انٹرویوز

میں نے ہمیشہ حلقہ اربابِ ذوق کو وسعت دی…… عامر فراز

سیکریٹری حلقہ ارباب ذوق اور معروف افسانہ نگار و شاعر عامر فراز سے راجا نیئر کا مکالمہ
قارئین! آج ہم نے لاہور کے تاریخی،ادبی، حلقہ اربابِ ذوق کے سیکریٹری عامر فراز سے ایک خصوصی مکالمے کا اہتمام کیا ہے۔ عامر فراز بنیادی طور پر افسانہ نگار ہیں اور نظمیں بھی کہتے ہیں۔ ان کے افسانوں میں آج کے دور کا انسان اپنی شعوری و لاشعوری فکر سے معا صر انسانوں کے لیے بہتری کے در کھولتا ہے۔ عامر فرا زجدت اور روایت کے تال میل سے کہانی بُنتے اور اپنی منفرد سوچ کو لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ عامر فراز نے ہوش سنبھالا تو ان کے گھر میں علمی و ادبی ماحول موجود تھا۔ اُن کی والدہ عفرا بخاری نہایت اعلیٰ سطح کی منجھی ہوئی معروف افسانہ نگار ہیں، تاہم انہوں نے کسی قسم کے حوالے کو اپنے لیے بیساکھی بنانے کی بجائے اپنی پہچان بنانے کے لیے طویل عرصہ تک جدوجہد کی…… آئیے عامر فراز سے کی گئی گفتگو آپ کی خدمت میں پیش ہے۔
سوال: آپ خود تخلیق کار ہیں۔ افسانہ نگار اور نظم گو شاعر کی حیثیت سے کیا آپ سمجھتے ہیں کہ حلقے کو وقت دینے سے تخلیقی عمل بہت متاثر ہوتا ہے؟
عامر فراز: نیئر بھائی…… آپ کی یہ بات واقعی درست ہے اس سے تخلیقی کام ضرور متاثر ہوتا ہے۔ لیکن حلقہ میرا جنون بن گیا تھا اور میں حلقے کی خدمت کو بھی ایک عمدہ قسم کا تخلیقی عمل ہی سمجھتا تھا (اور اب بھی ایسا ہی ہے)۔ میں نے گزشتہ پندرہ بیس برس میں نئے افسانہ نگاروں اور شاعروں کو متعارف کرایا جن کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ حلقہ اربابِ ذوق کے علاوہ بھی ہم کبھی الفضل، کبھی فٹ پاتھوں پر شاعری افسانے اور دیگر تخلیقات پر مکالمہ کرتے تھے جن میں اکثریت کا تعلق لاہور سے باہر مضافات سے ہوتا تھا۔ میں اپنے اس عمل پر آج بھی مطمئن ہوں۔ خواہ وہ بارش کے قطرے جتنا عمل بھی ہو لیکن میں اپنے تئیں اُس عمل پر از حد مطمئن اور خوش ہوں کہ میں نے نئی نسل کے ادبی رجحانات کی سمت نمائی کی، یہ ایک عمل خیر تھا اور اس میں 21 ویں صدی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے حلقہ ارباب ذوق کا جو ایک ادبی پرچہ تھا ”نئی تحریریں“ اُسے از سر نو جاری کیا اور 2001ء میں اُس ادبی پرچے ”نئی تحریریں“ کے تین شمارے شائع کیے۔ حلقے کی ویب سائٹ کے ساتھ ساتھ میں نے FM 103 میں بھی تقریباً 2007ء سے 2011ء تک بہت توجہ لگن اور محنت کے ساتھ حلقہ اربابِ ذوق کے حوالے سے یادگار پروگرام کیے۔
