منتخب کالم

وارث میرانڈر پاس: کم ظرفی کی انتہا!…… علی احمد ڈھلوں

کبھی کبھی آپ کا خبروں سے ”بے خبر“ وقت گزارنے کا دل کرتا ہے اور اس ”عظیم“ مقصد کے پیچھے صرف ایک وجہ ہوتی ہے کہ ہنگامہ خیز دنیا سے کہیں دور جایا جائے جہاں کوئی پریشان کردینے یا چونکا دینے والی خبروں سے واسطہ نہ پڑے…… اس دوران جو خبریں مس ہو جاتی ہیں بطور صحافت کے ایک طالب علم کے وہ نقصان کے زمرے میں گنی جاتی ہیں ایسی ہی ایک خبر نہ جانے کیسے نظروں سے اوجھل رہی کہ چند ماہ قبل وارث میر انڈر پاس کا نام تبدیل کر کے”کشمیر انڈر پاس“ رکھ دیا گیا ہے۔ شاید یہ خبر ابھی تک چھپی رہتی کہ اگر نیو کیمپس انڈر پاس سے گزرتے ہوئے اچانک کشمیر انڈرپاس کے نئے بورڈ پر نہ پڑتی…… یہ نام کیوں رکھا گیا، کیوں بدلا گیا؟ موجودہ حکومت کو اسی نام کے ساتھ کیوں تکلیف ہوئی؟ یہ سب سوال ایک طرف مگر یہ ”ٹرینڈ“سرا سر غلط روایت کو دعوت دیتا ہے۔ او رویسے بھی اگر اس انڈر پاس کے یا ملک کے مزید چوراہوں کا نام کشمیر رکھنے سے اگر کشمیر آزاد ہو جاتا ہے تو پھر کوئی مسئلہ نہیں لیکن اگر اسے پرانے ناموں کی جگہ محض اس لیے تبدیل کرنا مقصد ہے کہ پسند ناپسند کی بوُ آئے تو یہ غلط ہوگا!
یہ بالکل اسی طرح غلط ہے جس طرح ہم نے منٹگمری کو ساہیوال،لائل پور کو فیصل آباد۔ للیانی کو مصطفی آباد، کرشن نگر کو اسلام پورہ، رام گلی کو رحمن گلی اوربھائی پھیرو کو رانا پھول نگر بنا دیا۔سب سے پہلے تو ہم یہ بات کرتے ہیں کہ آخر نام رکھے کیوں جاتے ہیں؟ اور اس کے پیچھے فلسفہ کیا ہوتا ہے؟ حقیقت میں کسی جگہ کا نام کسی شخصیت سے منسوب اس لیے کیا جاتا ہے کہ آنے والی نسلوں کو اس شخصیت سے روشناس کروایا جائے، مغرب ہی کی مثال لے لیں وہ تعلقات یا مفادات پر سڑکوں کے نام نہیں رکھتے۔وہاں اتنی آسانی سے سڑکیں کسی کے نام سے منسوب نہیں ہوتیں۔وہاں کسی کے نام سڑک یا گلی کے منسوب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی کی عظمت کو اپنی نسلوں کے حوالے کرنا چاہتے ہیں۔اور اس کام کیلئے پوری چھان بین کی جاتی ہے۔اور اگر کہیں کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو لوگ کورٹ چلے جاتے ہیں کہ آنے والی نسلوں کو گمراہ کیا جارہا ہے۔فرانس(پیرس) کی ایک گلی سلیم شہزاد کے نام سے منسوب کی گئی ہے یہ اُس پاکستانی صحافی کے نام ہے جس نے خونِ دل میں انگلیاں ڈبو کر سچ لکھا اور زندہ جاوید ہوگیا۔شہادت کے مرتبے پر فائز ہوا۔
یورپ والوں میں ایک اچھی یا بری بات یہ ہے کہ وہ سڑکوں یااداروں کے نام زندہ شخصیات کے ناموں پرکم رکھتے ہیں چاہے وہ شخصیت وزیر اعظم یا صدر مملکت ہی کیوں نہ ہو۔ آپ کو برطانیہ میں کہیں ٹونی بلیئر روڈ یا ڈیوڈکیمرون اسپتال دکھائی نہیں دے گا۔وہاں انہی شخصیات سے کچھ منسوب کیا جاتا ہے جنہیں تاریخ بھلا نہیں سکتی۔مثال کے طور پربرطانیہ کی ایک سڑک نواب علی کے نام سے بھی منسوب کی گئی ہے۔نواب علی ایک فوجی تھے جنہوں نے دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ کیلئے شاندار خدمات سرانجام دی تھیں۔جرمنی میں دریائے نیکر کے قریب ایک سڑک علامہ اقبال کے نام سے بھی منسوب ہے۔اسپین کے شہر بارسلونا میں ایک سڑک محترمہ بے نظیر بھٹو کے نام سے منسوب کی گئی ہے۔نیویارک کی ایک سڑک ایک پاکستانی نژاد امریکن نوجوان سلمان ہمدانی کے نام سے بھی منسوب ہے۔ ناروے کی ایک سڑک روبینہ رانا کے نام سے منسوب کی گئی ہے روبینہ رانا معروف شاعر جمشید مسرور کی بیوی تھیں۔یہ صرف یورپ کی باتیں ہیں وگرنہ دنیا میں میں نے بڑی بڑی عجیب سڑکوں کے نام بھی دیکھے ہیں۔
