سیاحت

نوری: داستانِ عشق کا لازوال کردار…… محمد صفدر ٹھٹوی

لوک داستانیں ہر معاشرے اور قوم کا ثقافتی سرمایہ ہوتی ہیں۔ ان میں نہ صرف معاشی زندگی کی تاریخ سمائی ہوتی ہے بلکہ معاشرے کی اخلاقی اقدار، تعلیم وتربیت کے بنیادی رُجحانات بھی نمایاں ہوتے ہیں۔ لوک داستانیں معاشرے اور تہذیب کے تصورات کی تصویر ہوتی ہیں۔
سندھ کی دھرتی سے تعلق رکھنے والی ایک ایسی ہی داستان نوری جام تماچی کی ہے۔ نوری کا تعلق سندھ کی رومانوی لوک داستان نوری جام تماچی سے ہے۔ نوری کا تعلق کینجھر جھیل کے کنارے آباد مچھیروں کے خاندان سے تھا جبکہ جام تماچی سندھ کا حکمران تھا۔ محبت کی اس بے مثال داستان کو سندھ کے عظیم صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ نے اپنی شاعری میں سمایا ہے۔ ٹھٹھہ کے ادبی علمی حلقوں میں اکثر یہ بحث ہوتی ہے کہ نوری کا مزار کہاں ہے؟
نوری جام تماچی کی محبت کی داستان کو شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ نے اپنے رسالے میں سرکا موڈ میں گایا ہے۔ سرکا موڈ ایک مشہور راگنی ہے۔ اس کا تعلق دیپک راگ سے بتایا جاتا ہے۔ اس سُر میں شاہ بھٹائی نے نوری اور جام تماچی کے تعلق کو واضح کیا ہے۔ تمثیلی طور پر نوری کو مطلوب اور جام تماچی کو طالب تسلیم کیا گیا ہے لیکن طالب ومطلوب کے اس رشتے کو شاہ بھٹائیؒ نے کچھ اس طرح پیش کیا ہے کہ جیسے مطلوب وعاجز وناچیز انسان ہو جسے خودشناسی کا ادراک کامل ہو۔ اس داستانِ محبت کو شاہ صاحب نے دلکش، بہترین اور منفرد انداز میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔

کنارہ کش رہی ہر انجمن سے
جدا سب سے تھی اس نوری کی فطرت
اسے کیا اہل کینجھیر سے تعلق
تماچی سے ہوئی جس کو محبت
نوری کے مزار کے بارے میں متضاد روایات پائی جاتی ہیں۔ مزار کے محل وقوع کے بارے میں سندھ کے مستند محقق و تاریخ دان اپنی کتابوں میں کیا لکھتے ہیں، اس کاجائزہ لے کر ہم اصل محل وقوع کو جان سکتے ہیں۔ رجیم داد خان مولائی شیدائی اپنی اہم کتاب ”جنت السندھ“ کے صفحہ نمبر 351 پر جام تماچی بن جام خیرالدین کے بارے میں تحریر کرتے ہیں کہ جام تماچی نوری سے شادی کے بعد اپنا زیادہ تر وقت کینجھر کنارے گزارتے تھے۔ تماچی اور نوری کی قبریں شیخ حماد اولیاء کے مقبرے کے نیچے ساتھ ساتھ ہیں۔ یہ قصہ بھی سندھ کے لاثانی رومانوی قصوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مصنف اسی کتاب کے صفحہ نمبر 436 پر لکھتے ہیں کہ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے سندھ کے مضمون نگار کا بیان ہے کہ شیراز کے کاریگروں کے سندھ میں آنے سے سندھ کی تہذیب کا نیا دور شروع ہوا۔ سما میں جام تماچی اور نوری کا مقبرہ، جام نندو کا گنبد، مکلی کی پہاڑی پر سندھیوں کی فنِ عمارت سازی کے ثبوت ہیں۔ اعجازالحق قدوسی اپنی کتاب ”تاریخ سندھ اُردو“ کے صفحہ نمبر 194 پر جام تماچی ثانی کی زندگی کے بارے میں لکھتے ہیں۔ مکلی نامے کے حواشی میں سیدحسام الدین راشدی نے بھی لکھا ہے کہ یہ واقعہ (792-93ھ) کا ہے اور یہ وہی جام تماچی ہے جسے نوری سے عشق تھا جو جھیل کینجھر کے ایک ملاح کی بیٹی تھی، جسے بعد میں جام تماچی نے اپنی ملکہ بنایا اور اس کے لیے کینجھر جمیل کے کنارے ایک محل بھی تعمیر کرایا جس میں سے اس کے کچھ آثار اب بھی موجود ہیں۔

