سیاحت

میروں کے دیس میں: قسط 6 سندھ ساگر کا پانی اور سیاہ خوف…… عرفان ریاض

قراقرم ہائی وے کی تعمیر کے وقت جب ان پہاڑوں کو ڈائنا مائیٹ لگا کر توڑا گیا تو پورے سلسلہ ہائے کوہ میں شگاف اور دراڑیں پڑ گئیں اور اب اس علاقے میں سفر کرتے ہوئے ہر وقت سلائیڈنگ کا دھڑکا رہتا ہے۔ ہمہ وقت ایسا محسوس ہوتا جیسے کسی لمحے کوئی معلق چٹان لڑھکتی ہوئی نیچے آ کر آپ کو انڈس سے ہم آغوشی پر مجبور کر دے گی۔ شب کی تاریخی، قراقرم کا سیاہ خوف، لینڈ سلائیڈنگ کا دھڑکا اور انڈس کے پانیوں سے ہم آغوشی کا ڈر…… ہم سہمے ہوئے دم سادھے سفر کر رہے تھے۔
بشام سے ذرا پہلے رات کے اندھیرے میں ایک روشناس سا قصبہ آیا، دور سے قصبے کی ٹمٹاتی روشنیاں جگنوؤں کی مانند نظر آرہی تھیں، ایسے لگ رہا تھا جیسے شب کی سیاہ چادر پر کسی نے بے شمار جگنو ٹانک دیئے ہوں، بشام پہنچ کر ڈرائیور نے بس سڑک کے کنارے کھڑی کرتے ہوئے رات کے کھانے کا اعلان کر دیا کیونکہ آگے گلگت تک بس نے کوئی سٹاپ نہیں کرنا تھا۔ بشام کے اردگرد تاریکی گہری ہو رہی تھی اور پرے تاریکی میں چٹانوں کے مہیب ہیولے تھے۔

نیچے اتر کر بشام پر ایک اچٹتی سی نظر ڈالی تو مانسہرہ سے مشابہہ دکھائی دیا، شاید رات کے اندھیرے کی وجہ سے ایسا تھا۔ سڑک کے دونوں طرف دکانیں تھیں جن میں سے زیادہ تر کھلی تھیں، کچھ غلیظ سے ہوٹل تھے جن میں سے ایک کو ہم نے چائے نوش کا شرف بخشا۔ عمران بھائی نے تو کھانے پر بھی ہاتھ صاف کئے لیکن میں نے بس چائے ہی پی۔ یہ ہوٹل غلیظ ہی نہیں مہنگا بھی تھا، اس لئے اچھا خاصا نامعقول تھا۔ بازار کھلا مگر گاہک ندارد، سڑک پر کیچڑ اور کہیں کہیں پانی کھڑا تھا۔
یہ بھی پڑھیں! میروں کے دیس میں: قسط 5 اباسین کا رومانس……عرفان ریاض
بشام سے نکلے تو شب کی سیاہی مزید گہری ہو گئی۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے ہم کسی تاریک سرنگ میں سے گزر رہے ہوں جس کے اطراف میں قراقرم کی سیاہ چٹانیں آسمان سے بغلگیر ہو رہی تھیں۔ قراقرم کا سلسلہ ہائے کوہ جس میں دنیا کی بلند ترین چوٹیاں ہیں، رات کی تاریکی میں سیاہ خوف کا ایک طویل اور ہولناک سلسلہ تھا اور ہم اس کی بغل میں معلق قراقرم ہائی وے پر رواں دواں تھے۔ قراقرم کی پہلی جھلک حیران کر دینے والی اور پریشان کن ہوتی ہے اور جب تک نظروں کو اس سیاہ خوف کی عادت ہوتی ہے آپ اپنی منزل پر پہنچنے والے ہوتے ہیں۔ ایسا نہیں ہوتا کہ قراقرم کی سیاہ چٹانیں اچانک آپ کے سامنے آ جائیں بلکہ یہ بتدریج رونما ہوتی ہیں۔ پہلے سر سبز و شاداب پہاڑ آتے ہیں پھر رفتہ رفتہ سبزہ کم اور سنگلاخی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ بالکل سنگلاخ اور سیاہ مائل چٹیل چٹانیں آپ کے سامنے ہوتی ہیں۔

یہی قراقرم ہے۔ اس ہولناک اور طویل سفر میں ایک طرف بنجر پہاڑوں کی افقی بلندی تو دوسری جانب عمودی گہرائی بھی مسلسل آپ کے ساتھ رہتی ہے۔ اس گہرائی میں سندھ ساگر کے شوریدہ پانی ہمارے ہمسفر تھے یا پھر ہم ان کے ہم رکاب۔ جب شب کی تارکیاں اُبھرتیں تو ساتھ ہی دریائے سندھ کی شبیہہ سی کبھی ابھرتی اور کبھی غائب ہو جاتی مگر اب وہ تاریکی کا حصہ بن چکا تھا، وہ دکھائی تو نہیں دے رہا تھا لیکن گہرائی میں کہیں اس کی پھنکار ضرور سنائی دیتی تھی جیسے پاتال سے آ رہی ہو۔
جب تک انڈس کی ہلکی سی شبیہہ بھی نظر آتی رہی ایک انجانا سا خوف ہمارے ساتھ رہا۔ جب تاریکی کی وجہ سے اس کا عظیم وجود ہماری نظروں سے اوجھل ہوا تو ہم اس کبوتر کی طرح مطمئن ہو گئے جو بلی کو سامنے دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ بلی بھاگ گئی۔ کسی موڑ پر بس کا شور ذرا کم ہوتا تو اندھیرے میں گم انڈس کا شور دوبارہ سنائی دینے لگتا۔ (جاری ہے)

Leave a Reply

Back to top button