سیاحت

میروں کے دیس میں: قسط 14 تھکن اتنی سفر کی تھی کہ سونا بھی ضروری تھا

عرفان ریاض

عرفان ریاض
ہمارے اردگرد تنی ہوئی چٹانیں نیلگوں آسمان سے بوسہ بازی کرتی معلوم ہوتی تھیں۔ ہماری آنکھوں کو اب پتھروں کی اس دیوار کی عادت سی ہو گئی تھی۔ کبھی یہ دیوار سڑک کی دائیں طرف اور کبھی بائیں طرف آ جاتی کیونکہ سڑک ”زیگ زیگ“ صورت میں پہاڑوں سے لپٹی ہوئی تھی۔ ہمارے دائیں جانب نگر کی خوبصورت وادی تو بائیں جانب وادی ہنزہ کے دلکش نظارے تھے۔ گلگت سے 112 کلومیٹر کی دوری پر واقع وادی ہنزہ کے صدر مقام کریم آباد پہنچنے میں ہمیں تین گھنٹے لگ گئے تھے۔ تمام وادی شام کے دھندلکوں میں سرخ ہو رہی تھی، کسی مناسب ہوٹل کی تلاش میں یہ سرخی شب کی سیاہی میں بدل گئی۔

کریم آباد، پہاڑوں کا خوبصورت منظر

گلگت کے برعکس جہاں سارا سال سیزن رہتا ہے، ہنزہ میں گرمیوں اور بہار میں ہر طرف جوبن اور شباب ہوتا ہے۔ اب ستمبر تھا اور سیزن ایک طرح سے ختم ہو رہا تھا لیکن ہوٹلوں کے کرائے ابھی تک ہوشربا تھے۔ تین چار ہوٹلوں کی خاک چھاننے کے بعد دربار ہوٹل کی دیدہ زیب عمارت سے چند قدم کے فاصلے پر بلتت کی جانب ایک ہوٹل میں مناسب داموں پر کمرہ مل گیا۔ یہ ہوٹل کریم آباد کی واحد بڑی سڑک کے کنارے نشیب میں عین اس جگہ واقع تھا جہاں سے ایک ذیلی سڑک اوپر کو اٹھتی ہوئی ہنزہ کے سابق میروں کی موجودہ رہائش گاہ کو چلی جاتی تھی۔ نیچے ہوٹل تک پہنچنے کے لئے ایک مختصر سی ڈھلوان تھی جس کے آغاز میں ”ہوٹل نیوملبری“ کا بورڈ آویزاں تھا جس سے ہوٹل کو جانے والے راستے کی نشاندہی ہوتی تھی۔ الٹے ایل کی شکل کا ہوٹل نیوملبری 6 بڑے بڑے کمروں پر مشتمل تھا، جن کے آگے برآمدہ اور سامنے چھوٹا سا لان تھا، جس میں چند کرسیاں رکھی تھیں۔ لان سے پرے نشیب میں وادی پھیلی ہوئی تھی اور اس سے پرے بلند ہوتی برف پوش چوٹیاں تھیں جب کہ اوپر سڑک کے ساتھ ساتھ کریم آباد تھا۔

ہوٹل نیو میلبری

ہم نے اپنے بھاری بھر کم سفری بیگ کمرے کے کارپٹڈ فرش پر ڈھیر کرتے ہوئے سکون کا سانس لیا۔ پانی حسب سابق یخ ٹھنڈا تھا، اس لئے منہ ہاتھ ہی دھویا جا سکا۔ باہر نکلے تو رات جو بلی کی طرح دبے پاؤں آتی ہے چھا چکی تھی۔ ہمارے سامنے بلتت کا سحر انگیز قلعہ رات کی تاریکی میں بقعہ نور بنا ہوا تھا جبکہ اس کے عقب میں التر اور لیڈی فنگر کی برف پوش چوٹیوں کے مہیب سائے لرزاں تھے۔

سیانے کہتے ہیں ”اگر پیٹ میں نہ ہوں روٹیاں تو سبھوگلاں کھوٹیاں“ اور ہمیں سیانوں کے اس اکھان سے اتفاق تھا۔ پیٹ پوجا کے لئے ہم کریم آباد کی بلند ہوتی سڑک پر بلتت کی جانب چل دیئے، برف پوش پہاڑوں کی ٹھنڈک ہوا ہمارے جسموں میں سرائیت کر رہی تھی۔ تھوڑا آگے بائیں جانب ایک کیبن نما ریسٹورنٹ تھا جس میں داخل ہوتے ہی گرم آسودگی کا احساس ہوا۔ ریسٹورنٹ میں بالکل سامنے کارنر میں کاؤنٹر تھا جبکہ دائیں بائیں کرسیاں میز لگے ہوئے تھے۔ دونوں اطراف پر جالی لگی ہوئی کھڑکیاں تھیں جن پر پلاسٹک لگا ہوا تھا تا کہ روشنی آتی رہے اور یخ بستہ ہواؤں سے بچت رہے۔ ہوٹل کا عملہ جتنا مستعد اور خوش اخلاق تھا کھانا بھی اتنا ہی مزیدار اور خوش ذائقہ تھا۔ چند مقامی حضرات بیٹھے گپ شپ لگا رہے تھے اور کبھی کبھار کن اکھیوں سے ہمیں بھی دیکھ لیتے، کھانا کھا کر گرما گرم چائے اپنے بدنوں میں انڈیل کر کمرے میں واپس آگئے۔ ہمارے بدن تھکاوٹ سے چور اور آنکھیں نیند سے بوجھل ہو رہی تھیں ویسے بھی بقول شاعر ”تھکن اتنی سفر کی تھی کہ سونا بھی ضروری تھا“۔

Leave a Reply

Back to top button