مختصر تحریریں

نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم…… طاہرآفاقی

ایک وقت تھا جب ہر انسان دوسرے کا خیال رکھنا اپنی ذمہ داری سمجھتا تھا۔ ماں محبت میں اپنے بچوں کا خیال رکھتی تھی۔ بچے دنیا میں ہی جنت کے نظاروں کے لیے ماں باپ کا اداب کرتے، ان کا خیال رکھتے تھے۔ بھائی بہنوں پر جان چھڑکتے تھے اور بہنوں کے دلوں میں بھائیوں کی محبت کا سمندر ٹھاٹے مارتا تھا۔ ہر مشکل وقت میں دوست رشتے دار ساتھ دینے کے لیے تیار رہتے تھے۔ مشکل سے مشکل وقت میں بھی انسان مطمئن رہتا تھا کہ خدا کے بعد اس کے رشتے دار اور دوست احباب اس کی مدد کے لیے موجود ہیں۔
پھر وقت نے کروٹ لی، زندگی کے انداز بدلے، حقوق کی جنگ اور دوڑ یوں شروع ہوئی کہ میرے حقوق، ہمارے حقوق کا نعرہ بلند ہوا، حقوق حقوق کی گردان ہر زبان پر آگئی لیکن فرض کا سبق بھلا دیا گیا۔ کس رشتے کے حوالے سے ہماری کیا ذمہ داری ہے، یہ سب بھول کر ہم اپنے حقوق کی ڈور میں لگ گئے۔
اب حال یہ ہے کہ بعض شادی شدہ عورتیں ماں بننے سے اس لئے ڈرتی ہیں کہ بچوں کی ذمہ داری نبھانا پڑے گی اور ان کی آزادی چھن جائے گی۔ ماں باپ کے پاس بچوں کے لیے وقت نہیں، جس عمر میں بچے کو ماں کی گود میں ہونا چاہئے، اسے سکول بھیج دیا جاتا ہے۔ عجیب سوچ ہے…… ماں، ماں ہو کر اپنے جگر کے ٹکرے کا تین سال کی عمر تک خیال نہیں رکھ پاتی تو بھلا سکول میں دس بیس ہزار روپے لینے والی عورت اس کا کیا خیال رکھے گی۔ اسے تو ایک نہیں بلکہ تیس چالیس بچوں کی ذمہ داری نبھانی ہوتی ہے۔
اپنا فرض نبھانے کے لئے ماں باپ بچوں کو مناسب وقت نہیں دے پاتے، جب بچے بڑے ہو جاتے ہیں تب ماں باپ کو شکایت ہوتی ہے کہ ان کا بچہ بیوی کا ہو کر رہ گیا ہے۔ تب ایسے والدین کو حقوق یاد آتے ہیں، فرض سے غافل رہنے والے حقوق کا رونا رونا شروع کر دیتے ہیں۔ پھر نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم یعنی نہ فرائض پورے کئے، نہ ہی حقوق ملے۔
وقت نے ایک اور کروٹ لی تو دَور آگیا سوشل میڈیا کا۔ ہمارے دست و بازو، ہمارے رشتے دار ہم سے دور چلے گئے اور بہت دُور کے لوگ ہمارے قریب آگئے۔ یوں ہم ہجوم میں ہوتے ہوئے بھی اکیلے رہ گئے۔ مشکل وقت میں ہمارے اردگرد نہ دوست ہوتے ہیں نہ رشتے دار۔ ہم سیراب کی تلاش سراب کی راہ پر چلتے چلتے دور نکل آئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہزاروں دوست رکھنے والا بیچارہ ہسپتال میں اکیلا ہوتا ہے۔ پاس رہ جاتے ہیں وہی گھر والے اور رشتے دار جن کے لئے اس کے پاس وقت نہیں ہوتا تھا۔
اب کیا کہا جائے ان مغربی اور ہمارے اپنے ”دانشگردوں“ کے بارے میں جو انسان کو آزادی کی نیل پری کا خواب دکھا کر اس سے اس کا اپنا آپ چھین لیتے ہیں۔ یہ فکری دہشت گرد نسلوں کو برباد کر دیتے ہیں۔ اپنی منفی دانش کے بل بوتے پر لوگوں کو فکری غلام بنا کر اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔ آج ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے ان ”دانشگردوں“ کی پیروی میں حقوق کا راگ الاپنا ہے یا اپنے فرائض ادا کر کے حقوق کی راہ ہموار کرنی ہے۔ جان لیں کہ فرائض ادا کرنے والا شاید ہی حق سے محروم رہتا ہے لیکن فرائض کو بھلا کر حقوق کا مطالبہ کرنے والا ہمیشہ ہی تشنہ رہتا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button