سیاحت

میروں کے دیس میں: قسط 12 حیات ذوق سفر کے سوا کچھ اور نہیں…… عرفان ریاض

شہر سے باہر نکلتے ہی ایک بار پھر دریائے گلگت کا پل ہمارے سامنے تھا۔ پل کراس کرکے وادی گلگت کے متوازی چلتے ہوئے دینیور کے چھوٹے سے قصبے سے گزرے، سڑک کے کنارے درختوں کے جھنڈ میں چند ایک نیم پختہ مکان اور دو تین دکانیں تھیں۔ دینیور کے بعد چند اور چھوٹے چھوٹے برائے نام سے مقام آئے لیکن ہم اقبال ؒکے اس شعر:
ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا
حیات ذوق سفر کے سوا کچھ اور نہیں
کی عملی تفسیر بنے ذوق سفر میں محو ہر مقام سے گزرتے گئے۔
قریباً ڈیڑھ گھنٹہ کی ہموار اور پُرسکون ڈرائیو کے بعد ایک پُرفضا مقام پر ویگن رکی تو باقی مسافروں کے ساتھ ہم بھی ٹانگوں کو سیدھا کرنے کے لئے اپنی سیٹوں سے قریباً اچھلتے ہوئے باہر کی آزاد فضا میں آ گئے۔ سڑک کے بائیں کنارے جہاں ہماری ویگن رکی تھی، پانچ سات دکانیں تھیں۔ یہ دکانیں بھی ویسی ہی تھیں جیسی ہمارے ہاں قصبوں میں ہوا کرتی ہیں۔ ان دکانوں کے پیچھے نشیب میں دریائے ہنزہ بہہ رہا تھا۔ سڑک کے دائیں جانب ایک تندور والی دکان تھی، جس میں پکنے والی روٹیوں کی سوندھی سوندھی خوشبو ہوا میں رچی ہوئی تھی۔ تندور والی دکان کے ساتھ کچھ دکانیں ملبے کا ڈھیر بنی ہوئی تھیں اور ان سے کچھ پرے عقب میں بلند پہاڑوں کی دیوار تھی۔ چند روز قبل اوپر سے ایک بڑا پتھر لڑھکتا ہوا آیا اور سڑک کے پار نیچے دریا میں جا گرا لیکن جاتے جاتے ان دکانوں کا کام تمام کر گیا۔ پتھر گرنے سے سڑک کو بھی نقصان پہنچا تھا، جس کی مرمت کا کام جاری تھا۔ ان علاقوں میں لینڈسلائڈنگ معمول کی بات ہے اور جہاں کہیں بھی سڑک کو نقصان پہنچتا ہے تو آمدورفت کا سلسلہ بحال رکھنے کے لئے اسے فوری مرمت کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لئے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن F.W.O کے مستعد جوان ہر وقت تیار رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں! میروں کے دیس میں: قسط 11 ہومیوپیتھک ڈاکٹر کی مہمان نوازی اور ہم
ان کے بقول شاہراہ قراقرم کو کھلا رکھنے کے لئے یہ تو ایک جنگ ہے جسے جاری رہنا ہے۔ یہاں سے روانہ ہوئے تو چڑھائی شروع ہو گئی۔ جوں جوں ہم بلند ہوتے گئے، ہمارے ساتھ چٹانیں بھی بلند ہوتی گیئں البتہ دریائے ہنزہ کا شور ہم سے نیچے رہتا گیا۔
ویگن میں ہمارے علاوہ باقی تمام مسافر مقامی تھے اور اکثر گلگت سے ہنزہ آنے جانے رہتے تھے۔ میرے ساتھ بیٹھے بیگ صاحب، جن سے کچھ دیر قبل میں متعارف ہو چکا تھا، نے نشیب میں بہتے ہوئے دریائے ہنزہ سے پرے پہاڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ”وہ پرانا ہنزہ روڈ ہے، غور کرنے پر مجھے وہاں لکیر کی صورت میں پہاڑ سے چمٹا ہوا اک مٹیالہ سا رستہ نظر آیا جو انتہائی دشوار گزار اور خطرناک دکھائی دیتا تھا۔ بیگ صاحب نے مزید بتایا کہ جب قراقرم کا معجزہ رونما نہیں ہوا تو گلگت سے ہنزہ آنے جانے کے لئے وہی راستہ استعمال کیا جاتا تھا لیکن اب یہ راستہ قریباً متروک ہو چکا تھا۔
یہ بھی پڑھیں! ہمارے آثار قدیمہ اور ثقافتی ورثہ کے رنگ…… اختر سردارچودھری
واقعی یہ شاہراہ ریشم کا اعجاز ہے جس نے اس جنت گم گشتہ کا رابطہ باقی دنیا سے بحال کیا ورنہ یہ خطہ عرصہ طویل تک باہر کی دنیا سے بے نیاز، الگ تھلگ اپنی تہذیب و تمدن میں کھویا ہوا بالکل پوشیدہ رہا۔(جاری ہے)

Leave a Reply

Back to top button