ادب

ناصر کاظمی: اردو غزل کا زندہ شاعر…… راجا نیئر

اُردو ادب کے معروف نقاد شمیم حنفی نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ”لاہور انیسویں صدی کے اواخر سے اردو زبان و ادب، صحافت اور ثقافت کا گہوارہ بنا ہوا تھا۔ کیا دلی و دکن اور کیا لکھنؤ یا عظیم آباد، ان سب کی ادبی اور فکری قیادت اب لاہور کے ہاتھوں میں تھی، حالی اور محمد حسین آزاد کے دور سے لے کر اقبال اور فیض، منٹو، بیدی اور کرشن چندر تک، سب پر پنجاب کا سایہ تھا۔ ناصر کے لیے لاہور پردیس نہیں تھا۔ انہوں نے تو خیر آنکھ ہی انبالے میں کھولی تھی لیکن محمد حسن عسکری، انتظار حسین اور سلیم احمد بھی دلی، میرٹھ اور ڈبائی سے چلے تھے اور لاہور پہنچ کر دم لیا تھا۔ ناصر نے بیابانِ غم کی رہ نوردی اختیار کرنے اور ایک نیا گھر بنانے سے پہلے اپنی زندگی کے کچھ برس لاہور میں طالب علم کے طور پر گزارے تھے۔“
رہ نورد بیابانِ غم، صبر کر صبر کر
کارواں پھر ملیں گے بہم، صبر کر صبر کر
شہر اُجڑے تو کیا، ہے کشادہ زمین خدا
اک نیا گھر بنائیں گے ہم، صبر کر صبر کر
آج کل اردو کے نامور شاعر ناصر کاظمی کی 94 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ 8 دسمبر 1925ء کو اردو غزل کو جدید اسلوب، نیا انداز بیاں، باطنی شعور کی وسعت اور گہرائی عطا کرنے والا یہ اہم شاعر ناصر کاظمی انبالہ میں پیدا ہوا۔
ناصر کی روح میں ہجرت کا تجربہ، انسانی کرب، موت کی سفاکی، انسان کی بے رحمی اور یادوں کے قافلوں سے اُٹھتی صدائے جرس نقش ہو کر رہ گئی تھی۔ ناصر کاظمی شعوری سطح پر محبت اور غم کا عکاس لگتا ہے لیکن وہ تخلیقی سطح پر درد کا شاعر ہے۔ ناصر کاظمی نے جس بھرپور انداز میں جدید غزل کو اردو ادب سے متعارف کیا وہ اسی کا حصہ تھا۔ وہ زندگی کو ہر پہلو سے بیان کرنے والا منفرد شاعر ہے۔ ناصر نے کیا خوب کہا:
دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
وہ تری یاد تھی، اب یاد آیا
حالِ دل ہم بھی سُناتے لیکن
جب وہ رخصت ہوا، تب یاد آیا
اردو ادب سے وابستہ لوگوں کو یاد ہو گاکہ درج بالا اشعار جس غزل سے لیے گئے ہیں وہ غزل ناصر کاظمی نے 1950ء کے لگ بھگ کہی تھی۔ یعنی تقریباً 70، سال پہلے کہی گئی اس غزل کے پائے کا کسی سے شعر نہیں کہا جا سکا۔ بات تو سوچنے کی ہے لیکن یہاں کتنے ہیں جو سوچنا پسند کریں گے۔ کسی شاعر کو بڑا ماننا، اس کے اشعار کی تعریف کرنا شاعر، ادیب اور نقاد قسم کے افراد میں ایسا حوصلہ کم کم ہی دیکھنے میں آیا ہے۔ البتہ عوام الناس کے کیا کہنے…… انہیں تو ناصر کاظمی کے درجنوں اشعار آج بھی یاد ہوں گے۔ کچھ لوگ چند برس یاد رہنے والے ہوتے ہیں اور کچھ چند دہائیوں میں بھُلا دیئے جاتے ہیں، لیکن ناصر کاظمی ایسے شاعر ہیں جو صدیوں یاد رکھے جائیں گے۔ کیونکہ اردو ادب میں زندہ رہنے والے شاعر چند ایک ہی ہیں اور یقینا اُن چند ایک میں ناصر کاظمی بھی شامل ہیں۔
میں سو رہا تھا کسی یاد کے شبستاں میں
جگا کے چھوڑ گئے قافلے سحر کے مجھے
۰۰۰۰
کبھی فرصت ہو تو اے صبح جمال
شب گزیدوں کی دعا غور سے سُن
۰۰۰۰
ہر گھڑی آسماں کو تکتا ہوں
جیسے کچھ آسماں نے چھین لیا
۰۰۰۰
عشق جب زمزمہ پَیرا ہو گا
حسن خود محوِ تماشا ہو گا
دائم آباد رہے گی دنیا
ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا
۰۰۰۰
ایک تم ہی نہ مل سکے ورنہ
ملنے والے بچھڑ بچھڑ کے ملے