صاحبِ مضمون نے تحقیق سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ نوری اور جام تماچی کی قبریں پانی کے اندر والی نہیں بلکہ اس کینوپی میں ہیں
پھر انہوں نے ”تحفتہ الکرام“ کے حوالے سے لکھا کہ جام تماچی اور نوری کی قبریں مکلی میں شیخ حماد جمالی کے گنبد کے پاس ایک حجرے میں موجود ہیں۔
ڈاکٹر غلام محمد لاکھو نے اپنی معروف کتاب ”سمن جییسلطنت۔۔۔سندھ جیی تاریخ“ کے صفحہ نمبر40 پر جام تماچی کے احوال میں لکھتے ہیں ”اس نے تیرہ سال بادشاہت کی اور طاعون کی بیماری کے سبب فوت ہوا۔ جام تماچی نے 1392ء میں وفات پائی۔ ایک روایت کے مطابق نوری اور جام تماچی کا مقبرہ کینجھر کے کنارے جبکہ آرکیالوجی والوں کے مطابق ان کی قبریں مکلی کی پہاڑی پر ہیں۔
غلام محمد لاکھو کی کتاب سندھ کی تاریخ کا سرورق
مشہور دانشور اور محقق ڈاکٹر احمد حسین دانی نے انگریزی کتاب ”Islamic Architecture of Thatta“ لکھی جسیعطا محمد بھنبھرو نے سندھی میں ترجمہ کیا اور اس کا نام ”ٹھٹھہ کے قدیم اسلامی یادگار“ رکھا۔ وہ اس کتاب کے صفحہ نمبر 46 پر ’جام تماچی اور نوری کا مقبرہ‘ کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ میر علی شیر قانع کے کہنے کے مطابق سما خاندان کے حکمرانوں میں سلطان جام تماچی اور اس کی پیاری بیوی نوری (جوکینجھر کنارے آباد گندرے کی بیٹی تھی)، اس کی قبر ایک آٹھ کنڈی چھتری کے نیچے ہے۔ یہ قبر جام تماچی کے مقبرے کے قریب ہے۔ جام تماچی، شیخ حماد جمالی کا بڑا مرید تھا۔ اسی لیے اس کی قبر اپنے مرشد کے قریب ہی ہو گی مگر نوری کی قبر کے متعلق کچھ شکوک ہیں۔ امکان یہ ہے کہ اس کو اس کے مرشد شاہ معودڑو کے ساتھ دفن کیا گیا ہو مگر مکلی میں موجود اس چھتری نُما مقبرے کے آثار کافی حد تک محفوظ ہیں۔ یہاں پتھر کی تین قبریں ہیں۔ درمیانی قبر کے ساتھ موجود قبر انتہائی خوبصورتی سے سجائی گئی ہے۔ قبر پر نقش ونگاری کا اعلیٰ نمونہ نظر آتا ہے۔ دیکھنے سے لگتا ہے کہ یہ قبر کسی اہم شخصیت کی ہے۔ مفتی محمد طفیل احمد ٹھٹوی نے بھی ٹھٹھہ کی تاریخ پر بہت سی کتابیں تحریر کی ہیں۔ ان کی لکھی کتابوں کی تعداد 150 سے زیادہ ہے۔ وہ اپنی کتاب ”مکلی اور ٹھٹھہ کے تاریخ مقامات“ کے صفحہ نمبر 21 پر کینجھر جھیل کے بارے میں لکھتے ہیں۔
کینجھر جھیل کا ایک خوبصورت منظر
کینجھر کے متعلق نامور محقق و ادیب مرزا قلیج بیگ لکھتے ہیں کہ سونڈا کے قریب اور سنہری جھیل کے شمال کی آخری جانب ایک پہاڑی پر جام تماچی سما کے محلات ہیں۔ وہ نوری مچھیرن پر عاشق ہو گیا تھا۔ یہ گندرا قوم کی لڑکی تھی جو کینجھر جھیل کے کنارے مچھلیاں پکڑتے تھے۔ ان دونوں، نوری اور جام تماچی کی قبریں مکلی میں شیخ حماد جمالی کے قصبے کے نزدیک واقع ہیں۔ محبوب علی چنہ ”مکلی پہاڑی کی سیر“ نامی کتاب میں لکھتے ہیں کہ دونوں کے درمیان جو چھوٹی قبر ہے وہ ان کی محبت کی لافانی نشانی ہے۔ اسی مصنف نے اپنی کتاب ”جدید مکلی نامہ“ کے صفحہ38 پر لکھا ہے۔ جام نظام الدینؒ کے شمالی جانب چند قدم کے فاصلے پر یعنی شیخ حماد جمالیؒ کے قصبے کے نزدیک دو مزارات ہیں۔ ”تحفۃ الطاہرین“ اور ”تحفۃ الکرام“ کے مطابق یہ قبریں جام تماچی اور نوری کی ہیں۔
