تجزیہسیاسیات

میکسیکوکی 100 سالہ تاریخ کا تباہ کن زلزلہ،61 افراد ہلاک

میکسیکو سٹی: شمالی امریکی ملک میکسیکو کے ساحلی علاقوں میں آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں اب تک 61 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں جبکہ پورے ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق زلزلے کا مرکز میکسیکو کے جنوب مغربی ساحلوں کے نزدیک تھا جس کی وجہ سے جنوب مغربی میکسیکو میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی۔

ایک خاتون میکسیکن صدر کو زلزلے سے تباہ حال گھر کا معائنہ کروا رہی ہیں — فوٹو / اے ایف پی

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز ساحل سے 100 میل دور تھا جبکہ اس کی شدت 8.1 ریکارڈ کی گئی، جو میکسیکو میں گذشتہ ایک صدی کے دوران سب سے تباہ کن زلزلہ ہے۔

میکسیکو کے صدر انریق پینا نیٹو نے گذشتہ روز اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں بتایا تھا کہ ملک میں اب تک زلزلے سے 61 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں 45 افراد ریاست ووہاکا، 12 افراد ریاست چیاپِاس اور 4 افراد ریاست ٹباسکو میں ہلاک ہوئے۔

میکسیکو کے صدر نے اس تباہ کن زلزلے کے بعد ملک میں قومی سطح پر 3 روزہ سوگ کا اعلان کر دیا۔

زلزلے کے نتیجے میں ریاست چیاپاس میں 428 گھر زمین بوس ہوئے، اس کے علاوہ 1700 گھروں کو بھی نقصان پہنچا تاہم حکام ابھی نقصانات کا حتمی تخمیہ لگانے میں مصروف ہیں۔

میکسیکو میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیم کے ایک رکن نے غیرملکی خبر رساں ادارے سے بذریعہ ٹیلی فون بات کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس علاقے میں تیز بارش ہورہی ہے جو اُن عمارتوں کو مزید کمزور کرسکتی ہے، جن میں زلزلے کے باعث دراڑیں پڑچکی ہیں۔

8.1 شدت کے زلزلے کے بعد زخمیوں کا علاج ہسپتال سے باہر درخت کے سائے میں کیا جارہا ہے — فوٹو / اے پی

کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے میکسکو میں اسکول اور دفاتر بند کیے جاچکے ہیں۔

اُدھر میکسیکو کے پڑوسی ملک گوئٹے مالا کے صدر نے سرکاری ٹیلی ویژن پر خطاب میں اپنی قوم سے مطمئن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے بتایا کہ میکسیکو کے ساتھ سرحدی علاقوں کو نقصان پہنچا ہے جن میں اب تک 4 افراد زخمی ہوئے ہیں تاہم کسی جان نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

میکسیکو ایک ایسی پٹی پر واقع ہے، جہاں زیر زمین پلیٹس میں آنے والی تبدیلیوں کی وجہ سے یہاں زلزلے آتے رہتے ہیں۔

دوسری جانب میکسیکو میں سمندری طوفان ‘کاٹیا’ کا خطرہ بھی موجود ہے جو اس کے مشرقی ساحلوں پر موجود ہے۔

Leave a Reply

Back to top button