سیاحت

میروں کے دیس میں: قسط 3 مان سنگھ کا مانسہرہ…… عرفان ریاض

مانسہرہ کبھی ضلع ہزارہ کی تحصیل تھی لیکن یکم اکتوبر 1976ء کو اسے ضلع کا درجہ دے دیا گیا اور اب اس کی تین تحصیلیں ہیں: مانسہرہ، اوگی اور بالاکوٹ۔ پاٹا کا علاقہ کالا ڈھاکہ بھی اسی ضلع میں شامل ہے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں یہاں سکھ گورنر مان سنگھ ہوا کرتا تھا اسی وجہ سے اس علاقے کو مانسہرہ کہا جانے لگا۔ برصغیر پاک وہند میں اس علاقے کی تاریخ بہت پرانی ہے، ماضی میں سلطنتوں اور حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ اس علاقے کی جغرافیائی حدود بھی سکڑتی اور پھیلتی رہیں۔ ضلع مانسہرہ کا کل رقبہ 4579 مربع کلو میٹر ہے اور 1998ء کی مردم شماری کے مطابق کل آبادی11,52,839 نقوس پر مشتمل ہے۔
یہ بھی پڑھیں! میروں کے دیس میں: قسط 2 ایبٹ آباد، سٹی آف پائنز…… عرفان ریاض
مورخین کے مطابق 327ق م میں سکندر اعظم نے شمال مغربی ہندوستان کی فتح کے بعد اس علاقے کو ریاست پونچھ کے راجہ کے حوالے کر دیا۔ سلطنت موریہ کے عہد میں مانسہرہ ٹیکسلا کا حصہ رہا۔ شہزادہ اشوک اس علاقے کا گورنرتھا، اپنے باپ کی موت کے بعد اشوک اعظم تخت وتاج کا مالک بنا تو وادی گندھارا کے ساتھ یہ علاقہ بھی براہ راست اس کے تسلط میں آ گیا۔ اس علاقے میں واقع اشوکا راکس یا ہندوؤں کے پہاڑ جن پر مہاراجہ اشوک کے فرمان کندہ کیے گئے، اس بات کا ثبوت ہیں کہ کبھی یہ علاقہ ہندوؤں کے لئے بڑا مقدس رہا ہوگا اور یاتری یہاں جوق در جوق آتے رہے ہوں گے۔