محمد اسماعیل عرسانی نے بھی ”مکلی پہاڑی کی سیر“ نامی کتاب لکھی، وہ اس کے صفحہ نمبر 21 پر لکھتے ہیں جام نندو کے مقبرے کے قریب دو قبریں بڑی اور ایک چھوٹی قبر ہے۔ ”تحفۃ الکرام“ اور ”تحفۃ الطاہرین“ کے مطابق جام تماچی ثانی، مائی گندری کی تربتیں، حضرت شیخ حماد جمالیؒ کے قریب ہیں۔ بندہ کی ناقص رائے ہے کہ جن قبروں کا یہاں ذکر کیا گیا ہے، وہ سندھ کے سچے عاشق جام تماچی ثانی اور اس کی پیاری رانی گندری کی ہیں۔
سندھی ادبی بورڈ کی جانب سے لوک ادب سلسلہ کی تیسری کتاب ”نوری جام تماچی“ مرتب ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ، کے صفحہ نمبر 253 پر اس عشقیہ داستان کے بارے میں تفصیل درج ہے جس کے مطابق نوری ذات کی گندری کینجھر کنارے مچھروں کی بیٹی تھی جس نے جام تماچی کے صبر اور سکون پر ڈاکہ ڈالا۔ جام تماچی سے اس کے عشق اور بے قراری کا قصہ سندھی زبان کی شاعری اور ایک خاص سُر میں مشہور ہے۔ جام تماچی نے نوری سے شادی کر کے اسے اپنی رانی بنایا۔ کینجھر کنارے اس کے لیے عالی شان عمارت بنوائی۔ دونوں کی قبریں مکلی میں شیخ حماد جمالی کے قدموں کے قریب ایک ہی حجرے میں یادگار طور باقی ہیں۔ موجودہ دور کی سندھی تاریخ کی مستند کتاب ”انسائیکلوپیڈیا سندیانا“ جسے سندھ کے نامور ادیبوں اور تاریخ دانوں نے مرتب کیا ہے۔ اس سلسلے کی جلد (ج) کے صفحہ نمبر 26 پر جام تماچی اور نوری کے مزار کے بارے میں لکھا ہوا ہے۔ جام تماچی سمہ خاندان میں سے سندھ کے تخت کا حکمران گزرا ہے جس نے کینجھر کے مچھروں میں پیدا ہوئی ملوک اور خوبصورت نوری سے عشق اور شادی کی۔ ان کے عشقیہ داستان کو لوک ادب میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔ شاہ عبدالطیف بھٹائیؒ نے ان کے قصے کو اُجاگر کیا۔ جس طرح سندھ کی قدیم تاریخ مستند دستاویز کے ثبوت نہ ملنے کی وجہ سے آج بھی اوجھل ہے۔ اسی طرح جام تماچی اور نوری کی آخری آرام گاہوں سے متعلق مختلف روایات ملتی ہیں۔
عام لوگ نوری کا مزار کینجھر جھیل کے درمیان میں ہونڈڈے فقیر کی قبر کے ساتھ بتاتے ہیں مگر تاریخ ”تحفۃ الکرام“ کے مصنف میرعلی شیر قانع ٹھٹھوی بتاتے ہیں کہ جام تماچی اور نوری کے مزارات مکلی میں جام نظام الدین کے مقبرے کے ساتھ ایک چبوترے میں واقع ہیں جہاں شیخ حماد جمالی کا مزار ہے۔ عام روایت ہے کہ جام تماچی شیخ حماد جمالی کا بڑا مرید تھا، اس لیے اس عاشق جوڑے کے مزار مرشد کے قدموں میں ہونے والی بات وزن رکھتی ہے۔

