شخصیات

نورجہاں: جسے باپ نے پھینکا، تقدیر نے ملکہ بنا دیا…… محمد عارف حنیف

اعتماد الدولہ مرزا غیاث بیگ کی بیٹی اور نو رالدین محمد جہانگیر کی لاڈلی بیوی کا نام مہر النساء تھا جس نے جہانگیر کے دل و دماغ پر اس طرح قبضہ کر لیا کہ پورے ہندوستان میں اس کے نام کا سکہ چلتا تھا۔ شاہی حرم میں داخل ہونے کے بعد مہر النساء کا ستارہ اقبال روز بروز بلند ہوتا گیا۔ اپنی لیاقت، سلیقہ شعاری، ذہانت اور خوش اخلاقی کی بدولت وہ جہانگیر کے مزاج پر پوری طرح حاوی ہوتی گئی۔ بادشاہ نے اسے پہلے نور محل اور پھر نور جہاں کا خطاب دیا۔ یہ خطاب ایسا مشہور ہوا کہ بقول مولانا محمد حسین آزاد:
”حرم سرائے میں ایک سے بڑھ کر ایک رانی تھی لیکن نور جہاں نے سب کے چراغ بے نور کر دیئے۔ صرف خطبہ میں اس کا نام نہیں لیا جاتا تھا لیکن باقی تمام لوازمِ سلطنت میں اس کا دخل تھا۔ نور جہاں کے والد کا نام مرزا غیاث بیگ تھا جو کہ ایران کے شہر تہران کے ایک انتہائی معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے، ان کے والد کا نام خواجہ محمد شریف تھا جو شہر کی معزز شخصیات میں شمار کیے جاتے تھے۔
مرزا غیاث بیگ نے اعلیٰ تعلیم و تربیت حاصل کی تھی اور پہلے محمد خان تکلو حاکم خراسان کا وزیر اور بعد میں شاہ طہماسپ صفوی اوّل کی طرف سے حاکم مرد مقرر ہوئے۔ خواجہ محمد شریف کی وفات کے بعد مرزا غیاث بیگ کے حالات اس تیزی سے بدلے کہ انہیں مجبوراً ایران سے ہندوستان کی جانب ہجرت کرنا پڑی، مرزا غیاث بیگ دسویں صدی ہجری میں اپنے دو بیٹوں، ایک بیٹی اور مع حاملہ بیوی کے ساتھ ہندستان کو روانہ ہوئے، اثنائے سفر قندھار کے قریب ان کی بیوی نے ایک لڑکی کو جنم دیا جس کا نام مہر النساء رکھا گیا۔ مہر النساء کے لفظی معنی عورت کا سورج کے ہیں اور یہ معنی آنے والے دنوں میں سچ ثابت ہوئے۔
لیکن اس وقت تنگیئ حالات، مجبوری اور افلاس سے مجبور ہو کر مرزا غیاث بیگ نے اپنی بیٹی کو ایک کپڑے کے ٹکڑے میں لپیٹا اور ایک درخت کے نیچے لٹا دیا اور آگے روانہ ہو گئے۔ تقدیر کی کرنی کچھ یوں ہوئی کہ اسی دوران وہاں سے ایک قافلہ گزرا۔ لوگوں نے بچی کے رونے کی آواز سنی تو اسے سالار قافلہ ملک مسعود کے حوالے کر دیا۔ جب قافلہ آگے بڑھا تو راستے میں ملک مسعود کی مرزا غیاث بیگ اور ان کی اہلیہ سے ملاقات ہوئی۔ ملک مسعود نے ان کی کچھ مالی مدد کی اور اس مدد کے عوض بچی کی آیا، بچی کی حقیقی ماں ہی منتخب ہوئی۔
ملک مسعود کی دربار اکبری تک رسائی تھی۔ ان ہی کے توسط سے مرزا غیاث کو دربار میں نوکری بھی مل گئی۔ دربار کے مروجہ اصولوں کے باعث مرزا غیاث بیگ کی اہلیہ بھی اکبر شاہی بیگمات کو سلام کرنے دربار اور محلات جایا کرتی تھی۔ یوں مہر النساء کا بچپن اپنی ماں کے ساتھ درباری اور محلاتی امور سیکھنے میں گزرا اور اس نے جوانی کی حدود میں قدم رکھنا شروع کر دیا۔
