کالم

ناصر زیدی، نعیم شیخ کی بیماری اور ہمارا فرض…… طارق کامران

سینئر صحافی اور شاعر انوار قمر سے معلوم ہوا کہ ممتازشاعر، ادیب، کالم نگار اور پاکستان رائٹرز گلڈ کے قائمقام سیکرٹری جنرل ناصر زیدی گزشتہ ڈیڑھ سال سے صاحب فراش ہیں۔ ان پر فالج کا حملہ ہوا تھا جس کے باعث ان کا ایک پیر اور ہاتھ کام نہیں کر رہا۔ وہ گھر پر زیرعلاج ہیں اور اس بیماری کے سبب انہیں لکھنے کے پڑھنے کے سلسلے میں کافی دقت کا سامنا ہے۔ قلم کی مزدوری ہی ان کے روزگاز کے بڑا ذریعہ ہے، تاہم ناصرزیدی صاحب ان دنوں اپنی بیماری کے باوجود ممتاز ادبی جریدے ”ادب لطیف“ کی اشاعت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حال ہی انہوں نے مذکورہ رسالے کا ”غالب نمبر“ شائع کیا ہے جو اپنے گراں قدر مضامین کے باعث پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔
ناصرزیدی نہ صرف تین شعری مجموعوں ”ڈوبتے چاند کا منظر، ”وصال“ اور ”التفات“ کے خالق ہیں بلکہ کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ وہ متعدد وزرائے اعظم کے سپیچ رائٹر بھی رہے ہیں، وہ براڈ کاسٹر کے طور پربھی جانے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق ریڈیو اور ٹی وی کے ذمے ان کے متعدد پروگراموں کی رقم واجب الادا ہے، اخبارات میں جو کالم لکھتے رہے ہیں، ان میں سے بیشتر کا معاوضہ بھی انہیں تاحال نہیں مل سکا۔ اگر یہ تمام ادائیگیاں ہو جائیں تو اس مشکل وقت میں ان کے لئے کافی معاشی آسانی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر حکومتی سطح پر ان کے علاج معالجے کا بندوبست ہو جائے تو انہیں اور ان کی فیملی کو سکھ کا سانس آسکتا ہے۔ توقع ہے کہ تمام متعلقہ سرکاری اور غیر سرکاری ادارے اس جانب فوری توجہ دیں گے۔
شدید بیمار تو ہماے دوست نعیم شیخ بھی ہیں جو ان دنوں میو ہسپتال میں زیرعلاج ہیں۔ گزشتہ دنوں جب میں اور سینئر فوٹو جرنلسٹ نفیس قادری ان کی عیادت کے لئے گئے تو انہوں نے بتایاکہ انہیں لاحق بیماری کے باعث ان کا نیچے والا دھڑ کام نہیں کر رہا ہے، چلنے پھرنے سے تقریباً معذور ہو گئے ہیں۔ علاج جاری ہے، جو بہت مہنگا اور ان کی دسترس سے باہر ہے۔ وہ ریڈیو پاکستان لاہور میں حالات حاضرہ کے شعبے سے بطور پروڈیوسر وابستہ ہیں، تاہم کنٹریکٹ پر ہونے کی وجہ سے یہ سرکاری نشریاتی ادارہ بھی ان کی مالی اعانت سے معذوری کا اظہار کر رہا ہے۔ نعیم شیخ کا کہنا ہے کہ اگر وہ جلد صحت یاب ہو جائیں تو ان کی ریڈیو کی نوکری بھی برقرار رہ سکتی ہے۔
ادیبوں اور قلم مزدروں کی ایسی حالت کے ذمہ دار وہ خود ہیں …… کہ انہوں نے زندگی کا مقصد حرف کی حرمت کو زندہ رکھنا بنایا یا پھر اس کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے…… کہ ہم ہر گزرتے دن کے ساتھ مجموعی طور بنجر ذہنوں کا ریوڑ بنتے جا رہے ہیں۔ ایک قلم مزدور کو اپنے علیل ادیب دوستوں کا دکھ کھائے جا رہا ہے اس لئے لہجے میں قدرے سختی آگئی۔ معذرت چاہتا ہوں …… اس المیے پر سوچئے گا ضرور۔

Leave a Reply

Back to top button