تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

نیم کا درخت ٹھنڈی چھائوں کے ساتھ فائدے ہزار

قدرت کے بے بہا قیمتی تحائف میں سے نیم کا درخت ایک ایسا انمول تحفہ ہے جس کا ایک ایک ذرہ انوکھے فوائد کا حامل ہے۔ خواہ پھل ہو، پتے ہوں، ڈالیاں ہوں، ان میں بے شمار فوائد ہیں مگر نقصانات سے بالکل پاک ہے۔ نیم ایک اینٹی بیکٹیریل ہے۔اینٹی پیراسائٹک ہے، اینٹی فنگل ہے، اینٹی انفلامیٹری ہے،نیم میں موجود ”وٹامن سی“ جلدی امراض میں نہایت کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ مانع وائرس ہے۔ جو سوزش، پیچش،دست اور بخار وغیرہ کے علاج میں فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ نیم جراثیم کش ہونے کے سبب اس کے تیل میں 135 کیمیائی اجزاء پائے جاتے ہیں،جن میں شامل Quercetin اور Beta-Sitosterol جراثیم اور پھپوند کے علاج کے لئے مفید ہیں۔نیم کی چھال سے کشید کردہ محلول میں پرولین بھی پایا جاتا ہے، جو جوڑوں کے درد کے لئے اکسیر ہے۔

نیم ایک گھنا سایہ دار درخت ہے، لیکن یہ بکائن کی طرح محض سایہ کی خاطر ہر دلعزیز نہیں بلکہ اس کے بے انتہا فوائد بھی ہیں۔ نیم کا پھل بھی بکائن کی طرح ہوتا ہے جس کو نمکولی کہتے ہیں۔ پکنے پر اس میں قدرے مٹھاس سی آجاتی ہے۔ یہ درخت، بڑ کی مانند چاروں طرف پھیلتا ہے۔ اس کا تنا بھی موٹا ہوتا ہے۔ جب یہ درخت پرانا ہو جاتا ہے تو اس میں سے ایک قسم کی رطوبت خارج ہونا شروع ہو جاتی ہے جو نہایت شیریں ہوتی ہے۔ لوگ اس کو جمع کرکے بطور خوراک استعمال کرتے ہیں۔ اس کے پتے بھی طبی خواص رکھتے ہیں۔ اس کے جوشاندے میں نہانے سے خارش دور ہو جاتی ہے۔ زخموں پر بھی باندھے جاتے ہیں۔ یہ بہترین جراثیم کش درخت ہے۔جوشاندہ معدے کو بھی درست کرتا اور خون کو صاف کرتا ہے۔ لیکن کڑوا ضرور ہوتا ہے۔ اس کی لکڑی بکائن سے مضبوط ہوتی ہے۔ اگر اس کی لکڑی سے صندق یا الماریاں بنا کر کپڑے رکھے جائیں تو ان کو کیڑا نہیں لگتا۔

نیم درخت کا تعارف
نیم کے درخت کی تاریخ قریب 4000 سال پرانی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ خوبصورت اور گہرے سبز پتوں والا چھتری نما درخت نیم انگریزوں کا پسندیدہ درخت ہے۔ اس درخت کو انگریزی میں Margosa Tree کہتے ہیں اور اس کانباتاتی نام Melis Azedarach ہے۔ عربی و فارسی میں نیب اور پنجابی میں اسے نم کہتے ہیں۔جبکہ ویدک سنسکرت میں اس کا نام نمبا (NIMBA) ہے۔
یہ ایک سدا بہار درخت ہے اور ہر طرح کے موسم کو برداشت کرنے کی قوت رکھتا ہے۔ نیم کا درخت بذات خود تو کڑوا ہوتا ہے لیکن اس کا بیج نمولیاں میٹھی ہوتی ہیں۔ شاخیں تریاق کا کام دیتی ہیں۔ جون کی گرمی میں اس کا بیج بخوبی پک جاتا ہے۔ یہ بیج جنہیں نمولیاں بھی کہا جاتا ہے پکنے کے بعد بیج بن جاتا ھے جو اسی وقت لگا دینا چاہیے۔ بیج لگانے کے بعد ایک ہفتے میں پودا نکل آتا ہے۔
نیم کے پیڑ 30 سے 40فٹ اونچے اور خوب سایہ دار ہوتے ہیں۔ یہ سائے کے لحاظ سے اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔ اس کے پتے نوک دار لمبوترے دو ڈھائی انچ لمبے کنارے کٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ پتے نہایت خوبصورت ہوتے ہیں۔ ٹہنی چھ سے دس انچ لمبی جن پر پتوں کے چھ سے گیارہ جوڑے لگتے ہیں۔ موسم بہار کے شروع میں پتے جھڑتے اور نئے سرخ رنگ کے ملائم چمک دار اور خوبصورت پتے نکلتے ہیں۔ جو نکلتی دھوپ میں بڑا ہی خوبصورت نظارہ دیتے ہیں۔