میرزا غیاث بیگ نے نور جہاں کی تعلیم و تربیت کا خیال رکھا۔ وہ بہت ذہین و فطین لڑکی تھی۔ اس نے قرآن مجید ختم کرنے کے بعد مختلف علوم میں بھی دسترس حاصل کر لی اور فارسی زبان جو اس کی مادری زبان تھی، کے شعر و ادب میں بھی ماہرانہ دستگاہ حاصل کر لی۔ اس کے علاوہ امور خانہ داری اور شاہی محل سے تعلق داری کے باعث ادب اور سلیقہ میں وہ شہزادیوں کی ہم پلہ نظر آنے لگی۔
جب مہر النساء کی عمر تیرہ چودہ برس کی تھی تو شہنشاہ اکبر کی لاہور آمد ہوئی تو ان کے ایک درباری قاسم خان نے دلکشا باغ میں ایک مینا بازار لگوایا۔ کچھ روایات میں ان کا باغ موجودہ گورنر ہاؤس والی جگہ پر تھا اور کچھ روایات میں شالا مار باغ کی جگہ پر موجود پرانے باغ میں۔ اسی مینا بازار میں شہزادہ سلیم اور مہر النساء کی پہلی ملاقات ہوئی۔ شہزادہ سلیم نے مہر النساء کو دو کبوتر پکڑائے اور تیسرے کبوتر کے پیچھے بھاگ گیا۔
کچھ دیر بعد شہزادہ جب واپس آیا تو مہر النساء کے ہاتھ سے ایک کبوتر اڑ چکا تھا، شہزادے نے جب غصے سے کبوتر کے اڑ جانے کے متعلق دریافت کیا کہ وہ کس طرح اڑ گیا تو مہر النساء نے دوسرا کبوتر بھی ہاتھ سے چھوڑ دیا اور کہا کہ اس طرح مہر النساء کے اس دلفریب انداز کو شہزادہ سلیم آخری دم تک نہ بھول سکا۔
سلیم کی دلچسپی جب مہر النساء میں بڑھی تو شہنشاہ اکبر کے حکم پر مہر النساء کی شادی علی قلی خان کے ساتھ کر دی گئی۔ بعد ازاں بادشاہ نے علی قلی خان کی خدمات سے خوش ہو کر اسے شیر افگن کا خطاب دیا اور بنگال بھجوا دیا۔ بنگال ہی میں مہر النساء نے اپنی اکلوتی بیٹی لاڈلی بیگم کو جنم دیا اور اس کے بعد وہ تمام عمر دوسرے بچے کی ماں نہ بن سکی۔
اکبر کی وفات کے بعد جہانگیر نے جب تاج و تخت سنبھالا تو وہ لاہور ہی میں دریائے راوی کے کنارے اپنے تعمیر کردہ ایک محل میں موسم سے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ اس نے ایک پردہ دار کشتی کو آتے دیکھا جس میں ایک انتہائی خوبصورت خاتون بیٹھی تھی۔ دل پھینک جہانگیر نے جب اس خاتون کے بارے میں تفصیل جانی تو معلوم ہوا کہ وہ خاتون اس کے بچپن کی پسند مہر النساء تھی جو کہ اس وقت زوجہ شیر افگن تھی۔
جہانگیر اپنی تزک میں لکھتا ہے: ”میرے والد اکثر مجھ سے بے التفاتی ظاہر کرتے تھے اس لیے ان کی یہ بے رخی دیکھ کر میرے اکثر ہمراہی مجھ سے جدا ہو گئے۔ ان میں علی قلی خان بھی تھا حالانکہ میں نے اس پر بڑی بڑی عنایات کی تھیں۔ اس پر بھی میں نے بادشاہ بن کر اس کی تقصیرات معاف کر دیں اور اس کو بنگال میں جاگیر عطا کی لیکن وہاں اس نے شاہی آدمیوں سے فساد شروع کر دیا۔ میں نے اپنے دودھ شریک بھائی قطب الدین خان کو اس کی تنبیہ کے لیے بھیجا لیکن علی قلی خان نے اس کو قتل کر دیا۔ قطب الدین کے ایک کشمیر ی ساتھی رئیس زادہ انبہ خان نے جو والیانِ کشمیر کی اولاد میں تھا اور ایک ہزار ذات اور تین سو سوار منصب سے سرفراز تھا، علی قلی کے ساتھ دست بدست لڑائی کی۔ اسی لڑائی میں دونوں ایک دوسرے کے ہاتھوں مارے گئے۔