عبدالغنی عبداللہ نے اپنی کتاب ”تاریخ سندھ“ تیسرا حصہ میں سومرو اور سمہ دور کا احوال تحریر کیا ہے۔ یہ کتاب انسٹیٹیوٹ آف سندالاجی، سندھ یونیورسٹی جام شورو نے 1984ء میں شائع کی تھی۔ اس کتاب میں جام تماچی اور نوری گندری کے عنوان سے صفحہ نمبر 117 پر ہے کہ جام تماچی نے نوری کے لیے کینجھر کنارے بادشاہی محلات بنوائے جس میں نوری رہتی تھی۔ مچھروں کے دن بھی پھر گئے۔ ان پر جھیل ٹیکس معاف ہوا اور دیگر سہولیات فراہم کی گئیں۔ نوری سے جام تماچی کو بڑا لگأو ہوا۔ وہ اکثر وقت جھیل کنارے نوری کے ساتھ گزارتا تھا۔ جام تماچی اور نوری کی قبریں مکلی پہاڑی پر شیخ حماد جمالی اولیاء کے مقبرے کے نیچے ساتھ ساتھ ہیں۔
مقبرہ شیخ حماد جمالی کے آثار
سندھ کی تاریخ سے متعلق مستند کتاب ”مکلی نامہ“ از میرعلی شیر قانع (اضافہ سید حسام الدین راشدی) سندھی ترجمے میں صفحہ نمبر 109 پر لکھا ہے کہ جام تماچی جسے نوری سے عشق ہوا تھا، تحفۃ الکرام کے مصنف کا قول ہے کہ تماچی اور نوری کی قبریں مکلی پر شیخ حماد کے گنبد کے نزدیک مشہور اور معروف ہیں۔ اسی کتاب میں معروف محقق سیّدحسام الدین راشدی اضافہ اور درستگی میں صفحہ نمبر 698 پر تحریر کرتے ہیں کہ جام تماچی اور نوری کی قبریں شیخ حماد جمالیؒ کے قریب ایک حجرے میں ہیں۔
شمس العلماء مرزا قلیچ بیگ اپنی کتاب ”قدیم سندھ، اس کے مشہور شہر اور لوگ“ (اشاعت جولائی 2014ء) کے صفحہ نمبر 95 پر کینجھر کے متعلق لکھا ہے۔ سونڈا کے قریب اور سونہری جھیل کے نزدیک ایک پہاڑی پر جام تماچی سمہ کے محلات واقع ہیں۔ یہ نوری مچھیرن پر عاشق ہو تھا جو گندرا ذات کے ایک فرد کی بیٹی تھی، جو کینجھر جھیل میں مچھلی کا شکار کرتے تھے۔ ان دونوں کی قبریں مکلی میں شیخ حماد جمالی کے مقبرے کے نزدیک ہیں۔
ان مستند تاریخ دانوں کے تحقیق کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت سندھ سے گزارش ہے کہ کینجھر جھیل پر نوری کے اصل مزار کے بارے میں تحریری طور پر بورڈ کی صورت میں لکھا جائے تاکہ آنے والے سیاح لوگ مستند تاریخ سے واقف ہو سکیں۔ مکلی پر موجود ان کی قبروں پر بھی تختی لکھی جائے۔ تاریخ کے فرضی حوالوں کو ختم کرنا ہی تاریخ سے آگاہی ہے۔ کینجھر جھیل میں موجود فرضی نوری کے مزار کے بارے میں درست تاریخ رقم کرنا ہمارا فرض ہے۔
نوٹ: ریڈنگ وے کا صاحبِ مضمون کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اس موضوع پر اظہارِ خیال کرنا چاہتے ہیں تو اپنی تحریر اس ای میل پر ارسال کریں: stepforward996@gmail.com

Leave a Reply

Back to top button