اس کا تنا اور شاخیں سیاہی مائل سبز ہوتی ہے۔ موسم بہار کے آخر میں بہت چھوٹے سفید رنگ کے پھول لگتے ہیں اور پھولوں کے بعد پھل گچھوں میں جوپہلے سبز رنگ کے نیم گول لمبے پتلے پکنے پر ان کا رنگ پیلا ہوجاتاہے۔اور پھل جون میں پک جاتے ہیں جس کو بچے اور بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ ان پھلوں کے اندر تخم ہوتے ہیں۔جن کو نمبولی کہتے ہیں۔اس سے تیل نکالا جاتا ہے جوکہ ادویات اور صابن بنانے کے کام آتا ہے۔ نیم نر درخت کے تنے میں سے ایک قسم کا گاڑھا مادہ خارج ہوتاہے اس کو ہندی میں نیم کا مدھ کہتے ہیں۔ اس درخت کی عمر دو سو برس سے پانچ سو سال تک ہوتی ہے۔ اس درخت کے تمام اجزاء پتے پھول تخم چھال پھل اور گوند بطوردواء استعمال ہوتے ہیں۔

نیم میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
قدرت کے بے بہا قیمتی تحائف میں سے نیم کا درخت ایک ایسا انمول تحفہ ہے جس کا ایک ایک ذرہ انوکھے فوائد کا حامل ہے۔ خواہ پھل ہو، پتے ہوں، ڈالیاں ہوں، ان میں بے شمار فوائد ہیں مگر نقصانات سے بالکل پاک ہے۔ نیم ایک اینٹی بیکٹیریل ہے۔اینٹی پیراسائٹک ہے، اینٹی فنگل ہے، اینٹی انفلامیٹری ہے،نیم میں موجود ”وٹامن سی“ جلدی امراض میں نہایت کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ مانع وائرس ہے۔ جو سوزش، پیچش،دست اور بخار وغیرہ کے علاج میں فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ نیم جراثیم کش ہونے کے سبب اس کے تیل میں 135 کیمیائی اجزاء پائے جاتے ہیں،جن میں شامل Quercetin اور Beta-Sitosterol جراثیم اور پھپوند کے علاج کے لئے مفید ہیں۔نیم کی چھال سے کشید کردہ محلول میں پرولین بھی پایا جاتا ہے، جو جوڑوں کے درد کے لئے اکسیر ہے۔

نیم کی 1250 ایم جی خوراک کھانے سے گلوکوز 15 فیصد،یوریا 13 فیصد،کریٹنین 23 فیصد اور چکنائی 15 فیصد کم ہو جاتی ہے۔ واضح رہے کہ چکنائی، ٹرائی گلیسرائڈ اور کولیسٹرول کی مقدار میں کمی بلڈ پریشر،امراض قلب،فالج اور ذیابیطس،جب کہ یوریا اور کریٹنین کی کمی امراض گردہ میں فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

1 2 3 4 5اگلا صفحہ

Leave a Reply

Back to top button