شیر افگن کے قتل کے بعد اعتماد الدولہ نے اپنی بیٹی مہیر النساء کو اکبر بادشاہ کی بیوہ اور جہانگیر کی سوتیلی ماں سلیمہ بیگم کی خدمت گزاری کے لیے اس کے محل میں بھیج دیا۔ وہیں 1020ھ کے جشن نو روز میں جہانگیر نے اسے دوبارہ دیکھا اور اس کے حسن خدا داد اور عادات و اطوار سے اس قدر متاثر ہوا کہ اپنی سوتیلی ماں کی معرفت اسے شادی کر لی۔
بعض مؤرخین نے لکھا کہ جہانگیر نے شیر افگن کو خود مروا دیا تھا کہ مہر النساء (نورجہاں) سے شادی کر سکے لیکن یہ سب من گھڑت قصے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں اور نہ کسی مستند تاریخ سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔
جہانگیر نور جہاں سے بے حد الفت رکھتا تھا، اس لیے سفر و حضر میں ہمیشہ اسے اپنے ساتھ رکھتا حتیٰ کہ شکار پر بھی اپنے ساتھ لے جاتا۔ 1028ھ 1619ء میں وہ فتح پور سیکری کے قریب شکار کھیل رہا تھا کہ نور جہاں نے بندوق کی پہلی ہی گولی سے شیر کو مار ڈالا۔ بادشاہ بہت خوش ہوا اور اس کی بہادری کی بہت تعریف کی۔ کہا جاتا ہے کہ ایک موقع پر نورجہاں نے چار شیر مارے تھے۔ 1029ھ 1620ء میں جہانگیر نے اپنے بیٹے شہریار کی منگنی نور جہاں کی بیٹی لاڈلی بیگم سے کر دی۔ لاڈلی بیگم شیرافگن کے صلب سے تھی اور شہر یار جہانگیر کی ایک دوسری بیوی یا کنیز کے بطن سے پیدا ہوا تھا۔
شہریار اور لاڈلی بیگم کی شادی کے بعد نورجہاں نے پس پردہ رہ کر سیاست میں بھرپور حصہ لینا شروع کر دیا۔ اس کا مقصد اپنے داماد شہر یار کے لئے جہانگیر کی جانشینی کی راہ ہموار کرنا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس نے جہانگیر کی خدمت گزاری میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ وہ اس کی صحت کا بے حد خیال رکھتی تھی۔ جہانگیر بلانوش تھا لیکن نورجہاں کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ حد اعتدال میں رہے۔ رفتہ رفتہ وہ جہانگیر کے مزاج میں اس قدر دخیل ہو گئی کہ خود بادشاہ نے کہا: ”میں نے سلطنت نور جہاں بیگم کو بخش دی، مجھے صرف ایک سیر شراب، آدھ سیر گوشت کے سوا کوئی چیز درکار نہیں“۔
نورجہاں اپنی خوبصورتی میں بھی بے مثال تھی۔ رنگ گورا، ناک تیکھی اور آنکھیں موٹی تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں بے پناہ عقلی اوصاف بھی موجود تھے۔ اپنی مادری زبان فارسی کے ساتھ ساتھ ترکی زبان کی بھی ماہر تھی۔ شعروادب میں اسے خاص دلچسپی تھی۔ وہ ایک خوش فکر اور نازک خیال شاعرہ تھی اور نہایت علم دوست، بذلہ سنج اور حاضر جواب خاتون تھی۔ تاریخ اور تذکروں میں اس کی معارف پروری، علمی استعداد، سخن فہمی اور سخن سنجی کی بہت تعریف کی گئی ہے۔ سیاست سے ہٹ کر نورجہاں کی زندگی کامیابیوں کی ایک داستان ہے۔ اس نے زیور، پوشاک، بناؤ سنگھار اور آرائش کی دیگر چیزوں میں نت نئی ایجادات کی، فارسی کی کئی نظموں کی موسیقی خود ترتیب دی۔ خواتین کے ملبوسات اور زیورات کی تیاری میں نت نئے تجربات بھی کرتی تھی۔ نور جہاں کو عطر گلاب کا موجد ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
