خبریںپاکستان سے

نیب کا جو کام تھا اس سے نہیں لیا گیا: پرویز رشید

ویب ڈیسک: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما پرویز رشید نے کہا ہے کہ ’ایف آئی اے کا جو کام ہے اس سے وہ نہیں لیا جا رہا جس طرح نیب کا جو کام تھا اس سے نہیں لیا گیا‘۔
لاہور میں جج ویڈیو سکینڈل کیس میں ایف آئی اے کے دفتر میں پیش ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز رشید کا کہنا تھا کہ ایک جمہوری سیاسی کارکن کو تحقیقاتی ایجنسی بلاتی ہے اور اپنے دفتر کے ایک میل کے دائرے میں اس طرح کے انتظامات کرتی ہے کہ جیسے دہشت گرد خود کش جیکٹ پہن کر ان کے دفتر آرہا ہے، یہ افسوس ناک عمل ہے۔
پرویز رشید نے وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص کہتا تھا کہ این آر او کبھی نہیں دوں گا اس نے اپنے دوستوں کو این آر او دے دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’سیاسی انتقام میں حکومت سیاسی مخالفین کو جیلوں میں بند کرنے میں ناکام ہوئی اور عدالتوں سے انصاف ملنا شروع ہوگیا جو ظاہر کرتا ہے کہ نیب ناکام ہوگئی، اینٹی نارکوٹکس فورس بھی حنیف عباسی کے معاملے اور رانا ثنا اللہ کے کیس میں ناکام ہو گئی‘۔
رہنما مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ ’کیا حکومتوں کا کام یہ ہے کہ اپنے محکموں کو ناکامی کے سرٹیفکیٹ دلواتی پھرے، اداروں کو ایسے کام میں ملوث کیا جاتا ہے جو ان کے کرنے کے نہیں ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ’سیاست میں آپ ہمارا مقابلہ نہیں کرسکتے جس کی وجہ سے آپ نے ان محکموں کو نشانے پر رکھا اور ان کی عزت و وقار کو ختم کردیا‘۔
پرویز رشید کا کہنا تھا کہ ’ان محکموں کے ہمیں بلانے سے پاکستان کی قومی سلامتی کے امور حل نہیں ہوں گے، پاکستان کے ساتھ جو کچھ کیا جارہا ہے پاکستان اس کا مستحق نہیں تھا، پاکستان دفاع طور پر خود کفیل ملک کے طور پر جانا جاتا تھا اور آپ نے اس کا مذاق بنادیا ہے‘۔
نواز شریف کی صحت کے حوالے سے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف جیسے ہی صحت یاب ہو گئے وہ ایک منٹ برداشت نہیں کریں گے اور وہ پاکستان آ جائیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ایف آئی اے کو کہہ دیا ہے کہ آپ جب بلائیں گے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاؤں گا‘۔

Leave a Reply

Back to top button