سیاحت

میروں کے دیس میں: قسط 8 گری گت کا بے وفا موسم…… عرفان ریاض

گلگت تک اتنا طویل سفر اور وہ بھی پہاڑی، چونکہ مجھے اس کا پہلی بار اتفاق ہوا تھا اس لئے مجھے بس میں لگنے والے پے در پے جھٹکوں اور اچھل کود کا ارتعاش ابھی تک بدن میں محسوس ہو رہا تھا۔ راستے میں ہونیوالی متلی کی کیفیت میں اگرچہ قدرے کمی ہوئی تھی لیکن طبیعت میں پوری طرح بشاشت نہیں آ رہی تھی۔ نظروں سے کہیں گزرا تھا کہ ایسی حالت میں دہی کھانا مفید ہوتا ہے لہٰذا کمرے سے نکلتے ہی میں نے عمران بھائی سے کہا کہ پہلے دہی بعد میں باقی کام۔
دہی کی تلاش میں کچھ دقت پیش آئی۔ دو تین بڑی بیکریوں سے پتہ کیا ”ہلہ“ یا کسی اور برانڈ کا تیار شدہ Yogurt تو نہ مل سکا البتہ مقامی طور پر تیار کردہ دہی مل گیا جو کافی گاڑھا تھا اور ذائقہ بھی پہاڑی پہاڑی سا تھا غالباً گائے یا یاک کے دودھ کا بنا ہوا تھا۔ ٹھنڈے موسم کے باوجود میں وہ سارا دہی کھا گیا اور طبیعت بہتر ہوگئی۔ بھوک بھی لگی ہوئی تھی اس لئے لگے ہاتھوں ہم نے برنچ بھی کر لیا۔

پھر ہم تھے اور گلگت تھا۔ بازار کی رونقیں عروج پر تھیں۔ اگرچہ یہاں لاہور اور راولپنڈی کی طرح بڑے بڑے جہازی سائز کے پلازوں اور ڈیپارٹمنٹل سٹورز کا تصور محال تھا لیکن کئی بڑی بڑی دکانیں ضرور تھیں جو سامان سے بھری پڑی تھیں۔ زیادہ تر سامان ہمسایہ برادر ملک چین کا بنا ہوا تھا۔ خشکی کے ذریعے تجارت کا واحد راستہ ہونے کی وجہ سے چینی قافلوں کا پہلا پڑاؤ یہیں ہوتا ہے۔ اس لئے گلگت چائینہ کے مال کی بہت بڑی منڈی بن چکا ہے۔ بازار میں گھومتے پھرتے آپ کو بھانت بھانت کے مختلف چہروں والے، گورے چٹے اور رنگ برنگے لوگ نظر آتے ہیں۔ یہاں کی آبادی کاک ٹیل ہے جس میں کوہستانی، چینی، پٹھانی، تبتی، بلتتی، لداخی اور کئی دوسری نسلوں کے نقوش ملتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ غیر ملکیوں کی کثیر تعداد دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ آپ واقعی کسی انٹرنیشنل سٹی میں آگئے ہیں۔ یہی تنوع گلگت کا خاصہ ہے۔
پہاڑوں میں گھرا ہونے کی وجہ سے اس علاقے کو گلگت کہتے ہیں۔ اس کا قدیمی نام ”گری گت“ تھا جو سنسکرت زبان کا لفظ ہے۔ سنسکرت میں ”گری“ پہاڑ کو جبکہ“ گت“ کے معنی گھرا ہوا کے ہیں۔ یہی گری گت بگڑتے بگڑتے گلگت بن گیا جو قدیم نام سے زیادہ بھلا مانس اور مانوس لگتا ہے۔ گلگت میں آپ جدھر مرضی چلے جائیں۔ اپنے آپ کو فلک بوس پہاڑوں میں گھرا ہوا پائیں گے۔ چٹانیں ہی چٹانیں اور اتنی نزدیک کہ ہر قدم پر محسوس ہوتا ہے کہ ہاتھ بڑھا کر آپ انہیں چھو سکتے ہیں۔

دنیا کے تین بڑے سلسلہ ہائے کوہ قراقرم، ہندوکش اور ہمالیہ میں گھرا ہوا گلگت کا علاقہ بشمول وادی ہنزہ جغرافیائی سیاسی اور فوجی اعتبار سے بھی دنیا کا اہم ترین سنگم ہے۔ یہاں چار ملکوں چین، روس، افغانستان اور پاکستان کی سرحدیں ملتی ہیں۔ سطح سمندر سے قریباً 1453 میٹر یا 4770 فٹ کی بلندی پر واقع بہادر، جفاکش اور غیور مسلمانوں کا یہ مسکن اپنی زبردست جغرافیائی و سیاسی اہمیت اور عظیم تہذیب و تمدن کے باوجود نہ صرف پاکستان کے دوسرے علاقوں بلکہ پوری دنیا کے لئے ایک عرصہ دراز تک اجنبی رہا۔
یہ بھی پڑھیں! میروں کے دیس میں: قسط 7 تتا پانی…… عرفان ریاض
یہ شاہراہ ریشم کا اعجاز ہے کہ اس علاقے کا رابطہ پوری دنیا سے ممکن ہو سکا۔ ہزاروں فٹ بلند چٹیل پہاڑوں میں مقید ہونے کی وجہ سے خشکی کے ذریعے یہاں پہنچنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور اگر نامساعد حالات کی وجہ سے یہ بند ہو جائے تو گلگت ایک قید خانہ بن جاتا ہے۔ ویسے یہاں ائیر پورٹ بھی ہے لیکن پروازوں کا انحصار صرف اور صرف موسم پر ہوتا ہے جو اکثر ٹھیک نہیں رہتا۔ ترکی کے موسم کی طرح گلگت کے موسم کا بھی کوئی اعتبار نہیں۔

ویسے یہاں گرمیوں میں سخت گرمی اور سردیوں میں شدید سردی پڑتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں گلگت کا موسم انتہا پسند ہے۔ گلگت کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ اس کی قربت میں دنیا کی بلند ترین چوٹیاں ہیں جن میں کے ٹو، نانگا پربت اور راکا پوشی وغیرہ جیسے کئی سحرانگیز نام بھی ہیں۔ اس کے آس پاس دنیا کے طویل ترین گلیشیئرز کا سلسلہ ہے جو پوری دنیا سے دیوانوں، متوالوں اور متلاشیوں کو اپنی طرف کھینچ لاتا ہے۔کہتے ہیں ”پہاڑ، پانی اور ہوا کی یہ خاص خوبی ہے کہ وہ انسان کو اپنے رومانس میں مبتلا کر لیتے ہیں۔“اور یہاں ان علاقوں میں وہ سب کچھ ہے۔ جس کی ایک آوارہ گرد روح متلاشی ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Back to top button