ابھی بھی جیسا کہ آپ جانتے ہیں حلقہ اربابِ ذوق کے سیکرٹری کی حیثیت سے چارج سنبھالنے کے بعد ہم نے مجید امجد اور علامہ اقبال کے حوالے سے دو بھرپور اجلاس کیے جس میں علامہ اقبال والے جلسے میں علامہ اقبال کی بہو جسٹس (ر) ناصرہ اقبال بھی موجود تھیں اور ایک اجلاس جس کی صدارت تبسّم کاشمیری نے کی اس میں ایوب خاور اور غلام حسین ساجد نے اپنی تخلیقات پیش کیں۔ مہمان شاعر سلیم شہزاد تھے۔ ہم نے حلقے کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر کیک بھی کاٹا اس موقع پر حلقہ اربابِ ذوق کے 9 سابقہ سیکرٹری بھی موجود تھے جن میں ڈاکٹر سعادت سعید،رشید مصباح، اشفاق رشید، جاوید آفتاب، عامر فراز، زاہد حسن، شاہد شیدائی، حفیظ طاہر اور غلام حسین ساجد ……مبارک احمد کی نمائندگی اُن کے بیٹے ایرج مبارک نے کی۔ الحمدللہ ابھی تو ہمارے نئے دور کا آغاز ہے ہم اپنے موجود سیشن میں حلقے کو مزید بہتری کی طرف لے کر جانے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں ……
سوال: اکثر سننے میں آیا ہے کہ حلقہ اربابِ ذوق کے تنقیدی جلسوں میں نئے لکھنے والے لوگوں پر کڑی تنقید کی جاتی ہے جس کے باعث اکثر لوگ بددل ہو کر لکھنے کے شوق کو ازخود چھوڑ دیتے ہیں۔کیا یہ روش ختم نہیں کی جا سکتی؟
عامر فراز: راجا صاحب! بات یہ ہے کہ شروع شروع میں ہم بھی یہی سمجھتے تھے کہ شاید سینئر لکھنے والے نوجوانوں کو بددل کرتے ہیں لیکن کچھ عرصہ کے بعد ہمیں اندازہ ہوا کہ ہمارے سینئر کے تنقیدی رویے کا مقصد ہر گز کسی کا دل دکھانا نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنی اس بحث سے بین السطور میں تازہ وار دانِ سخن کی سمت نمائی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اصل میں ہر نیا لکھنے والا یہی سمجھتا ہے کہ ”مستند ہے میرا فرمایا ہوا“ لیکن آپ تو جانتے ہیں کہ شاعری کرنا، افسانہ لکھنا، یا مضمون باندھنا کچھ آسان کام نہیں۔ اس کے لیے بہت ساری تجرباتی کوششیں درکار ہوتی ہیں۔ سیدھے لفظوں میں جو شخص سینئر سے معاصرین تک کی تحریروں کو پڑھے گا نہیں وہ کس طرح لکھنے کے عمل سے واقف ہو گا اور اپنے منفرد انداز ِ تحریر کو دریافت کر سکے گا۔ لہٰذا یہ تنقیدی مجالس دل شکنی کی بجائے حوصلہ افزائی کے عمل سے مرصع ہوتی ہیں۔
سوال:آپ 7 برس کے بعد حلقہ اربابِ ذوق کے سیکرٹری منتخب ہوئے، کچھ اپنے اس ادبی سفر کے حوالے سے معلومات فراہم کریں گے؟
جواب: جیسا کہ آپ جانتے ہیں میرا تعلق ایک علمی ادبی گھرانے سے ہے۔ میں نے افسانہ نگار اور شاعر کی حیثیت سے ادبی سفر آغاز کیا تھا۔ میں نے حلقے کو بہت زیادہ وقت دیا…… اب کی بار میں ساتویں دفعہ حلقے کے لیے منتخب ہوا ہوں۔ 98۔99ء پہلا سیشن میں نے بحیثیت جوائنٹ سیکرٹری حسین مجروح کے ساتھ حلقے کی خدمت کی۔ 99۔ 2000ء سیشن جاوید آفتاب کے ساتھ 2002۔2000ء میں، میں بحیثیت سیکرٹری حلقہ اربابِ ذوق کامیاب ہوا۔ پھر مسلسل کامیابی کا سفر طے کیا…… ابھی تقریباً 7سال کے بعد اپنے دوستوں کے پُر زور اصرار پر انتخابات میں حصّہ لیا اور الحمدللہ بہت زیادہ ووٹ حاصل کیے۔ جس پر میں اپنے دوستوں اور ممبران حلقہ کا از حد ممنون ہوں۔