یہ ہیں وہ چند اشعار جو ناصر کاظمی کے پہلے مجموعہ کلام ”برگ نے“ میں شامل ہیں، اور جو 1960ء تک کہے گئے۔ ناصر کاظمی کا شہرہ آفاق مجموعہ کلام ”پہلی بارش“ چھوٹی بحر میں کہی گئی طویل غزل جو بقول غالب احمد، ”پہلی بارش“ میں غزل اور نظم کا امتیاز اُٹھ گیا ہے۔ ”میں“ اور ”تُو“ کا وصال ہو گیا ہے…… یہ اپنی مثال آپ ہے، یہ 70ء کی دہائی میں شائع ہوا اور اس کے کئی ایڈیشن آ چکے ہیں۔ 80ء کی دہائی میں ان کا مجموعہ ”دیوانِ ناصر کاظمی“ کے عنوان سے شائع ہوا۔اس مجموعہ کلام میں ناصر کاظمی کی نہایت عمدہ اور معروف غزلیں شامل ہیں۔ خصوصاً……
مسلسل بے کلی دل کو رہی ہے
مگر جینے کی صورت تو رہی ہے
ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصرؔ
اُداسی بال کھولے سو رہی ہے
یہ غزل اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ ناصر کاظمی نے یہ غزل 11 جنوری 1952 ء کو حلقہء اربابِ ذوق لاہور کے اجلاس میں پڑھی…… ”جس پر بات کرتے ہوئے منٹو نے کہا کہ یہ غزل مجھے پسند ہے تو کسے پسند نہ ہو گی۔“یعنی ناصر کاظمی صرف عوام ہی کے نہیں خواص کے بھی پسندیدہ شاعر تھے۔
ناصر کی پوری شاعری کا خمیر گہرے انسانی جذبے، خالص مشاہدے، زندگی کے مسائل اور ذاتی و وجودی تجربات سے کشید کیا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ناصر عام انسان کی زندگی، محسوسات اور جذبات کے گہرے مشاہدے کے بعد شعر کہتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ محبت، غم، درد، فراق ووصال، اُمید وبیم کے شاعر ہیں۔ تاہم وہ سماجی حالات، پسماندہ اخلاقی تناظر میں پنپتے ہوئے روزمرہ کو بھی اپنی غزلوں کا موضوع بناتے رہے۔ ناصر کاظمی کی شاعری کا گہرا مطالعہ کرنے پر یہ بھید کھل کر سامنے آتا ہے کہ وہ آج میں زندہ رہنے والے تخلیق کار تھے، بلاشبہ وہ اپنے وطن، اہل وطن کے ماضی کو بھی، ذاتی یادوں، تلخیوں، حادثوں اور انسان کے ہاتھوں انسان کے خون، اعتبار اور اعتماد کی ٹوٹ پھوٹ کو بھی کسی طور نظر انداز کرتے دکھائی نہیں دیتے۔ اپنے عہد میں ہونے والے سیاسی و سماجی تغیر کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بناتے ہیں تاہم وہ تمام تر شاعری نعرہ بنتی ہے نہ احتجاج، مکمل تخلیقی ذمہ داری کے ساتھ شعریت سے مرصع ہوتی دکھائی پڑتی ہے۔
محسوسات کے حوالے سے اُن کے عہد کا انسان بیشتر مواقع پر تنہائی اور اداسی سے مغلوب ہوتا ہے تو اس عہد کی سیاسی کشمکش، غیر منصفانہ روئیوں اور ناانصافی سے تشکیل پاتی بے اعتماد زندگی ان کی شاعری سے منعکس ہونے لگتی ہے۔
شہر سنسان ہے کدھر جائیں
خاک ہو کر کہیں بکھر جائیں
رات کتنی گزر گئی لیکن
اتنی ہمت نہیں کہ گھر جائیں
وہ محبت میں وصال و ہجر اور کرب و ملال کو بھی سطحی انداز کی بجائے گہرے تخلیقی شعور کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ ایسے عمدہ شعر جو زبان زد عام ہو گئے۔
دل میں اک لہر سی اُتھی ہے ابھی
کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی
وقت اچھا بھی آئے گا ناصرؔ
غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی
”غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی“ کہہ کر وہ اپنی ذات کو تسلی نہیں دیتے رہے بلکہ پوری قوم کی ہمت بندھاتے محسوس ہوتے ہیں۔ ناصر کاظمی شعر کہتے سمے اس مقام پر کھڑے ہو کر بات کرتے ہیں جہاں ایک ذمہ دار، درد دل رکھنے والا تخلیق کار عالم انسانی کے دکھوں اور غموں میں ڈھل کر صدائے امن بلند کرتا ہے۔ خود کربناک درد سے گزر کر انسانیت کے لیے سکھ کے خواب دیکھتا ہے۔ کیا اس رنج و الم اور مصائب و مشکلات سے بھرے عہد میں کبھی کبھی آپ کا دل چاہتا ہے کہ اپنی روح کو سچی خوشی اور ابدی سکون کے احساس سے آشنا کیا جائے……“ تو ایسے لمحات میں ناصر کاظمی کی شاعری ضرور پڑھیں۔
بے نیتِ خضرِ راہ رہنا
منظور ہمیں تباہ رہنا
ناصر کاظمی کے ہاں اپنے ماحول سے محبت، عہد ماضی کی یادیں، لمحہ موجود سے التفات اور طبقاتی گھٹن سے چھٹکارا حاصل کرنے کی تگ ودو ایک خاص تخلیقی اور تعمیری اندازِ فکر میں جلوہ نما ہوتی ہے۔ ان کی شاعری اپنے عہد کے انسانوں کے دکھوں سے عبارت ہے مگر صبح امید کی خواہش بھی مسلسل ہم آہنگ دکھائی دیتی ہے۔ وہ کمال سادگی اور خوبصورتی سے غزل کہتے تھے اور اسے فکری جمال اور ندرتِ خیال سے نکھارنے والے شاعر تھے۔
ڈاکٹر نیئر صمدانی اپنے ایک مضمون ”ناصر کاظمی اور دشمن ہم زاد“میں تحریر کرتے ہیں کہ ”ناصرکاظمی کی شاعری میں اس کی خلوت پسندی نے خاص سوز بھر دیا ہے۔ اس کا بھری دنیا میں جی نہیں لگتا وہ رات کے سناٹے کا ہم سفر ہے۔ اس کے دل کی بیقراری رات کی ویرانی میں مدغم ہو کر سکون آشنا ہوتی ہے۔ ناصر کو، رتجگوں کا شاعر بھی کہا جا سکتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے ناصر اپنے اعصاب پر غم کا مسلسل ارتعاش محسوس کرتا ہے یہی ارتعاش کبھی شوریدہ لہروں کی صورت ابھرتا ہے۔ ناصر نے ”آخری گفتگو“ میں خود اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا: ”اصل میں رات میری شاعری میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اس کی وجہ رات اندھیری علامت ہے۔ دنیا کی ہر چیز رات میں تخلیق ہوئی ہے۔ پھولوں میں رس پڑتا ہے رات کو، سمندروں میں تموج ہوتا ہے رات کو۔ خوشبوئیں رات کو جنم لیتی ہیں حتیٰ کہ فجر تک فرشتے رات کو اُترتے ہیں۔ سب سے بڑی وحی بھی رات کو نازل ہوئی۔“
ناصر کے خیالات سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ اس کے نزدیک رات ایک طلسم کدہ تھی جس کے اندر داخل ہو کر وہ اشیاء کی بدلتی ہوئی ہیتؤں کا مشاہدہ کرتا ہے۔ رات کو یادوں کے مرجھائے ہوئے لمحے سبز ہو جاتے ہیں اور ہجر و وصل کی ساعتوں کو حیات ابدی مل جاتی ہے۔“
رات بھر ہم نہ سو سکے ناصر
پردہ خامشی میں کیا کچھ تھا
۰۰۰۰
صبح تک ہم نہ سو سکے ناصر
رات بھر کتنی اوس برسی ہے
۰۰۰۰
اب تو آنکھ لگالے ناصر
دیکھ تو کتنی رات گئی ہے
۰۰۰۰
آج کی رات نہ سونا یارو
آج ہم ساتواں در کھولیں گے
ناصر کاظمی کی شاعری انسانی جذبوں اور احساسات کو باوقار امنگوں سے روشناس کرواتی ہے۔ بلاشبہ ناصر کاظمی کی شاعری اردو ادب کے آسمان پر مثلِ ماہتاب اپنی تمام تر تابانیوں کے ساتھ جلوہ افروز ہے۔ بس گداز فکر و شعور رکھنے والے ہی اس کی چاندنی کی سحر سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ سچی، کھری اور زندگی سے بھری ناصر کاظمی کی شاعری درد و کرب اور رنج و الم کے پیرائے میں انسانی دکھوں کا ایسا نوحہ ہے جسے درد دل رکھنے والے اپنے جیون کی حقیقی آرزوؤں کا نمائندہ سمجھتے ہیں۔
اے دوست ہم نے ترکِ تعلق کے باوجود
محسوس کی ہے تیری ضرور ت کبھی کبھی

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button