یہ تو تھیں ترقی یافتہ ملکوں کی باتیں لیکن یہاں نہ تو نام رکھنے کے لیے کوئی بورڈ قائم ہے اور نہ ہی کوئی کمیٹی فیصلہ کرتی ہے کہ کس چیز کو کس نام سے منسوب کیا جائے۔ یعنی یہاں جس کا جو دل کرتا ہے وہ اُس کا نام رکھ لیتا ہے، ہمارے پاس اس چیز کا کوئی لائحہ عمل نہیں ہے کہ نام کس بنیاد پر رکھے جائیں، کوئی ایسا بورڈ قائم نہیں ہے جو فیصلہ کرے یا کسی نام کی منظوری دے…… بلکہ یہ حاکم وقت کی مرضی ہے کہ وہ جس کا چاہے نام رکھے یا جس کا چاہے نام ختم کردے۔ بلکہ مغربی ملکوں کے برعکس ہماری کم ظرفی کا یہ عالم ہے کہ ہم نے کبھی غیر مسلم کے نام پر کوئی گلی، سڑک، چوک،یونیورسٹی، دیوار یا عمارت منسوب نہیں کی، سمجھ سے باہر ہے کہ کیا پاکستان بننے کے بعد کوئی ایک غیر مسلم ایسا نہیں جس نے پاکستان کے گراں قدر خدمات سر انجام دیں یا یہاں بھی ہماری کم ظرفی آڑے آجاتی ہے کہ ہم کسی غیر مسلم کو اوپر نمایاں نہیں دیکھنا چاہتے۔
سیسل چوہدری نے ساری زندگی پاکستان کے دفاع میں گزار دی وہ 1965 اور1971ء کی پاک بھارت جنگ میں سکوارڈن لیڈر رہے اور ستارہ جرأت پانے والوں میں بھی نمایاں رہے۔ دینا ایم مستری کو دیکھ لیں جن کی ساری زندگی مسلمان بچوں کو پڑھاتے گزر گئی۔ بپسی سدھوا نے پاکستان کے اُن پہلوؤں کو اُجاگر کیا جو براہ راست معاشرے کے ساتھ جڑے تھے۔ ان کے علاوہ دانش کنیریا، جمشید کیکوباڈ، جولیس سالک، رانا بھگوان داس، سلمان البرٹ، شبنم، رتھ فاؤ، سنیتا مارشل، مسٹر جیفری، ڈاکٹر الیگزینڈر جان ملک، لوئس جان پنٹو، اقبال مسیح، دیپک پروانی، بینجمن سسٹرز، سردار امیش سنگھ اروڑا سمیت بہت سی شخصیات ہیں جنہوں نے پاکستان کے لیے خدمات سرانجام دیں لیکن ہم انہیں صرف اس لیے یا د نہیں کرتے کہ وہ مسلمان نہیں ہیں۔
بہرحال واپس وارث میر انڈر پاس کی طرف آتے ہیں۔ دراصل 2013 میں لاہور کے ایک درجن سے زائد انڈرپاس اور سڑکیں ملک کے چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات کے ناموں سے منسوب کی گئیں جن میں فیض احمد فیض، حبیب جالب، اشفاق احمد، جسٹس اے آر کارنیلیئس، استاددامن، چوہدری رحمت علی، خوشحال خان خٹک، لیاقت علی خان، چاکر اعظم رند، جسٹس اے آر کیانی اور پطرس بخاری وغیرہ شامل تھے۔ان میں سے بعض نام تو ایسے تھے جن کے بارے میں عام پنجابیوں کو ککھ پتہ نہیں تھا کہ وہ کون ہیں اور اپنے شعبے میں ان کی کیاخدمات اور کارہائے نمایاں ہیں کیونکہ ان کے بارے میں ہمارے تعلیمی نصاب میں کچھ نہیں پڑھایا جاتا۔مثال کے طورپرایک انڈر پاس چاکراعظم کے نام نامی سے منسوب کیا گیا ہے۔ کتنے لوگوں کو یہ پتہ ہے کہ چاکر اعظم کون تھا اور اس کا ہمارے خطے بالخصوص بلوچستان کی تاریخ سے کیا تعلق ہے؟چند سیاسی کارکن تو شائد اس کی شخصیت اور جدوجہد بارے کچھ جانتے ہوں عام پنجابیوں کو اس بارے میں کچھ علم نہیں ہے اور یہ بھی کم ہی لوگوں کو علم ہوگا کہ اس بلوچ سردار کی قبر پنجاب میں ہے۔لیکن ان میں سے راتوں رات وارث میر انڈر پاس کا نام بدل دیا گیاجبکہ وجہ جاننے کی کوشش کی گئی لیکن کوئی وجہ نہیں ملی بقول شاعر:
روئیں تو کس کس کو
ماتم کریں تو کس کس کا!
