریباً نہلائے ہوئے تھے۔ ہمارے چاروں طرف ایک پہاڑی حصار تھا جس میں قابل دید نظارے بھی تھے۔
نشیب و فراز والے اس راستے پر ہماری پک اپ فراٹے بھرتے جا رہی تھی اور باہر دیکھنے پر ایسے لگتا تھا جیسے پہاڑ بھی ساتھ ساتھ دوڑ رہے ہوں۔ ایک موڑ پر دریائے گلگت دور ہٹنا شروع ہوا اور پھر نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ پک اپ نے ہمیں نہایت چھوٹے سے قصبے کے پاس اتارا۔ وہاں سے قریباً بیس منٹ کی پیدل واک تھی جس کے دوران وہ ہوشربا منظر دیکھنے کو ملے کہ آنکھیں دیکھتی ہی رہ گئیں۔

ہمارے دائیں جانب نشیب میں ایک پہاڑی نالہ پتھروں پر سر پٹختا رواں دواں تھا۔ ہم تک اس کا شور اور ٹھنڈک آتی تھی۔ ذرا قریب ہو کر دیکھنے پر بلند ہوتے درختوں میں کہیں کہیں بل کھاتے لہراتے پہاڑی نالے کی جھلک نظر آجاتی۔ اس نشیب سے پرے دو پہاڑی سلسلے گلے مل رہے تھے اور جہاں وہ مل رہے تھے وہاں سے ایک راستہ اندر کسی وادی کو جاتا تھا۔ سیاہ پہاڑوں کے درمیان اس راستے پر سفید دھند کی دبیز تہہ اتری ہوئی تھی جو سورج کی تمازت کی تاب نہ لا کر بڑی آہستگی سے چھٹتی نظر آتی، یہ منظر کسی طلسم ہوشربا سے کم نہ تھا۔
ہمارے سامنے چٹانوں کا ایک لامتناہی سلسلہ تھا اور اسی سلسلے میں کہیں وہ چٹان تھی جس پر بدھا کی شبیہہ بلکہ بدھا صاحب بذات خودکندہ تھے۔ عمران بھائی نے سامنے چٹانوں میں سے ایک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ”بدھا کی چٹان وہ رہی“ لیکن میں چشم ظاہر سے جس پر موٹے موٹے شیشوں والی عینک بھی لگی ہوئی تھی، اس کی نشاندہی سے قاصر رہا اور مجھے اپنے گلے میں لٹکتی روسی ٹیلی سکوپ کا سہارا لینا پڑا۔ دوربین آنکھوں سے لگا کر میں نے اس سلسلہ کو ٹٹولنا شروع کیا تو بدھا صاحب اپنے مخصوص انداز میں ایک چٹان میں کھڑے نظر آگئے۔
چٹان کے ساتھ پگڈنڈی نما راستے پر بدھا کی شبیہہ کے بالکل نیچے دو تین گورے بھی نظر آئے۔ جہاں ہم کھڑے تھے وہاں سے ہمارے اور اس چٹان کے درمیان ایک گہرا نشیب تھا۔ ابھی ہم سوچ رہے تھے کہ وہ گورے وہاں تک پہنچے کیسے کہ اچانک ہمیں اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا، مڑ کر دیکھا تو ایک نکلتے قد کا کھچڑی داڑھی والا نہایت ہی دھان پان سا گورا، چہرے پر عینک ٹکائے، ہاتھوں میں عجیب و غریب قسم کے رنگ برنگے کنگن پہنے کھڑا بدھا کی چٹان کو گھور رہا تھا۔ ہم نے اس سے ہیلو ہائے کرتے ہوئے دوربین کی آفر کی جو اس نے بلاجھجک قبول کر لی۔ ادھر ٹیلی سکوپ اس کی آنکھوں سے لگی اور ادھر اس کے منہ سے بے اختیار نکلا- Oh! it is really wonderful بدھا کی زیارت میں محو کچھ دیر ”ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم“ کی حالت میں رہنے کے بعد اس نے شکریہ کے ساتھ ٹیلی سکوپ ہمیں لوٹا دی اور خود واپس ہو لیا۔
یہ بھی پڑھیں! میروں کے دیس میں: قسط 9 یادگارِشہداء پر فاتحہ خوانی اور پاک چین نمائش…… عرفان ریاض
