سیاحت

میروں کے دیس میں: قسط 4 شاہراہ دوستی، آٹھواں عجوبہ…… عرفان ریاض

شاہراہ قراقرم اگرچہ حویلیاں سے شروع ہو چکی تھی لیکن ابھی تک اس کی دشوار گزاری کھل کر سامنے نہیں آئی تھی۔ قراقرم ہائی وے پاکستان اور چین کے درمیان دوستی، محبت اور یگانگت کے رشتہ کا ثبوت ہے، چینی اسے شاہراہ دوستی بھی کہتے ہیں۔
قراقرم ترکی زبان کا لفظ ہے”قرا“ کا مطلب سیاہ اور”قرم“ سے مراد بھر بھری چٹانیں ہیں یعنی سیاہ بھربھری چٹانیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہے اور دیکھنے والے اس سے انکار نہیں کر پاتے۔ اس شاہراہ کی تاریخ بڑی دلچسپ اور حیران کن ہے۔ یہ شاہراہ 1965ء میں بننا شروع ہوئی اور قریباً 15سال کی مدت میں مکمل ہوئی، تقریباً 805 کلو میٹر لمبی یہ شاہراہ پاکستان کے شہر حویلیاں سے شروع ہو کر ایبٹ آباد، مانسہرہ، تھاکوٹ، بشام، چیلاس، گلگت اور ہنزہ سے ہوتی ہوئی پاک چین بارڈر پر واقع درہ خنجراب تک جاتی ہے جو سطح سمندر سے 16000 فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور وہاں سے چین کے مسلم آبادی والے صوبہ سنکیانگ میں داخل ہو جاتی ہے اس کو بجا طور پر پاک چین دوستی کی یادگار قرار دیا جا سکتا ہے۔ پاکستان اور چین کے مابین خشکی کے راستے تجارت کا واحد ذریعہ یہ ہی شاہراہ ہے اور اسی کی بدولت چین کی بحرہند اور مشرقی وسطیٰ تک رسائی ممکن ہوئی۔ یہ اسی جگہ بنائی گئی ہے جہاں سے کبھی تاریخی شاہراہ ریشم گزرتی تھی۔ شاہراہ ریشم دوسری صدی عیسوی سے آٹھویں صدی عیسوی تک نہایت اہم تجارتی گزرگاہ رہی جو وسط ایشیاء کے مشہور شہروں کو ایک دوسرے سے ملاتی تھی اور اب اس کی از سر نو تعمیر نے پاکستان کے شمال کے ان دلکش اور دشوار گزار علاقوں تک رسائی ممکن بنا دی ہے۔

شاہراہ قراقرم کی سیاحوں سے شناسائی زیادہ پرانی نہیں، اسے سیاحوں کیلئے1986ء میں کھولا گیا لیکن یہ شاہراہ قدیم دور سے مختلف قوموں کی گزر گاہ رہی ہے۔ ان میں سکندر اعظم کی فوجیں بھی تھیں بدھ مت کے زائرین بھی تھے اور شاہراہ ریشم پر سفر کرنیوالے تجارتی قافلے بھی تھے اور اب ہم بھی اسی رہگذر کے مسافر تھے۔
سول انجینئرنگ کے اس عجوبہ کی تعمیر میں 15 ہزار پاکستانیوں اور 10 ہزار چینیوں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ کہتے ہیں کہ اس کی تعمیر کے دوران فی کلو میٹر کم از کم ایک شخص ہلاک ہوا یوں قریباً 805 انسانی جانوں کے بلیدان سے دنیا کے دشوار گزار ترین سلسلہ ہائے کوہ کو کاٹ کر 805 کلو میٹر طویل اور دشوار گزار سڑک وجود میں لائی گئی۔ اس مقصد کیلئے 8 ہزار ٹن ڈائنا میٹ استعمال کیا گیا جس کے ذریعے 30 ملین مکعب میٹر سے زیادہ پتھر اور مٹی ہٹا لی گئی، اس مہم میں ایک ہزار سے زائد ٹرکوں نے حصہ لیا۔

ناقابل فراموش مناظر سے مزین اس شاہراہ کے قرب وجوار میں کہساروں، وادیوں اور گھاٹیوں کا حسین امتزاج ملتا ہے، کوہ ہمالیہ، کوہ قراقرم، کوہ ہندوکش اور کوہ پامیر میں سے بل کھاتی ہوئی اس شاہراہ پر 99 بڑے اور 1708چھوٹے پل ہیں جبکہ اس کی دشوار گزاریوں کو چار چاند لگانے کیلئے تھاکوٹ سے مشہور زمانہ انڈس اس کی سنگت میں آ جاتا ہے اور جنگلوٹ تک اس کی ہمراہی میں رہنے کے بعد الگ ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر کا ماحول زاہدانہ سا تھا جبکہ بس سے باہر نیلگوں آسمان پر اکا دکا بادلوں کی سفید سفید کشتیاں تیرتی نظر آتی ہیں، کہیں دائیں ہاتھ پر ایک پہاڑی کے اوپر”ا شوکا ر اکس“ معلق تھیں جن کو ”ہندوؤں کا پہاڑ“ بھی کہا جاتا ہے۔ دراصل یہ چٹانیں تو ان گنت صدیوں سے یہیں تھیں اور گم نام تھیں لیکن مہاراجہ اشوک کے دور میں اس کے فرمان ان چٹانوں پر کندہ کئے جانے سے ان کو اشوکا راکس کہا جانے لگا۔

اشوکا راکس
اشوکا راکس پر کندہ فرمان اشوک اعظم کی ذاتی زندگی کے بارے میں صرف یہ جانکاری دیتے ہیں کہ وہ بدھ مت کی طرف کیسے اور کب راغب ہوا۔ حکمرانی کے 8 ویں سال اشوک نے کالنگا (آجکل اڑیسہ) پر چڑھائی کر دی۔ خون آشام تباہ کاریوں سے عبارت پر جنگ تو وہ جیت گیا لیکن خود امن کے ہاتھوں ہمیشہ کیلئے ہار گیا، اس کی کایا ہی پلٹ گئی وہ ایک بھکشو سے متاثر ہوکر بدھ کا بہت بڑا پیروکار بن گیا۔ اہنسا یعنی عدم تشدد اس کی ریاستی پالیسی کا سب سے اہم ستون قرار پایا۔ اشوک کے دھرما ”قانون تقویٰ یا پارسائی“ کے بنیادی اصول: (1) عقل و فہم کی حکمرانی (2) سوچ کی پاکیزگی (3) تشکر (4) رحم دلی (5) پاکیزگی (6) سچائی (7) تعاون (8) خدمت (9) عزت و احترام …… تھے۔
یہ بھی پڑھیں! میروں کے دیس میں: قسط 3 مان سنگھ کا مانسہرہ…… عرفان ریاض
میری اگلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے مخنی سے ڈاڑھی والے بھلے مانس سے شخص نے میرے دریافت کرنے پر دائیں ہاتھ سرخ ہوتی چٹانوں میں سے ایک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ وہاں ہیں اور یقینا وہ وہاں تھیں اور اشوک کے زمانے سے وہیں تھیں۔

Leave a Reply

Back to top button