ادبافسانہ

نیا قانون ….. قاضی عبد الستار

کہانی لکھنؤ کے اس وقت کی داستان بیان کرتی ہے جب انگریز حکومت نے ایک نیا قانون بناکر اسے اپنی حکومت میں شامل کر لیا تھا۔ شہر کے نواب اور وزیر اعظم کوششوں کے بعد بھی انگریزی حکومت کو یہ قدم اٹھانے سے روک نہیں سکے تھے۔

لکھنو کے سر پر اختر نگر کا تاج رکھا تھا جس کے ہیرے کمہلانے اور موتی سنولانے لگے تھے۔ آہستہ خرام گومتی امام باڑہ آصفی کے چرن چھوکر آگے بڑھی تو ریزیڈنسی کے سامنے جیسے ٹھٹک کر کھڑی ہوگئی۔ موجوں نے بے قراری سےسر اٹھااٹھاکر دیکھا لیکن پہچاننے سے عاجز رہیں کہ ریزیڈنسی نواب ریزیڈنٹ بہادر کی کوٹھی کے بجائے انگریزوں کی چھاونی معلوم ہو رہی تھی۔ تمام برجوں اور فرازوں پر توپیں چڑھیں ہوئی تھیں۔ راؤٹیوں اور گمزیوں کا پورا جنگل لہلہا رہا تھا۔ حصا رپر انگریز سواروں اور پیدلوں کا ہجوم تھا۔ دونوں پھاٹکوں کے دونوں دروں پربندوقیں تنی ہوئی تھیں۔

پھر راہ چلتوں نے دیکھا کہ قیصر باغ کی طرف سے آنے والی سڑک حیدری پلٹن کے سواروں سے جگمگانے لگی جن کی وردیاں دولہا کے لباسوں کی طرح بھڑکدار اور ہتھیار دولہن کے زیوروں کی طرح چمکدار تھے۔ ریزیڈنسی کے جنوبی پھاٹک پر چھلبل کرتے سواروں کے پردے سے وزیر اعظم نواب علی نقی خاں اور وکیل السلطنت موتمن الدولہ کے بوچے برآمدہوئے جن کے درمیان دس پندرہ سواروں کے اردل کا حجاب تھا اور سامنے انگریز سپاہیوں کے ہتھیاروں کی دیواریں کھڑی تھیں۔ دیر کے انتظار کے بعد افسرالتشریفات نے آکر ان سواریوں سے اتارا اور اپنے اردل کے حلقے میں پیادہ پیش دامان تک لے گیا جس کی سیڑھیوں پر سر سے پاؤں تک اپچی بنےہوئے گارڈز کا دستہ کھڑا تھاجیسے زینت کے لیے مجسمے نصب کردیے گیے ہوں۔

Related Articles

کشتی دار تکیوں کی آبنوسی کرسی پر وہ دونوں پڑے سوکھتے رہے۔ اپنے ذاتی محافظ رسالے کے متعلق سوچتے رہے جو پھاٹک پر روک لیا گیا تھا اور مغربی دروازے سے داخل ہونے والی توپوں کی گڑگڑاہٹ سنتے رہے۔ پھر فوجی افسروں کے جھرمٹ میں وہ ریزیڈنٹ کی اسٹڈی میں باریاب ہوئے۔ ریزیڈنٹ بہادر اسی طرح کرسی پر پڑے رہے۔ ابرو کے اشارے پر وزیر اعظم اور وکیل السلطنت اس طرح بیٹھ گیے جیسے وہ ریزیڈنٹ کی اسٹڈی میں نہیں واجد علی شاہ کے دربار میں کرسی نشینی سے سرفراز کیے گیے ہوں۔ تامل کے بعد صاحب بہادر نے اپنے پہلو میں کھڑے ہوئے میر منشی صلابت علی کو سرکی جنبش سے اشارہ کیا اورمیر منشی ایک خریطہ کھول کر پڑھنے لگا اور جب اس کے منھ سے یہ فقرہ ادا ہوا، ’’کمپنی بہادر نے پچاس لاکھ سالانہ کے وظیفے کے عوض میں سلطنت کا الحاق کرلیا۔‘‘ تو وکیل السلطنت کہ سپاہی بچہ تھا ہرچند کہ سپہ گری کے سبق بھول چکا تھا تاہم نیزے کی طرح تن کر کھڑا ہوگیا۔

’’یہ ناممکن ہے۔‘‘

ریزیڈنٹ نے کھڑے ہوکر اسے گھورا۔ ایک ایک لفظ کو توڑ کراداکیا، ’’یہ گورنر جنرل بہادر کاحکم ہے اور ٹم کو اس دستاویز پر دتخط کرنا ہیں۔‘‘ ریزیڈنٹ کا لہجہ جلادکی تلوارکی طرح بے امان تھا اور اس کے لفظوں میں بارود کے بگولوں کا اشتعال تھا۔

