سیاحت

میروں کے دیس میں: قسط 5 اباسین کا رومانس……عرفان ریاض

ہماری بس خراٹے بھرتی ہوئی شاہراہ ریشم کے میٹالے سینے کو روندتی چلی جا رہی تھی، تھکاوٹ کی وجہ سے کچھ دیر کے لئے آنکھ لگ گئی۔ ویسے بھی جس زاہدانہ ماحول میں ہم سفر کر رہے تھے اس میں آنکھ لڑنا تو کجا ہم کسی کو آنکھ بھر کر دیکھنے سے بھی عاجز تھے، ایسے میں آنکھ کا لگنا ہی غنیمت تھا۔ آنکھ کھلی تو بٹگرام اور بٹل کے قصبے کہیں پیچھے رہ گئے تھے اور ہم تھاکوٹ کی طرف بڑھتے جا رہے تھے۔

ہم انڈس کی پہلی جھلک کے لئے ایسے بے قرار ہو رہے تھے جیسے کوئی عاشق معشوق کے دیدار کے لئے بے تاب ہوتا ہے۔ جوں جوں تھاکوٹ قریب آ رہا تا ہمارا اشتیاق بڑھتا جا رہا تھا۔ باہر شام کے دھندلکے بے سبب اداسی کی طرح بڑھ رہے تھے، سڑک سنسان تھی اور اس کے کنارے بلند ہوتے درخت مایوس عشاق کی طرح کھڑے تھے۔ اک سکوت تھا اور ہماری بس کا بے ہنگم شور، جو سنائی دیتا اور اس خاموشی میں مسلسل خلل ڈالتا تھا۔ شاید ہماری طرح سڑک کے کنارے کھڑے درختوں کو بھی یہ شور ناگوار گزر رہا تھا، ویران اور سنسان لینڈ سکیپ کا یہ سلسلہ تھاکوٹ تک جاری رہا۔

انتظار کی طویل گھڑیاں ختم ہو چکی تھیں، انڈس اس گدلے نالے کو ساتھ ملا کر اسے اپنے عظیم الجثہ وجود کا حصہ بنا چکا تھا جو ہمارے ساتھ ساتھ بہتا چلا آیا تھا۔ ہماری آنکھوں کے سامنے انڈس تھا…… مائٹی انڈس…… وہی انڈس جسے اباسین اور شیر دریا بھی کہا جاتا ہے، جس کا قدیمی نام”نیلاب“ تھا۔ یہ وہی انڈس ہے جو کیلاش کے مقدس پہاڑ کے سائے میں واقع تبت کی جھیل مانسرور سے نکلتا ہے۔ لداخ میں اسے”سنگھے کھمب“ کہتے ہیں، سنگھے یعنی شیر اور کھمب یعنی منہ…… شیر کے منہ سے نکلنے والا دریا۔

شیر دریائے سندھ تھاکوٹ سے نکلتے ہی اترائی کا عمل شروع ہوا تو پہاڑ پرے ہونا شروع ہو گئے، گلگت پہنچنے تک کئی بار چڑھائی اور اترائی کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ بس کی کھڑکی کھلی تھی اور اس سے جو ہوا اندر آرہی اس کی ٹھنڈک بس کو ٹھنڈا کر رہی تھی۔ یہ ٹھنڈک مائٹی انڈس کے پانیوں سے آ رہی تھی جو اپنے عظیم الجثہ وجود کے ساتھ بلند چٹانوں کے دامن میں کسی اژدھے کی مانند پھنکارتا، سرپٹختا بہتا چلا جا رہا تھا۔ میں نے کھڑی کا شیشہ بند کر دیا، ٹھنڈک باہر رہ گئی۔ انڈس کی قربت نے ہمیں چوکنا کر دیا تھا، آگے سڑک کافی پُر پیچ تھی، ہمارے دائیں ہاتھ پر فلک بوس چٹانوں کا ایک لامتناہی سلسلہ نظر آ رہا تھا جب کہ بائیں ہاتھ کوئی پانچ چھ سو گز نیچے دریائے سندھ اپنی تمام وحشتوں اور دل نشینیوں کے ساتھ ٹھاٹیں مار رہا تھا جس کے پانیوں کی پھنکار اور چنکھاڑ مسلسل سنائی دے رہی تھی۔
یہ بھی پڑھیں! میروں کے دیس میں: قسط 4 شاہراہ دوستی، آٹھواں عجوبہ…… عرفان ریاض

Leave a Reply

Back to top button