تازہ ترینسچی کہانیاں

میری ہی شکل کا جن یکدم میرے سامنے آ گیا

بستر میں لیٹ کر پڑھنے لگا پڑھتے پڑھتے پتہ ہی نہ چلا کہ کب آنکھ لگ گئی،اتنے میں کسی نے میرے منہ پر زور دار تھپڑ مارا، جس سے میں ڈر کے مارے اُٹھ کر بیٹھ گیا، کمرے میں چاروں طرف دیکھا مگر کوئی نہ تھا، دروازہ کو بھی کُنڈی لگی ہوئی تھی، کُچھ سمجھ نہ آیا۔

عجیب و غریب قصہ ایک خوفناک رات کا، یہ ایک سچا واقع ہے۔اور کحھ عجیب و غریب بھی۔۔سخت سردیوں کے دن تھے۔۔۔۔ اور میرے انٹر پارٹ 1 کے امتحان نزدیک تھے، میں اکثر اپنی نانی اماں کے گھر رہا کرتا تھا۔ جن کے گھر سے بہت سے عجیب و غریب واقعات جڑے تھے۔

میں زیادہ تر امتحان کی تیاری بھی وہیں پر کرتا تھا، کیونکہ نانی اماں کے گھر کوئی بچے اور شور وغیرہ نہیں ہوتا تھا۔ نانی اماں کے گھر میں یہ بات بچپن سے مشہور تھی کہ یہاں جنات رہتے ہیں، بلکہ جنات کا پورہ خاندان رہتا ہے۔

یہ بات سننے میں بہت عجیب و غریب لگتی تھی، پر بچپن میں کُچھ حرکات ہوتی بھی رہتیں تھیں، اسی وجہ سے میں اکیلا کبھی نہیں جاتا تھا اور نہ رہتا تھا۔
نانی اماں کے گھر میں صرف نانی اور نانا ہی رہتے تھے۔ امتحان کی تیاری کے لیے بھی میں اپنے تایہ زاد بھائی عرفان کو ساتھ لے جاتا تھا۔ کیونکہ ہم دونوں ایک ہی کلاس میں پڑھتے تھے۔

ایک دن عرفان نے جانے سے انکار کر دیا اور میں اکیلا ہی چلا گیا، گھر دو منزلہ تھا، اوپر والی منزل میں ایک کمرہ تھا جہاں ہم ساری رات پڑھتے تھے۔ اُس دن میں اکیلا تھا، سردیوں کی رات تھی، کمرے کو اندر سے کنڈی لگائی اور بستر بیچھایا، کڑاکے دار سردی، باہر دُھند سے کُچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔

بستر میں لیٹ کر پڑھنے لگا پڑھتے پڑھتے پتہ ہی نہ چلا کہ کب آنکھ لگ گئی،اتنے میں کسی نے میرے منہ پر زور دار تھپڑ مارا، جس سے میں ڈر کے مارے اُٹھ کر بیٹھ گیا، کمرے میں چاروں طرف دیکھا مگر کوئی نہ تھا، دروازہ کو بھی کُنڈی لگی ہوئی تھی، کُچھ سمجھ نہ آیا۔

پہلے تو یہ سوچا کہ شاید یہ ایک خواب تھا مگراُس تھپڑ کی وجہ سے میرے چہرے سے ابھی گرمائش اور درد محسوس ہو رہا تھا، آخر کار دوبارہ پڑھنے میں مصروف ہو گیا، اتنے میں پھر سے ایک چماٹ پڑی جو کہ سر کے پچھلی جانب لگی۔ مگر کمرے میں کوئی بھی نہ تھا۔ اتنے میں کتاب رکھی سائیڈ پر اور پورے کمرے کی چھان بین کرنے لگا، کہ کون ہے آواز بھی دی کہ کون ہو؟

میں نے بستر کے نیچے کمرے میں پڑے ہوئے فرنیچر کے نیچے، اور پیچھے سب دیکھا مگر کُچھ نہیں تھا لیکن اتنا تو شروع سے جانتا تھا کہ کہ اس گھر میں جنات رہتے ہیں۔

سوچا آج دو ہاتھ کر ہی لوں جو بھی ہے کیونکہ اُس دور میں تھوڑا مذہبی قسم کا بنا ہوا تھا، نمازیں وغیرہ پڑھتا تھا تو اللہ کا نام لیکر ڈٹ گیا کتاب اُٹھائی اور پڑھنے لگا، مگر مکمل طور پر اپنے آپ کو تیار رکھا، اور آڑی ترچی نگاہوں سے ارد گرد پر نظر بھی رکھے ہوئے تھے۔

اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ میری بائیں جانب پڑھے ہوئے ڈریسنگ ٹیبل کے پیچھے سے ایک ہاتھ نکلتا ہے، اور میری جانب بڑھ رہا ہے میں اس ہاتھ کو دیکھ رہا ہوں دل ہی دل ڈر رہا ہوں، کہ یہ اتنا بڑا ہاتھ انسان کا تو نہیں ہو سکتا اور ساتھ یہ بھی ایک دیکھا کہ وہ ہاتھ جب میرے بالکل قریب پہنچ گیا۔ چنانچہ میں نے اسے پکڑ لیا مگر، ایک غیر معمولی لمبے ہاتھ کے سوا کُچھ دیکھائی نہیں دے رہا تھا، جوکہ اس ڈریسنگ ٹیبل کے پیچھے سے آ رہا تھا، میں نے اسے دونوں ہاتھوں سے پوری طاقت سے پکڑ لیا، اور اپنی طرف کھینچنے لگا اور یہ کہنے لگا کہ نکل باہر۔

میں وہ ہاتھ اپنی طرف کھینچے اور آخر کار میں جیت گیا اسے باہر نکالنے میں کامیاب ہو گیا، ایک زور دار جھٹکے سے جیسے ہی وہ باہر آیا تو اس کے اور میرے درمیان چند انچ کا فاصلہ رہ گیا۔ اور اس نے میرے ہی طرح کے کپڑے پہن رکھے تھے چہرہ بھی میرا ہی تھا۔ وہ مجھے گھورہ اور مجھے ایسے لگا کہ جیسے میں آئینہ دیکھ رہا ہوں۔

میں نے ڈر کے مارے اُس ہاتھ کو چھوڑا اور بے اختیار میرے منہ سے نکلا، کون ہو تُم بالکل میرے جیسے، اتنے میں وہ غایب ہو گیا اور سخت سردی میں میرا پورہ جسم پسینہ سے تر تھا، اور ڈر کی وجہ سے کانپ رہا تھا۔

Leave a Reply

Back to top button