HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » خبریں » پاکستان سے » نیب کا حمزہ شہباز کے گھر پر دوبارہ چھاپہ، گرفتار نہ ہو سکا

نیب کا حمزہ شہباز کے گھر پر دوبارہ چھاپہ، گرفتار نہ ہو سکا

پڑھنے کا وقت: 7 منٹ

قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم آمدن سے زائد اثاثے اور مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے کے لیے ایک مرتبہ پھر لاہور میں قائم شہباز شریف کی رہائش گاہ پر پہنچی اور تقریباً 4 گھنٹے تک محاصرہ کیا لیکن وہ انہیں گرفتار کیے بغیر واپس روانہ ہوگئی۔

ایچ ٹی وی کے مطابق نیب کی ٹیم لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی رہائش گاہ 96 ایچ پر پہنچی، جہاں انہیں گھر کے اندر داخل ہونے پر ایک مرتبہ پھر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

احتساب کے ادارے کی دوسری کارروائی کے دوران پولیس کی بھاری نفری بھی نیب کی ٹیم کے ہمراہ موجود رہی اور انہوں نے شہباز شریف کی رہائش گاہ کو گھیرے میں لے لیا جبکہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز دونوں گھر میں موجود تھے۔

یہاں یہ بات واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر جبکہ ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیں۔

نیب ذرائع کا کہنا تھا کہ حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے ان کے گھر آئے ہیں اور گزشتہ روز کے ردعمل کو دیکھتے ہوئے پولیس کی نفری بھی ساتھ موجود تھی۔

پولیس اور لیگی کارکنان میں تصادم
نیب ٹیم کے چھاپے کی اطلاع ملتے ہی مسلم لیگ (ن) کے کارکنان بھی رہائش گاہ پہنچنا شروع ہوگئے اور نیب اور حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کی جبکہ کچھ کارکنان نے رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش بھی کی، جس پر پولیس اور کارکنان میں ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

صورتحال کو دیکھتے ہوئے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پولیس کی مزید نفری کے ساتھ ساتھ رینجرز کو بھی طلب کیا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز کی کارروائی کے دوران لیگی کارکنوں کی بڑی تعداد شہباز شریف کی رہائش گاہ پہنچ گئی تھی اور نیب کی ٹیم کی گاڑیوں کو روکنے کی بھی کوشش کی گئی تھی جبکہ کچھ کارکنان نے احتجاجاً دھرنا بھی دیا تھا۔

حمزہ شہباز کے وارنٹ گرفتاری موجود ہیں، نیب ٹیم
تاہم شہباز شریف کی رہائش گاہ آنے والی نیب کی ٹیم کے سربراہ ایڈیشنل ڈائریکٹر چوہدری اصغر نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز کی گرفتاری کے وارنٹ موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میری حمزہ شہباز سے درخواست ہے کہ وہ دیواروں کے پیچھے نہ چھپیں اور گھر سے باہر آئیں تاکہ قانونی طریقے سے ان کی گرفتاری عمل میں لائی جاسکے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’ہم منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ کیس میں حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے آئے ہیں اور قانون کے مطابق کارروائی کریں گے’۔

ڈپٹی ڈائریکٹر نیب چوہدری اصغر نے کہا کہ ہم نے حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے ہیں، ساری رات یہاں ہیں، گرفتار کرکے ہی جائیں گے۔

نیب ٹیم کے ڈپٹی ڈائریکٹر چوہدری اصغر کا کہنا تھا کہ حمزہ شہباز اپنی گرفتاری سے بچنے کے لیے بیسمنٹ میں چھپ کر بیٹھ گئے ہیں، لیگی رہنما کے گھر کے دروازے نہیں کھولے گئے تو سیڑھی لگاکر اندر جائیں گے۔

قانون کی نظر میں تمام ملزمان برابر ہیں، نیب
نیب لاہور کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے نیب کا اقدام قانونی ہے اس کو سیاست کی نظر نہ کیا جائے، قانون کی نظر میں تمام ملزمان برابر ہیں۔

نیب لاہور کے مطابق حمزہ شہباز کی گرفتاری کے وارنٹ قانون کے مطابق اور ہر لحاظ سے قابل عمل ہیں، مسلم لیگ (ن) کے کارکنان اور گارڈز اپنے سیاسی رہنماؤں کے آشیرباد پر ماحول کو خراب کر رہے ہیں اور کارسرکار میں مداخلت کے مرتکب ہورہے ہیں۔

بیان میں حمزہ شہباز کو باقاعدہ آگاہ کیا گیا کہ قانون کو ہاتھ میں نہ لیں اور قومی ادارے سے تعاون کرتے ہوئے گرفتاری دے دیں۔

احتساب عدالت کا حکم
حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے نیب کی جانب سے پراسیکیورٹر وارث علی جنجوعہ نے احتساب عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ انہیں پولیس کے ہمراہ حمزہ شہباز کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔

تاہم احتساب عدالت کی جانب سے کہا کہ کرمنل پروسیجر کوڈ کے چیپٹر 5 کی روشنی میں ملزم کی گرفتاری کے طریقہ کار کو تفصیل سے واضح کیا گیا ہے اور اس کا اطلاق تمام طرح کی کارروائی پر ہوتا ہے۔

عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ اس معاملے میں پہلے سے جاری وارنٹ گرفتاری کے حوالے سے اس وقت تک کوئی خصوصی ہدایات کی ضرورت نہیں، جب تک کوئی متعلقہ انتظامیہ اسے معطل نہ کرے۔

واضح رہے کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی جانب سے حمزہ شہباز کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے۔

نیب کے وارنٹ گرفتاری غیر قانونی ہے، لیگی وکیل
مسلم لیگ (ن) کے قانونی مشیر کے وکیل عطا تارڑ نے گرفتاری کے لیے آنے والی نیب کی ٹیم کے پاس موجود وارنٹ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر اعلیٰ حکام کے دستخط موجود نہیں۔

نیب کی ٹیم کے چھاپے پر عطا تارڑ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم نے نیب کی ٹیم کو لاہور ہائی کورٹ کا حکم نامہ دکھایا ہے اور انہیں کہا ہے کہ ان کے وارنٹ غیر قانونی ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم نامے کی موجودگی میں کسی بھی طرح کے وارنٹ جاری نہیں کیے جاسکتے اور نہ ہی گرفتاری عمل میں آسکتی ہے۔

نیب اپنی کارروائی خود کررہا ہے، ترجمان پنجاب حکومت
پنجاب حکومت کے ترجمان شہباز گل کا کہنا تھا کہ نیب حمزہ شہباز کی گرفتاری سے متعلق کارروائی خود کر رہا ہے، اس میں حکومتی عمل دخل نہیں ہے۔

ایچ ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شہباز گل نے مزید کہا کہ حکومتی بینچز پر بیٹھے اراکین اسمبلی کو بھی نیب کی جانب سے حراست میں لیا گیا تاہم ہم نے تو یہ نہیں کہا کہ ہمیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے شہباز گل کا کہنا تھا کہ اگر مسلم لیگ (ن) حکومت میں ہوتی تو ان کے اراکین کہتے کہ انہیں ’مخصوص قوتیں‘ ہمارے خلاف کام کر رہی ہیں۔

جواب دیجئے