HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » خبریں » پاکستان سے » نیشنل ایکشن پروگرام، 4 ہزار 566 ویب سائٹس بلاک

نیشنل ایکشن پروگرام، 4 ہزار 566 ویب سائٹس بلاک

پڑھنے کا وقت: 2 منٹ

محکمہ داخلہ پنجاب نے نیشنل ایکشن پلان پر عمل در آمد کرتے ہوئے ریاست مخالف یا فرقہ واریت پھیلانے کے الزام میں 2018 سے اب تک 4 ہزار 566 ویب سائٹس بلاک کیں۔

نیشنل ایکشن پلان کے تحت آن لائن خدشات سے متعلق محکمہ داخلہ پنجاب نے رپورٹ تیار کرلی۔

معلومات رکھنے والے ذرائع کا کہنا تھا کہ رپورٹ کے مطابق جنوبی پنجاب سمیت صوبہ بھر میں ریاست مخالف اور فرقہ واریت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی میں مزید تیزی لاتے ہوئے سیکیورٹی اداروں نے ایک ہفتے میں کالعدم تنظیموں کے 150 افراد کو حراست میں لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’2018 سے اب تک 4 ہزار 566 ویب سائٹس بلاک کی گئیں اور ان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے۔

ذرائع کے مطابق 2019 کے آغاز سے اب تک 3 ہزار سے زائد فیس بک اکاؤنٹس بلاک کئے گئے جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے مزید 277 اکاؤنٹس کی نشاندہی کی گئی ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر متعدد اکاؤنٹس ریاست مخالف ایجنڈے کو پھیلا رہے تھے جبکہ 100 سے زائد ویب سائٹس بیرون ممالک سے چلائی جارہی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بیرون ممالک سے چلنے والے اکاؤنٹس ملک دشمن ایجنڈے پر عمل پیرا تھے جس کے حوالے سے رپورٹس پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو بھجوائی گئیں بعد ازاں پی ٹی اے نے ان ویب سائٹس اور اکاؤنٹس کو بند کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ حکومت کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان پر عملدر آمد یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اسی تناظر میں رواں ماہ کے آغاز میں وفاقی حکومت نے جماعت الدعوۃ اور اس کی ذیلی تنظیم فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کیا تھا۔

بعد ازاں سیکیورٹی اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے حماد اظہر اور مفتی عبدالرؤف سمیت کالعدم تنظیموں کے 44 افراد کو ’اصلاحی حراست‘ میں لے لیا تھا۔

گزشتہ روز بھی وفاقی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں سندھ، پنجاب، بلوچستان اور اسلام آباد میں متعلقہ حکومتوں نے جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن (ایف آئی ایف) کے کئی مدارس اور اداروں کو اپنے انتظام میں لے لیا یا پھر سیل کردیا تھا۔

جواب دیجئے