مانسہرہ میں اشوکا راکس
دوسری صدی عیسوی میں سیالکوٹ کے راجہ سالبھن کے بیٹے راجہ رسالو جسے ہندوؤں میں دیومالائی مقام حاصل ہے، نے اس علاقے کو اپنی سلطنت کا حصہ بنا لیا۔ اب بھی مقامی لوگ سردیوں کی طویل اور ٹھٹھرتی راتوں میں گھروں کے اندر لحافوں میں لپٹے ہوئے انگیٹھیوں کے گرد اپنے بچوں کو راجہ رسالو اور اس کی ملکہ رانی کولکلان کے قصے سناتے ہیں۔
مشہور چینی سیاح ہیون سانگ سیاحت کرتے ہوئے ادھر آیا تو اس وقت یہ علاقہ کشمیری حکمرانوں کے زیر انتظام تھا، بعد میں یہ راجہ جے پال جسے محمود غزنوی کے ہاتھوں شکست ہوئی، کی سلطنت کا بھی حصہ رہا۔ کابل سے واپسی پر تیمور لنگ کے قدم بھی اس علاقے میں پڑے۔
1742ء میں ترک سلطان شہاب الدین نے ”پاکھلی سرکار“ کے نام سے یہاں سلطنت قائم کی اور گولی باغ کو اپنا دارالخلافہ بنایا۔ مغل بادشاہ اکبر اور جہانگیر اس علاقے سے گزر کر کشمیر جایا کرتے تھے۔ اٹھارویں صدی کے اوائل میں جلال بابا کی قیادت میں سواتیوں نے ترکوں سے یہ علاقہ چھین لیا اور جب احمد شاہ درانی نے اپنی سلطنت کو پنجاب اور کشمیر تک وسعت دی تو یہ علاقہ براہ راست اس کے کنٹرول میں آ گیا لیکن جب سکھوں نے طاقت پکڑی تو مہاراجہ رنجیت سنگھ اس علاقے کو اپنے تصرف میں لے آیا۔ یہی وہ سرزمین ہے جہاں سید احمد شہید نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سکھوں کے خلاف آزادی کے لئے کئی لڑائیاں لڑیں اور بالاآخر 1831ء میں بالاکوٹ کے مقام پر جام شہادت نوش کیا۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ کی موت کے بعد سکھ سلطنت کا شیرازہ بھی بکھرنے لگا تو یہ علاقہ انگریزوں کے زیر تصرف آ گیا اور اس علاقے کو پنجاب سے ملا دیا گیا۔ 1840ء میں انگریزوں اور سکھوں میں امن معاہدہ ہوا جس کی رو سے راجہ گلاب سنگھ نے 75,00,000 روپے میں کشمیر اور ہزارہ انگریزوں سے خرید لیا۔ 1901ء میں جب شمالی مغربی سرحدی صوبہ قائم ہوا تو ہزارہ کو اس میں شامل کر دیا گیا۔ تحریک خلافت ہو یا تحریک آزادی اس علاقے کے لوگوں نے ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ زمانہ قدیم میں مقامی لوگ بدھ مت کے پیروکار تھے لیکن بعد میں ہندومت کی طرف مائل ہوگئے۔ مسلمانوں کی اس علاقے میں آمد کے بعد لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ ہندکو، پشتو، اور گوجری علاقائی زبانیں ہیں تاہم قومی زبان ہونے کے ناطے اردو بھی بولی اور سمجھی جاتی ہے۔
ایبٹ آباد کی نسبت مانسہرہ کم صاف ستھرا نظر آیا۔ جگہ جگہ کیچڑ اور گندگی۔ طویل تاریخ کے حامل اس مختصر پہاڑی قصبے میں ہمارا قیام بھی مختصر ہی رہا۔ یہیں سے ہم نے گلگت کے لئے بکنگ کروائی۔ بس میں گلگت کے لئے سیٹوں کی بکنگ کرواتے وقت جب ہمارے نام، پتے باقاعدہ رجسٹر میں درج کئے گئے تو ہمیں پہلی دفعہ خطرے کا لاشعوری احساس ہوا
”کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے“
یہ بھی پڑھیں! میروں کے دیس میں: قسط 1 بلاوے کی گھنٹیاں…… عرفان ریاض
ہم طفل تسلیوں سے کام لیتے ہوئے بس میں سوار ہوگئے۔ بس قریباً آدھی خالی تھی۔ میں نے سامان ایک سیٹ پر رکھ کر کھڑکی کے ساتھ والی دوسری سیٹ پر خود کو ڈھیر کر دیا۔ جب کہ عمران بھائی مجھ سے اگلی سیٹ پر براجمان ہوگئے۔ پچھلے قریباً ایک گھنٹے سے اپنے سفری بیگ اٹھائے،گلگت جانے والی بس کی تلاش میں مانسہرہ کی خاک چھانتے چھانتے ہم تھک گئے تھے۔ ویسے بھی بس کا اڈہ شہر سے باہر تھا۔ اڈہ کیا تھا بس ایک ریسٹورنٹ تھا جس کے باہر ایک بڑے سایہ دار درخت کے نیچے ایک ٹک شاپ تھی جب کہ ساتھ ہی بائیں جانب ایک زیر تعمیر عمارت تھی جس میں نیٹکو کا آفس تھا۔
حواس بحال ہوئے تو میں نے اپنی سیٹ سے قدرے بلند ہوتے ہوئے گردوپیش کا جائزہ لیا تو مجھے نہایت مایوسی ہوئی کیونکہ جس سے تصویر کائنات میں رنگ ہیں، پوری بس اس وجود سے یکسر خالی تھی۔ جان کولسن نے شاید ایسی ہی کسی صورت حال کے لئے کہا تھا ”قید تنہائی سے بدتر ایک ہی چیز ہے اور وہ ہے بے زن پارٹی“۔ پارٹی نہ سہی بس ہی سہی اور اب ہم ایک بے زن بس میں ایک طویل اور سپاٹ شاہراہ پر سفر کر رہے تھے جس کے کنارے سرسبز درخت بلند ہوتے دیکھ رہے تھے۔

Leave a Reply

Back to top button