کتابیں

وبا کے دنوں میں محبت…… نعیم سلہری

گابریل گارشیا مارکیز عہدِ حاضر کے ان ناول نگاروں میں سے ایک ہیں جن کے کام کو لسانی اور جغرافیائی سرحدوں سے ماورا شہرت نصیب ہوتی ہے۔ مارکیز کا تعلق کولمبیا سے ہے۔ انہیں ان کے ناول”تنہائی کے سو سال“ سے شہرت ملی اور 1982ء میں ادب کے سب سے بڑے انعام ”نوبیل پرائز“ سے نوازا گیا۔ گارشیا کی کہانیوں کی اہم خوبی حقیقت اور رومانس کا ایسا امتزاج ہے جو قاری کو مکمل طور پر اپنے قابو میں کر لیتا ہے۔

Love in the Time of Cholera یعنی”وبا کے دنوں میں محبت“ بھی گارشیا کا ایک ایسا ہی ناول ہے جس میں حقیقت اور رومانس کی کڑیاں انتہائی خوبصورتی اور مہارت سے ملائی گئی ہیں۔ یہ ایک ایسی داستان محبت ہے جس کا آغاز تو ایک لڑکے اور لڑکی کے ایام شباب میں ہوتا ہے لیکن ایک دوسرے کو حاصل کرنے کی خواہش پچاس سال، نو ماہ، چار دن بعد پوری ہوتی ہے۔

فلورینشیو اریزا اور فرمینا دازا جوانی میں ایک دوسرے سے ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں۔ فرمینا کی ایک آنٹی کے توسط سے دونوں کا معاشقہ خوب چلتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے خطوط کا تبادلہ کرتے ہیں۔ ایک دن فرمینا کے باپ کو ان کی محبت کا علم ہو جاتا ہے جو اسے فلورینشیو کے ساتھ ملنے اور تعلق رکھنے سے منع کر دیتا ہے۔ جب فرمینا اپنے باپ کی بات ماننے سے انکار کرتی ہے تو وہ اسے لے کر دوسرے شہر چلا جاتا ہے۔ فاصلے کے باوجود وہ دنوں بذریعہ ٹیلی گرام ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔ جب فرمینا واپس اپنے شہر آتی ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کا فلوریشیو کے ساتھ تعلق ایک خواب سے زیادہ نہیں، کیونکہ ابھی تک وہ ایک دوسرے سے تقریباً اجنبی ہیں۔ یہ سوچ کر وہ فلورینشیو سے تعلق ختم کر کے اس کے خطوط لوٹا دیتی ہے۔

اس مقام پر ایک اور کردار سامنے آتا ہے جس کی وجہ سے کہانی کا رُخ بدل جاتا ہے۔ یہ کردار امیر اور بڑے گھر سے تعلق رکھنے والا ایک ڈاکٹر ہے جو فرمینا کی طرف کشش محسوس کرتا ہے مگر وہ اسے کوئی مثبت جواب نہیں دیتی۔ ڈاکٹر ایک سلجھا ہوا انسان ہے جو ہضے جیسے مرض کو ختم کرنے کا عہد کئے ہوئے ہے۔ آخر کار فرمینا اپنے باپ کے اصرار پر اس سے شادی کر لیتی ہے۔ فرمینا کے اِس عمل سے فلورینشیو جذباتی طور تو ٹوٹ جاتا ہے مگر کاروبار میں خوب ترقی کرتا ہے۔

جدائی کا غم برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ فلورینشیو اپنی رنگین طبعیت کے ہاتھوں مجبور ہو کر 622 خواتین کے ساتھ قربت کے لمحات گزارتا ہے لیکن اس کے دل میں صرف اور صرف فرمینا ہی بسی ہوئی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فرمینا، اس کا خاوند اور فلورینشیو بوڑھے ہو جاتے ہیں۔ ایک دن فرمینا کا شوہر آم کے درخت سے اپنا پالتو طوطا نکانے کی کوشش میں گر کر مر جاتا ہے۔ فلورینشیو اس سوچ کے ساتھ اس کی آخری رسومات میں شرکت کرتا ہے کہ اس نے جیسے پچاس سال، نو مہینے، چار دن پہلے فرمینا سے محبت کا اظہار کیا تھا، اب بھی ایسا ہی کرے گا۔ فلوریشیو فرمینا سے محبت کا اظہار کرتا ہے جسے وہ کچھ ہچکچاہٹ کے بعد قبول کر لیتی ہے۔ اب فرمینا فلورینشیو کی دانشمندی اور محبت پر یقین کر لیتی ہے۔ اس طرح دونوں کی محبت کو بڑھاپے میں پنپنے کا موقع ملتا جاتا ہے۔

Leave a Reply

Back to top button