ملکہ، بادشاہ کے ساتھ اکثر دلکشا باغ کے حوض میں عرق گلاب ڈلوا کر غسل کیا کرتی تھی۔ ایک دن دونوں حوض کے کنارے کھڑے تھے کہ دھوپ کی شدت سے عرق گلاب سے بلبلے اٹھنے لگے۔ ملکہ نے جب عرق گلاب کو سونگھا تو وہ عطر کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ اس اتفاقیہ تجربے سے اس نے عطر بنانے کا طریقہ بھی سیکھا۔ مورخین کی ایک بڑی تعداد اس پر متفق ہے کہ نورجہاں اس کی موجد ہے لیکن تزک جہانگیری میں یہ واقعہ نورجہاں کی والدہ سے منسوب ہے۔
جہانگیر نے جب سلطنت نورجہاں کو بخش دی تو اس نے عدل و انصاف کو بھی ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ اس معاملے میں وہ نورجہاں کو بھی نہ بخشتا تھا۔ اس نے نورجہاں سے صاف صاف کہہ دیا تھا: سلطنت بے شک تمہاری ہے مگر خبردار، کسی سے بے انصافی نہ ہونے پائے۔ ایک دو موقعوں پر لوگ نورجہاں کی زیادتی کے شکار ہوئے تو جہانگیر نے سختی سے نورجہاں کا محاسبہ کیا اور جب تک نورجہاں نے مظالموں کو کچھ دے دلا کر راضی نہ کر لیا جہانگیر نے اسے معاف نہ کیا۔
نور جہاں کی سیاسی زندگی کے حالات بڑی تفصیل کے متقاضی ہیں اور چند سطروں میں ان کا خلاصہ صرف یہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ شہریار کو جہانگیر کے بعد تخت پر بٹھانے کی خواہشمند تھی لیکن تقدیر کا ستارہ شہزادہ خرم شاہجہاں کے حق میں چمکا۔ نور جہاں کی کوششیں ناکامی سے دوچار ہوئیں۔ شاہجہاں نے برسراقتدار آ کر شہریار کی آنکھوں میں پہلے سلائی پھرائی پھر اسے قتل کرا دیا۔ اس کے بعد نورجہاں نے سیاست میں حصہ لینا بالکل چھوڑ دیا اور ملکی معاملات سے الگ تھلگ ہو کر گوشہ نشینی اختیار کر لی۔ جہانگیر کے انتقال کے بعد وہ اٹھارہ سال تک زندہ رہی، یہ سارا عرصہ اس نے لاہور میں گزارا، شاہجہاں نے اس کا دو لاکھ روپیہ سالانہ وظیفہ مقرر کر رکھا تھا۔
نورجہاں نے جہانگیر کی وفات سے پہلے ہی آگرہ میں اپنے والد اعتمادالدولہ کا عظیم الشان مقبرہ تعمیر کروایا۔ ضلع جالندھر میں ایک خوش وضع اور خوش نظر عمارت تعمیر کروائی جو نورمحل سرائے کے نام سے مشہور ہوئی اور اسی نام سے ایک قصبہ وہاں آباد ہو گیا۔
جہانگیر کی وفات کے بعد اس نے بے حد سادہ زندگی اختیار کر لی، اپنے وظیفے کا پیشتر حصہ وہ علم کی اشاعت، صدقہ و خیرات اور یتیم لڑکوں، لڑکیوں کی پرورش پر صرف کر دیتی تھی۔ مورخین نے لکھا ہے کہ اس نے پانچ سے زائد غریب لڑکیوں کی شادیاں اپنی گرہ سے کروائیں اور جہیز وغیرہ کے اخراجات خود ادا کئے۔
نورجہاں نے 27 مئی 1645ء کو لاہور میں وفات پائی۔ اس کا مقبرہ شاہدرہ لاہور میں مقبرہ جہانگیر کے قریب واقع ہے، اس کی بیٹی لاڈلی بیگم بھی وفات کے بعد وہیں دفن ہوئی۔

Leave a Reply

Back to top button