تازہ ترینخبریںفن اور فنکار

میری والدہ تین بار موٹر وے سے اغوا ہو چکی ہیں

زویا ناصر نے بتایا کہ جیسے ہی ٹریفک سگنل بند ہوا تو ان کے پاس ایک شخص آیا اور ان کی گاڑی کا دروازہ کھول کر ان سے مطالبہ کیا کہ ان کے پاس جو کچھ بھی ہے، انہیں دے دیا جائے۔

ماڈل، اداکار و یوٹیوبر زویا ناصر نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں موٹروے پر سفر کرنے سے ڈر لگتا ہے، کیوں کہ ماضی میں ان کی والدہ تین بار وہاں سے اغوا ہو چکی ہیں۔

اداکارہ نے حال ہی میں نعمان اعجاز شو ’جی سرکار‘ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اداکاری میں آنے سمیت اپنی گھریلو زندگی سے متعلق بھی کھل کر بات کی اور بتایا کہ انہیں اگرچہ روڈ پر سفر کرنا اچھا لگتا ہے مگر ساتھ ہی انہیں ڈر بھی رہتا ہے۔

زویا ناصر کے ہمراہ جنید خان نے بھی شو میں شرکت کی اور بتایا کہ انہوں نے اداکاری کی وجہ سے کچھ عرصے کے لیے گلوکاری سے وقفہ لیا ہے۔

جنید خان نے حالیہ ڈراموں کے اسکرپٹ پر بھی بات کی اور انہیں یکسانیت کا شکار قرار دیا۔

پروگرام کے دوران زویا ناصر نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد فلمیں لکھتے اور بناتے رہے ہیں جب کہ ان کی والدہ بیوٹی سیلون چلاتی رہی ہیں، جس وجہ سے انہیں بچپن سے ہی اداکاری کا شوق تھا مگر گھر والے انہیں اجازت نہیں دے رہے تھے۔

اداکارہ کے مطابق والدین نے انہیں تعلیم مکمل کرنے کی وجہ سے اداکاری کی اجازت تاخیر سے دی اور ان کے والدین کی خواہش تھی کہ وہ ان بیوٹی سیلون کے کاروبار کو دیکھیں۔

زویا ناصر نے بتایا کہ جب انہیں اداکاری کی اجازت ملی تب اچانک کورونا وائرس کی وجہ سے ملک میں لاک ڈاؤن لگ گیا اور وہ لاہور میں تنہا پھنس گئیں اور اسی دوران ہی انہوں نے دوستوں کے کہنے پر یوٹیوب چینل کھولا۔

ایک سوال کےجواب میں زویا ناصر نے کہا کہ ان کی مادری زبان پنجابی ہے مگر وہ ان کی زیادہ تر زندگی کراچی اور امریکا میں گزری ہے، جس وجہ سے ان کا مادری زبان کا لہجہ کچھ تبدیل ہوگیا ہے، تاہم اس کے باوجود وہ پیش کش ہونے پر پنجابی فلم میں کام کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے مذاق میں یوٹیوب چینل کھولا مگر جلد ہی ان کی شناخت ایک یوٹیوبر کے طور پر ہونے لگی۔

اسی پروگرام کے دوران جب میزبان نعمان اعجاز نے ان سے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران بھی موٹر وے کھلا تھا اور وہ لاہور سے کراچی جا سکتی تھیں۔

تب انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں موٹر وے سے کافی ڈر لگتا ہے، کیوں کہ ماضی میں تین بار ان کی والدہ وہاں سے اغوا ہو چکی ہیں۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ ڈاکو تین بار ان کی والدہ کو اغوا کرکے لے جا چکے ہیں اور انہیں کسی سنسان علاقے میں چھوڑ کر ان سے گاڑی چھین کر فرار ہوگئے تھے مگر خوش قسمتی سے تینوں بار ان کی چھینی گئی گاڑی واپس مل گئی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حال ہی میں کراچی کے معروف علاقے تین تلوار کے قریب بھی انہیں سگنل بند ہونے کے دوران لوٹنے کی کوشش کی گئی۔

زویا ناصر نے بتایا کہ جیسے ہی ٹریفک سگنل بند ہوا تو ان کے پاس ایک شخص آیا اور ان کی گاڑی کا دروازہ کھول کر ان سے مطالبہ کیا کہ ان کے پاس جو کچھ بھی ہے، انہیں دے دیا جائے۔

اداکارہ نے بتایا کہ انہیں نہیں معلوم کے ڈاکو کے پاس ہتھیار تھا یا نہیں، تاہم انہوں نے ڈاکو کی جانب سے لوٹنے کی کوشش کے دوران شور مچانا شروع کیا تو وہ بھاگ گیا۔

پروگرام کے بعد زویا ناصر نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں والدہ آمنا الفت کی سوشل میڈیا پوسٹ بھی شیئر کی، جس میں انہوں نے خود کو اغوا کیے جانے اور گاڑیاں چھیننے کے واقعات کا ذکر کیا۔

زویا ناصر کی والدہ آمنا الفت 2008 سے 2013 تک پنجاب اسمبلی کی رکن رہی تھیں۔

Leave a Reply

Back to top button