سیاحت

میروں کے دیس میں: قسط 9 یادگارِشہداء پر فاتحہ خوانی اور پاک چین نمائش…… عرفان ریاض

نرمل ورما اپنے شہرہ آفاق سفرنامے ”چیٹروں پہ چاندنی“ میں لکھتا ہے ”شہروں کے اپنے اپنے مزاج ہوتے ہیں، اپنی روایات، اپنی زبان، اپنا ادب ہوتا ہے، اپنے اخلاقی معیار ہوتے ہیں۔ صحیح شہر، بھرپور شہر ان تمام خصوصیات کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ زندگی کے یہ تمام پہلو ان میں رچے بسے ہوتے ہیں۔ وہ انہی سے پہچانے جاتے ہیں اور یہی چیزیں ان کی شناخت ہوتی ہیں۔ گلگت کی بھی اپنی ایک تاریخ ہے، ثقافت ہے اور یہی اس کی شناخت ہے۔

چنار باغ میں یادگار شہدا
دریائے گلگت کے کنارے چنار باغ میں یادگار شہدا ہے۔ جس پر گلگت اور اردگرد کے دوسرے علاقوں کے ان شہداء کے نام درج ہیں جنہوں نے تقسیم ہندوستان کے وقت ریاست جموں و کشمیر سے بغاوت کر کے اس علاقے کو پاکستان میں شامل کروایا تھا۔ شہداء کی ارواح کو ایصال ثواب کر کے ہم نے اس انتہائی خوبصورتی سے ترتیب دیئے گئے باغ میں کچھ دیر چہل قدمی کی۔ غالباً اس علاقے میں یہ واحد باقاعدہ پبلک باغ ہے اور اسی کی نسبت سے اس روڈ کو چنار باغ روڈ کہتے ہیں۔ چنار باغ میں اگرچہ باغ جناح جیسا ماحول تو نہ تھا لیکن چہل پہل ضرور تھی۔ باغ کے ساتھ ہی ٹی ڈی سی پی موٹل کی دیدہ زیب عمارت ہے۔ جسے ہم نے باہر سے ہی دیکھنے پر اکتفا کیا۔ چنار باغ کے قریب ہی ایک وسیع وعریض نشیب میں ”پاک چین“ نمائش کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اگرچہ اصل نمائش ہماری گلگت آمد سے ایک روز قبل ختم ہو گئی تھی لیکن اس کا بچا کھچا حصہ بھی خوب تھا۔
یہ بھی پڑھیں! میروں کے دیس میں: قسط 8 گری گت کا بے وفا موسم…… عرفان ریاض
فورٹریس سٹیڈیم میں لگنے والی نمائش کی طرح یہاں بھی داخلے کا باقاعدہ ٹکٹ تھا۔ کافی رش تھا ٹکٹ لینے کے لئے قطار میں لگنا پڑا۔ نمائش میں مقامی لوگوں کے علاوہ غیر ملکیوں کی بھی خاصی تعداد موجود تھی۔ یہاں اشیائے خورونوش سے الیکٹرونکس تک جس میں کمپیوٹر اور پراجیکٹر بھی شامل تھے تقریباً ہر چیز موجود تھی۔ زیادہ تر اشیاء پر ”میڈان چائنہ“ کی مہریں ثبت تھی۔

نمائش کی چکاچوند سے باہر گلگت کے پہاڑ سیاہ ہیولے بن چکے تھے اور گہری ہوتی رات میں دریائے گلگت کے پانیوں کی ٹھنڈک تھی۔ ہم نے نمائش کا ایک چکر لگا کر واپسی کا قصد کیا۔ تھکاوٹ سے چور چور بستر پر لیٹتے ہی نیند نے ہمیں اپنی آغوش میں لے لیا۔ تھکاوٹ کی وجہ مسلسل سفر تھی قریباً 24 گھنٹوں کی مسافت سے تھکان انگ انگ میں رچ بس گئی تھی. (جاری ہے)

Leave a Reply

Back to top button