’’یہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔‘‘ دونوں کے منھ سے ایک ساتھ نکلا۔جواب میں صاحب بہادر نے کمر سے کرچ کھول کر میز پر ڈال دی۔وکیل السلطنت نےاس بھانڈ وزیر اعظم کو دیکھا جس کی انگلیاں طبلے کی سنگت کی عادت کی جگالی کر رہی تھیں اور اس نےخود اپنی آواز سنی۔اس کا فیصلہ تو آج سے بہت پہلے بکسر کے میدان میں ہوچکا ہے تاہم اتنے بڑے حکم کی تعمیل کے لیے کم از کم دس دن کی مہلت۔

’’نائیں ممکن نائیں۔‘‘

’’تین ہی دن بخش دیے جائیں۔‘‘

’’نائیں۔۔۔ چوبیس گھنٹے کے بعد عمل درآمدشروع ہوجائے گا۔‘‘

اور وکیل السلطنت کا تھر تھراتا ہوا ہاتھ قلمدان کی طرف بڑھنے لگا۔

وزیر اعظم نے قیصر باغ کے شمالی پھاٹک کی طرف مڑتےہوئے سواری کے آئینے میں دیکھ لیا کہ موتمن الدولہ کا بوچہ روشن الدولہ کی کوٹھی کی طرف مڑ رہا ہے۔ نوبت خانے پر دوسری نوبت بج رہی تھی اور لال بارہ دری کے باب عالی پر چتر طوغ کھڑا جہاں پناہ کی موجودگی کا اعلان کر رہا تھا۔ وزیر اعظم نے دوسری ڈیوڑھی پر خان ساماں داروغہ معتبر علی خاں کی کمر سے تلوار کھول کر ہاتھ میں لے لی او رتیسری ڈیوڑھی کے گھونگھٹ پر گلے میں پہن لی اور حاضر دربار ہوکر ہاتھ باندھ لیے۔ بادشاہ پنچ گوشیہ تاج پہنےجواہرات میں ڈھکا ہوا سونےکے تخت پر بیٹھا تھا اور مشہور زمانہ سازندوں کے فن کار ہاتھوں سے غنا کے بادل برس رہے تھے اور سدھے ہوئے، سجےہوئے، کڑھے ہوئے گوشت پوست کی زندہ بجلیاں تڑپ رہی تھیں۔ ایک بار نگاہ اٹھی تو وزیراعظم تسلیمات پیش کر رہا تھا۔ چلتےہوئے ہاتھ کے برابر تلوار جھول رہی تھی۔ بادشاہ کا ہاتھ اٹھا اور سازوں اور مضرابوں اور گھنگھرووں تک کی سانس رک گئی اور دوسری جنبش پر سارا ہال خالی ہوگیا جیسے صبح کا آسمان۔

’’کیا ہے؟‘‘

غلام نواب ریزیڈنٹ بہادر کی کوٹھی سے آرہا ہے۔

شاہ منزل کی پہلی سیڑھی پر قیصری پلٹن کے رسالدار کے ہاتھ سے بندوق لے لی۔ معائنہ کرتےرہے پھر نواب علی نقی خاں وزیر اعظم کو اس طرح دیکھا کہ نگاہیں اس کے پار ہوگئیں۔یہ بندوق جلد بھرنے اور فیر کرنے میں انگریز کی بندوق سے بدرجہا بہتر ہے لیکن اس کے چلانے والے کندھے غدار اور انگلیاں نمک حرام ہیں اورایک ایک سیڑھی اس طرح چڑھی جیسے ایک ایک دنیا پیچھے چھوڑ آئے ہوں۔

چاندی کے ستونوں پر لاجوردی زربفت کا شامیانہ کھڑا تھا۔ اس کے وسط میں مرصع نمگیرے کے سائے میں چھتر شاہی کے نیچے تخت سلطانی کے بائیں جانب موتمن الدولہ سلطنت کے دوسرے دولاؤں کے ساتھ مغرور بے نیازی سے کھڑا تھا۔ تحت کے قریب پہنچنے پر ریزیڈنٹ نے اس طرح سلامی دی جیسے بازاری آدمی اترے کوتوال کو سلام کرتے ہیں۔ اس کے سرخ کوٹ کے شانوں پر زری کے جھبے جھول رہے تھے۔ پتلے جھبے کے سفید اونچےگول ہیٹ میں جڑاؤ کلفی لگی تھی اور کمر میں لگی لانبی سیدھی تلوار سرخ چرمی ساق پوش کے تھپکیاں دے رہی تھی، بادشاہ نےتخت پر بیٹھے ہی ریزیڈنٹ کو مخاطب کیا۔