سوال: آپ نے حلقہ اربابِ ذوق کے لیے ایسے خاص اقدامات کیا اُٹھائے جو آپ سے پہلے منتظمین سے مختلف اور اہم تھے؟
عامر فراز: ہم نے حلقے کی ویب سائٹ 2008ء میں قائم کی جس کا افتتاح معروف افسانہ نگار ڈاکٹر انور سجاد نے کیا تھا۔ جو بعد میں آپریشنل نہ رہ سکی تاہم ڈاکٹر امجد طفیل نے اُس ویب کو آپریشنل بنانے کے لیے ذاتی طور پر محنت کی اور اب وہ آپریشنل ہے۔ میں نیہمیشہ حلقہ اربابِ ذوق کو صحیح معنوں میں وسعت دی…… ادب عالیہ کے ساتھ ساتھ میں نے فنون لطیفہ کے دیگر شعبوں خصوصاً موسیقی، مصوری، فوٹو گرافی، ڈرامہ اور رقص، فلم و دیگر کے ساتھ ساتھ خصوصاً پنجابی ادب کو بھی حلقے کے جلسوں میں شامل کیا اور اس طرح ہمارے ادیب، شاعر اور نئی نسل خصوصاً ادب کے طالب علم صحیح معنوں میں فنون لطیفہ کے دیگر شعبوں سے بھی مستفید ہوئے۔ اس سلسلے میں مجھ پر کئی الزامات بھی لگائے گئے تاہم میں حلقے کی بہتری کے لیے ہر ممکن کوشاں رہا۔
سوال: حلقے کی بہتری اور حلقہ اربابِ ذوق کے بہتر مستقبل کے لیے آپ کے بھرپور معاون کون کون سے ادیب شاعر رہے؟
عامر فراز: میں اپنے اردگرد حلقے کے لیے کوشاں (ممبران حلقہ اور ہمدردان حلقہ) جن دوستوں کو دیکھتا ہوں اور جنہوں نے حقیقی معنوں میں ہمیشہ حلقے کے لیے اہم کردار ادا کیا (گزشتہ سالوں میں بھی اور اب بھی) جس میں سابقہ جوائنٹ سیکرٹری زاہد نبی، خالد محمود، حماد نیازی، علی شیر اور میری موجودہ جوائنٹ سیکرٹری فریحہ نقوی نے بھی بہت تعاون کیا۔ لیکن ہمارے ساتھی مدثر محمود نارو نے تین سال بھرپور ساتھ دیا حلقے کے لیے اُس کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ وہ آج کل ہمارے درمیان نہیں، دُعا ہے کہ اللہ کرے وہ جلد ہم سے آ ملے۔
سوال: کیا حلقہ اربابِ ذوق اور پاک ٹی ہاؤس لازم و ملزوم ہیں؟
جواب: نہیں راجا صاحب…… میں اس بات کو قطعاً تسلیم نہیں کرتا۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ1939ء سے لے کر 1974ء تک حلقہ کے اجلاس وائی ایم سی اے کے بورڈ روم میں ہوا کرتے تھے۔ جلسے کے بعد رائٹرز ٹی ہاؤس میں آ کر چائے پیتے تھے۔ 1970ء میں ناراض گروپ وائی ایم سی اے سے اُٹھ کر ٹی ہاؤس میں آ گئے اور پھر حلقہ ٹی ہاؤس ہی کا ہو کر رہ گیا۔ ہم خود 2004ء میں احتجاجاً وائی ایم سی اے میں 8 ماہ تک جلسے کرتے رہے۔ دراصل شیراز راج کے سیکرٹری منتخب ہوتے ہی ٹی ہاؤس بند کر دیا گیا تھا۔ اُس وقت شیراز راج نے ٹی ہاؤس سے حلقہ اربابِ ذوق کو ”چوپال“ ناصر باغ شفٹ کر دیا…… پھر حلقہ کی حالت دِن بہ دِن دگر گوں ہونے لگی……اگلے انتخابات کے موقع پر کسی نے بھی کاغذات جمع نہ کروائے تو اسرار زیدی، یونس جاوید اور دیگر سینئرز کے کہنے پر میں نے الیکشن کے لیے کاغذات جمع کروائے اور بلامقابلہ سیکرٹری منتخب ہوا تو ہم نے تمام معاملات کو سلجھانے کے لیے عملی کوششوں کا آغاز کر دیا۔ اُس وقت پاک ٹی ہاؤس کے معاملے میں مبارک احمد، اعجاز بٹالوی، عابد حسن منٹو، حسین مجروح، جیلانی کامران، محمود گیلانی، شاہد محمود ندیم (اجوکا والے) جاوید آفتاب، ریاض احمد سبھی نے میرا بھرپور ساتھ دیا۔ ہم لوگوں نے تین ماہ تک فٹ پاتھ پر جلسے کیے۔ یہاں بتاتا چلوں کہ حلقہ 70ء کی دہائی میں بھی سیاسی اور مذہبی لابی کے ہاتھوں تقسیم ہوا تھا مگر اصلی ادیب اور شاعر ہمیشہ حلقے کے آئین کا احترام کرتے ہوئے اسے بھرپور ہمت اور لگن کے ساتھ چلاتے رہے۔
سوال: کیا موجودہ پاک ٹی ہاؤس، ناصر کاظمی، انتظار حسین، اسرار زیدی اور مظفر علی سید کے دور کے ٹی ہاؤس جیسا ہی محسوس ہوتا ہے؟
عامر فراز: ہر گز نہیں …… جب ٹی ہاؤس دوبارہ کھلا تو میں وہاں کے ماحول کو دیکھ کر ٹھٹھک گیا اُس وقت صرف ایک میز پر لکھا ہوا تھا…… ”ریزو فار رائٹرز“ کمال ہے نا…… وہاں پر لڑکے لڑکیاں اور انعامی بانڈز والے تاجر لوگ کثیر تعداد میں براجماں تھے۔ وہ میزیں اور صوفے کُرسیاں بھی اٹھا دی گئی تھیں جن پر ندرت الطاف، جاوید شاہین، انتظار حسین اور کبھی کبھی عمران خان کے والد صاحب بھی ٹی ہاؤس میں آ کر بیٹھا کرتے تھے۔ ٹی ہاؤس کو مڈل کلاس کا ہوٹل بنا دیا گیا ہے۔اگر پاک ٹی ہاؤس اور حلقہ اربابِ ذوق کو لازم و ملزوم سمجھا جاتا تو ”پاک ٹی ہاؤس“ کو تاریخی حیثیت دی جاتی۔ اگر ایسا ہے تو یہاں ہر حال میں لکھنے والوں کو ہی فائدہ دیا جانا چاہیے تھا۔ اگر تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو زاہد حسن جو پاک ٹی ہاؤس کے منتظم تھے وہ حلقے کے انتخابات والے دنوں میں ہر صورت حلقے کا ساتھ دیا کرتے تھے۔ اگر اب بھی یہی سمجھا جائے کہ پاک ٹی ہاؤس کے بغیر حلقہ اربابِ ذوق کی کوئی حیثیت نہیں ہے تو یہ غلط ہو گا…… کیوں کہ انتظامیہ یہاں شاعروں، ادیبوں کو نہ تو کوئی سہولت دیتی ہے اور نہ ہی اہمیت …… جب ایوانِ اقبال سے حلقہ اربابِ ذوق کو ٹی ہاؤس منتقل کیا گیا تو اُس وقت کے سیکرٹری غلام حسین ساجد کو سب نے منتخب کیا تھا۔ انہوں نے حلقے کے سیکرٹری کی حیثیت سے اُس دور کو بدترین دور قرار دیا۔
سوال: حلقہ اربابِ ذوق تو ابھی تک دو حصوں میں بٹا ہوا ہے…… حلقہ اربابِ ذوق (جمعہ) اور اتوار تو اِسے کیسے دیکھتے ہیں؟
عامر فراز: سبھی دوست Non Elected اور Electedکے فرق کو بخوبی جانتے ہیں تاہم ہمارا (نئی انتظامیہ کا) ہر ممکن یہ خیال ہے کہ سبھی دوستوں کو ساتھ لے کر چلا جائے۔ اس سلسلے میں تگ و دو جاری ہے۔میں اپنے دل سے تمام پرانے تنازعات کو یکسر نکال دیا ہے۔ میرے نزدیک حلقے کی بہتری اور ناموس کے علاوہ کوئی بھی چیز اہم نہیں۔ میری محترم قائم نقوی، اعجاز رضوی، فرحت عباس شاہ، غافر شہزاد، علی نواز شاہ اور اُن کے ساتھیوں سے مودبانہ گزارش ہے کہ وہ ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں۔

Leave a Reply

Back to top button