ہم نے بدھا کے قریب جانے کی ٹھانی، تھوڑا آگے جا کر بدھا کی چٹان کے بالکل سامنے ایک باقاعدہ راستہ نشیب میں اترتا تھا، ہم اس راستے پر نیچے اترنے لگے۔ ان علاقوں میں ”راستے“ سے مراد میدانی راستہ ہرگز نہیں ہوتا۔ میدانی علاقوں میں تو ایک ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈی بھی پہاڑی علاقوں کے ان ڈھلوانی راستوں سے بدرجہا بہتر اور قابل گزر ہوتی ہے۔ پتھروں کی ایک ڈھلوان نالے تک پہنچتی تھی جس پر توازن برقرار رکھتے ہوئے ہم نالے تک آئے اور اس کے تندو تیز پانیوں میں پڑے پتھروں پر احتیاط اور مضبوطی سے قدم جماتے ہوئے اسے عبور کیا تو ہمارے سامنے ایک پتھریلی پگڈنڈی چٹان کے ساتھ لپٹی ہوئی اوپر جا رہی تھی، ہم اس پر ہو لئے۔ بدھا کے بالکل قریب پہنچ کر جہاں وہ ہمارے سروں کے عین اوپر تھا، اسے دوبارہ پڑنام کرتے ہوئے کیمرے کا بٹن دبا دیا۔ ایک کلک ہوئی اور بدھا صاحب بمعہ چٹان ہمارے کیمرے میں محفوظ ہوگئے۔ بدھا کے پتھر چہرے پر انکساری اور دائمی سکون عیاں تھا۔
آج سے صدیوں پہلے شہزادہ سدھارتھ کپل دستو کے محل سے راج پاٹ تج کے نکلے تو دل دنیا کی چاہ سے خالی اور دکھوں سے بھری ہوئی تھی۔ وہ گیان کی تلاش میں نکلے اور گیانہ پہنچ گئے۔ جہاں برگد کے پیڑ کی ٹھنڈی چھاؤں میں انہیں پناہ بھی ملی اور نروان بھی۔ واپس آتے ہوئے ہم ان ہاتھوں کے متعلق سوچنے لگے جنہوں نے سینکڑوں سال قبل اس پیکر کو پتھر میں ڈھال کر اس چٹان کو اک خصوصی اہمیت کا حامل بنا دیا اور اب دنیا جہان سے بدھا کے پیروکار امن و آشتی کے اس پیامبر کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے یہاں آتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں! ہمارے آثار قدیمہ اور ثقافتی ورثہ کے رنگ…… اختر سردارچودھری
گلگت کے آس پاس اور ہنزہ سے خنجراب جاتے ہوئے شاہراہ قراقرم کے گردو نواح میں بدھ مت کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ اگرچہ قراقرم ہائی وے کی تعمیر کے دوران ڈائنامیٹ کے استعمال سے بہت کچھ معدوم ہوا لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ باقی رہ گیا ہے۔ ان علاقوں میں بدھ مت کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ قریباً بارہ سو سال تک ان خطوں میں بدھ مت کا راج رہا۔ جس کے آثار ان وادیوں میں بکھرے نظر آتے ہیں۔ بدھ مت کی جگہ رفتہ رفتہ اسلام نے لے لی۔ گلگت میں دو فرقوں کی اکثریت ہے سنی اور شیعہ جبکہ اسماعیلی بھی قلیل تعداد میں موجود ہیں لیکن گلگت سے پرے وادی ہنزہ میں موخر الذکر یعنی اسماعیلیوں کی بہتات ہے۔
نالہ کراس کرکے ہم اوپر آئے تو ہمیں ایک وین نظر آئی جو کسی سواری کو اتار کر واپس جا رہی تھی۔ ہم لفٹ لے کر سڑک کے کنارے تک پہنچے۔ سڑک تک آتے ہوئے وین ایک تنگ مگر نہایت خوبصورت ذیلی راستے سے گزری۔ نالوں پر لکڑی کے چھوٹے چھوٹے دیدہ زیب پل بنے ہوئے تھے۔ جنہیں عبور کرکے ہم سڑک تک آئے اور وہاں سے پک اپ میں بیٹھ کر گلگت واپس آ گئے۔

Leave a Reply

Back to top button