’’اب ریزیڈنٹ بہادر کو ایسی لڑائی دکھلائیں گے جس کی نظیر دنیا کا کوئی دربار پیش نہیں کرسکتا۔‘‘

اشارہ ملتے ہی سیمیں کٹہرے کے بازوؤں پر کھڑے ہوئے چوبداروں نے جھنڈے ہلادیے اور نیچے دریا کے اس پار منوں باغوں اور جنگلوں کے پورے علاقے میں ہلچل سی مچ گئی۔ تھوڑی ہی دیر میں شمالی اور جنوبی گوشوں سے ڈھولوں کے پٹنے، ہانکنے والوں کے للکار نے، سیکڑوں برچھیوں کے کڑکنے کا طوفان مچ گیا۔ لوہے کی جالیوں اور تول کے پردوں کے عظیم الجثہ مستطیل کٹھرے کے شمالی دروازے پر ایک دیو پیکر چھکڑا ڈھکیلتا ہوا لایا گیا۔ دروازہ کھلتے ہی ایک غیر معمولی طور پر سفید اونچا اور بھاری گھوڑا نتہائی غضبناکی سے ہنہناتا ہواداخل ہوا۔ کبھی ہاتھوں سے زمین کھرچتا کبھی پیروں پر کھڑا ہوکر پورے جسم سے تڑپتا۔ اس کی کنوتیوں سے چنگاریاں اور نتھنوں سے شعلے نکل رہے تھے اور اس کی جولانیوں کی مار سے پورا کٹہرہ ہل رہا تھا مگر جنوبی دروازہ بھی کھل گیا اور دوسرے چھکڑے سے ایک شیر اندر داخل ہوا۔ گرجتا دہاڑتا کٹہرے کے وسط تک جاکر تھما۔ ساتھ ہی یکساں آوازوں کا یکمشت گولہ اس پر گرپڑا اور وہ بھڑک کر اٹھااور ستے ہوئے بدن سے اڑکر گھوڑے پر گرا۔

گھوڑے نے پوری مشاقی سے اپنے اگلے بدن کو سمیٹ کر اتنا کاری وارکیا کہ شیر کا چہرہ بگڑ گیا۔ پورا کٹہرہ اس عجیب وغریب اور بھیاونی لڑائی سےاتھل پتھل تھا اور گردوباد کے بادلوں میں ڈوبتے اور ابھرتے جانور ایک دوسرے کی قضا کی طرح ایک دوسرے پر مسلط تھے کہ ہزاروں آنکھوں کے سامنے شیر نے پیٹھ دکھائی اور اپنے چھکڑے سے پناہ مانگی اور فاتح گھوڑا کاوے کاٹ رہا تھا۔ چیخ چیخ کر اپنی فتح کااعلان کر رہاتھا اور دونوں ہاتھوں سے مٹی اڑا رہا تھاکہ بہت سے برچھیت اپنے برچھوں میں دھڑدھڑاتی مشعلیں جلائے اور کمنداندازوں کا دستہ اپنی کمندیں کھولے لپکا اور گھوڑے کو گرفتارکرنے کے جتن کرنے لگا۔

بادشاہ ابھی ریزیڈنٹ کا چہرہ پڑھ رہا تھا کہ عقب کا پردہ اٹھا۔ زہرہ بدن اور ثریا لباس کنیزیں نقل کی کشتیاں اور شراب کی صراحیاں اٹھائے نرت کرتی حاضر ہوئیں۔ ریزیڈنٹ کا سر ابھی داد میں ہل رہاتھا۔ اس کی (ایک؟)آنکھ سے حیرت اور دوسری سے بے اعتباری ٹپک رہی تھی کہ بادشاہ نے مخاطب کیا۔

’’جانوروں میں شیر بادشاہ ہوتا ہےاور گھوڑا تاجر۔۔۔ مشاہدہ ہے کہ شیروں کے مصاحب لکڑبگھے اور بھیڑیے تک گھوڑوں کاشکار کرلیتے ہیں لیکن جب دنیا پرانی ہوجاتی ہے تو نئی دنیا کے لیے نئے قانون وضع ہوتے ہیں اور اب زمانہ آگیا ہے کہ تاجر گھوڑا بادشاہ شیروں پر غالب ہوتا جائے گا کہ آج یہی قانون قدرت ہے۔‘‘

اور ریزیڈنٹ نے اپنا گلاس اٹھالیا۔

Leave a Reply

Back to top button