درحقیقت پروفیسر وارث میر ایک نامور دانشور، لکھاری، مصنف اور استاد تھے اور معروف صحافی حامد میر اور عامر میر کے والد تھے جن کی گرانقدر صحافتی خدمات کے اعتراف میں ریاست پاکستان نے انہیں ملک کے اعلیٰ ترین سول اعزاز ہلال پاکستان“ سے نوازا تھا۔ پروفیسر وارث میر میرے اُستاد بھی تھے جنہوں نے جنرل ضیاء الحق کے آمرانہ دور میں اس وقت اپنی جراتمندانہ تحریروں کے ذریعے آواز حق بلند کی جب ضیا جنتا نے پاکستان میں میڈیا کی آزادی کو پابند سلاسل کیا ہوا تھا۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات کے سربراہ ہونے کے علاوہ وارث میر نے یہاں تقریبا 25 سال صحافت پڑھائی تھی۔ وارث میر ملک کے مشہور و معروف اردو اخبارات میں بے باک مضامین اور فکر انگیز کالم لکھا کرتے تھے۔ آپ نے سچائی کے لئے لکھو اور لوگوں کی آواز بن کر بولو کے مصداق ایک مشن کے ساتھ پاکستان کے عوام کی امنگوں کی ترجمانی کی۔ پروفیسر وارث میر کی تحریر کردہ کتابوں میں حریت فکر کے مجاہد، کیا عورت آدھی ہے، فوج کی سیاست، فلسفہ خوشامد اور پاکستان کی درباری سیاست و صحافت شامل ہیں۔
بہرکیف نام بدلنے کی سیاست کو ختم ہونا چاہیے، اور اگر کسی چیز کا نام بدلنا انتہائی ضروری بھی ہے تو اس کے لیے مناسب فورم تشکیل دیا جائے جیسے کشمیر سے ہر پاکستانی کو محبت ہے۔ اگر ہماری پارلیمنٹ ایک قانون منظور کرے کہ پاکستان کا نام بدل کر کشمیر رکھ دیا گیا ہے تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہو گا، کیوں کہ یہ پارلیمنٹ کا مشترکہ فیصلہ ہوگا، لہٰذا وارث میر کا نام کسی تختی سے کھرچ بھی دیا جائے تووارث میر کی سوچ کو ذہنوں سے نہیں کھرچا جا سکتا، ہلاکو نے بغداد کے کتب خانے دجلہ میں پھینک دیئے،مگر مسلم فلسفے اور تحقیقات کا عمل ختم نہ ہو سکا ہم بھی وارث میر کی کتابوں اور مقالات کو دریا برد بھی کر دیں تو بھی وارث میر کی سوچ ابدلا آباد تک زندہ رہے گی۔ لہٰذااعلیٰ ظرفی یہی ہے کہ مذکورہ انڈرپاس کا نام دوبارہ تبدیل کیا جائے اور اس تاثر کو زائل کیا جائے کہ تحریک انصاف کسی سے ذاتی بغض یا دشمنی رکھتی ہے، بلکہ سابقہ حکمرانوں کی اس روایت کوبھی توڑے کہ جو سیاستدان سرکاری منصوبوں پر اپنے نام کی تختیاں سجایا کرتے ہیں اس کی بھی مذمت ہونی چاہیے، بلکہ میں تو کہوں گا کہ مراد سعید ٹنل کے نام سے جس ٹنل کا افتتاح کیا ہے اُسے کسی اور مقامی و تاریخی شخصیت سے منسوب کیا جائے تو اسے حکومت کا بڑا پن ہی تصور کیا جائے گا اور کم ظرفی کا زور بھی ٹوٹ جائے گا!

Leave a Reply

Back to top button