سپورٹس

ورلڈ چیمپین ہندوستان ورلڈ کپ سے باہر

سڈنی: ورلڈ کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے 329 رنز کے ہدف کے تعاقب میں اچھے آغاز کے باوجود ہندوستانی ٹیم مشکلات سے دوچار ہے اور اس کے چھ کھلاڑی آؤٹ ہو چکے ہیں۔

ہندوستان نے بیٹنگ کا آغاز کیا تو ابتدا میں ہی اوپننگ بلے بازوں کو دو چانسز ملے، شین واٹسن روہت شرما کا کیچ لینے میں ناکام رہے جبکہ وکٹ کیپر بریڈ ہیڈن نے شیکھر دھاون کا کیچ ڈراپ کیا۔

اس کے بعد دونوں بلے بازوں نے پراعتماد انداز میں بیٹنگ کی خصوصاً دھاون کا انداز خاصا جارحانہ تھا، تاہم ایک اور جارحانہ شاٹ کھیلنے کی کوشش میں وہ مڈ وکٹ پر گلین میکس ویل کو کیچ دے بیٹھے، انہوں نے 45 رنز بنائے۔

ابھی ہندوستانی ٹیم اس نقصان سے سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ ویرات کوہلی ایک رن بنانے کے بعد مچل جانسن کی وکٹ بن گئے۔

اسکور 91 تک پہنچا تو مچل جانسن نے روہت شرما کے ہاتھوں چھکا کھانے کے فوراً بعد اگلی ہی گیند پر ان کی وکٹیں بکھیر دیں، روہت نے 34 رنز بنائے۔

اسکور 108 تک پہنچا تو سریش رائنا جیمز فالکنر کی گیند پر وکٹ کیپر کے ہاتھوں جکڑے گئے۔

اس کے بعد مہندرا سنگھ دھونی اور اجنکیا راہانے اپنی ٹیم کی بقا کی جنگ لڑتے ہوئے پانچویں وکٹ کے لیے 70 رنز کی شراکت قائم کی لیکن اسی اسکور پر مچل اسٹارک نےراہانے کی اننگ کا خاتمہ کردیا، راہانے نے 44 رنز بنائے۔

دھونی نے نئے آنے والے بلے باز رویندرا جدیجا کے ساتھ پیش قدمی جاری رکھی اور اسکور کو 208 تک پہنچا دیا لیکن اسی موقع پر ایک خطرناک رن لینے کی کوشش میں ہندوستان کو جدیجا کی وکٹ کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

اس موقع پر دھونی ہنودستانی ٹیم کی آخری امید تھے لیکن میکس ویل نے دھونی کو رن آؤٹ کر کے ہندوستانی ٹیم کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔

اس کے بعد محض رسمی کارروائی باقی رہ گئی تھی اور اسٹارک نے امیش یادو کی وکٹیں بکھیر کر اپنی ٹیم کو فتح دلانے کے ساتھ ساتھ ہندوستانی ٹیم کو بھی ورلڈ کپ سے باہر کر دیا۔

اس سے قبل آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے سات وکٹ پر 328 رنز بنائے۔

ورلڈ کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر ہندوستان کے خلاف بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔

ٓٓٓآسٹریلیا کی جانب سے اننگز کا آغاز اوپنرز ڈیوڈ وارنر اور ایرون فنچ نے کیا لیکن وارنر ایک بار پھر بڑی اننگ کھیلنے میں ناکام رہے اور 12 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹ گئے۔

ایرون فنچ اور اسٹیون اسمتھ نے دوسری وکٹ کے لیے 182 رنز کی شراکت قائم کر کے اپنی ٓٹیم کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔

اسمتھ آؤٹ ہونے والے دوسرے کھلاڑی تھے جو 105 رنز بنانے کے بعد امیش یادو کی وکٹ بنے، انہوں نے اس اننگ کے دوران دو چھکے اور گیارہ چوکے لگائے۔

اس موقع پر اسکور کو تیزی سے آگے بڑھانے کے لیے گلین میکس ویل کو بھیجا گیا لیکن وہ 14 گیندوں پر 23 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہو گئے۔

ابھی آسٹریلیا اس نقصان سے سنبھلی بھی نہ تھی کہ ایک رن کے اضافے سے 81 رنز بنانے کے والے ایرون فنچ بھی پویلین لوٹ گئے۔

کپتان مائیکل کلارک بھی کوئی خاص تاثر چھوڑنے میں ناکام رہے اور دس رنز بنا کر اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔

اس موقع پر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ شاید آسٹریلیا کا بڑا مجموعہ بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا لیکن شین واٹسن اور جیمز فالکنر نے موقع کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے آہستہ آہستہ اسکور کو آگے بڑھانا شروع کیا۔

دونوں کھلاڑیوں نے اسکور کو 284 تک پہنچا دیا لیکن اسی اسکور پر فالکنر 21 رنز بنانے کے بعد یادو کی اننگ میں چوتھی وکٹ بن گئے۔

واٹسن کی اننگ بھی صرف 28 رنز تک محدود رہی لیکن اختتامی اوورز میں مچل جانسن کی جارحانہ بلے بازی کی بدولت آسٹریلیا نے 328 رنز کا مجموعہ اسکور بورڈ کی زینت بنایا۔

جانسن نے نو گیندوں پر 27 رنز بنائے جبکہ بریڈ ہیڈن سات رنز بنا کر ناقابل شکست رہے۔

ہندوستان کی جانب سے امیش یادو چار وکٹیں لے کر سب سے کامیاب باؤلر رہے جبکہ موہت شرما نے دو وکٹیں حاصل کیں۔

یاد رہے کہ ہندوستان نے آج تک 15 مرتبہ 300 سے زائد رنز کا کامیاب انداز میں تعاقب کیا ہے لیکن وہ آج تک ورلڈ کپ میں 300 سے زائد رنز کے ہدف کا کامیاب تعاقب نہیں کر سکی۔

Leave a Reply

Back to top button