تجزیہسیاسیات

'وزیراعظم سے حساب مانگنے والوں کیلئے زمین تنگ کردیں گے'

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر نہال ہاشمی نے دھمکی دی ہے کہ پاکستان کے منتخب وزیراعظم سے حساب مانگنے والوں کے لیے زمین تنگ کردی جائے گی۔

ایک تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے نہال ہاشمی نے جوش خطابت میں کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ حساب لینے والے کل ریٹائر ہوجائیں گے اور ہم ان کا یوم حساب بنادیں گے۔

ویڈیو میں نہال ہاشمی کو کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے،’اور سن لو جو حساب ہم سے لے رہے ہو، وہ تو نواز شریف کا بیٹا ہے، ہم نواز شریف کے کارکن ہیں، حساب لینے والو! ہم تمھارا یوم حساب بنا دیں گے’۔

ان کا مزید کہنا تھا، ‘جنھوں نے بھی حساب لیا ہے اور جو لے رہے ہیں، کان کھول کے سن لو! ہم نے چھوڑنا نہیں تم کو، آج حاضر سروس ہو، کل ریٹائر ہو جاؤ گے، ہم تمھارے بچوں کے لیے، تمھارے خاندان کے لیے پاکستان کی زمین تنگ کردیں گے’۔

نہال ہاشمی کا مزید کہنا تھا، ‘تم پاکستان کے باضمیر، باکردار وزیراعظم نواز شریف کا زندہ رہنا تنگ کر رہے ہو، پاکستانی قوم تمھیں تنگ کردے گی’۔

لیگی سینیٹر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ روز وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز پاناما پیپرز کیس کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے حکم پر بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے دوبارہ پیش ہوئے، جہاں ان سے 55 گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی۔

جس کے بعد وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اور دانیال عزیز نے ایک پریس کانفرنس کے دوران جے آئی ٹی کے 2 ارکان پر وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کو ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

لیگی رہنماؤں نے جے آئی ٹی میں شامل سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے بلال رسول اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے عامر عزیز کے رویے پر بھی اعتراضات اٹھائے تھے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی حسین نواز نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو کی گئی ای میل کے ذریعے جے آئی ٹی کے ممبران بلال رسول اور عامر عزیز پر اعتراض اٹھایا تھا، تاہم سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ نے درخواست کو مسترد کردیا تھا۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ 20 اپریل کو سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس کے تاریخی فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف کے خلاف مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا حکم دیا تھا۔

جس کے بعد 6 مئی کو سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل تین رکنی خصوصی بینچ نے جے آئی ٹی میں شامل ارکان کے ناموں کا اعلان کیا تھا۔

جے آئی ٹی کا سربراہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل واجد ضیاء کو مقرر کیا گیا ہے جبکہ دیگر ارکان میں ملٹری انٹیلیجنس (ایم آئی) کے بریگیڈیئر کامران خورشید، انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے بریگیڈیئر نعمان سعید، قومی احتساب بیورو (نیب) کے گریڈ 20 کے افسرعرفان نعیم منگی، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے بلال رسول اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے عامر عزیز شامل ہیں۔

نہال ہاشمی کا بیان ان کی ذاتی رائے: مریم اورنگزیب

دوسری جانب وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ نہال ہاشمی نے جو کچھ کہا، وہ ان کی ذاتی رائے تھی، سینیٹر کے بیان سے وزیراعظم نواز شریف یا مسلم لیگ (ن) کا کوئی تعلق نہیں۔

ریڈیو پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے نہال ہاشمی سے وضاحت طلب کی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت آئین اور قانون کی بالادستی پر مکمل یقین رکھتی ہے اور ہماری کوشش ہے کہ اداروں کے درمیان غلط فہمی پیدا نہ ہو۔

پی ٹی آئی کا تشویش کا اظہار

نہال ہاشمی کے ان بیانات کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اس پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو میں پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ نہال ہاشمی نے سپریم کورٹ کے ججز اور جے آئی ٹی ممبران کو براہ راست دھمکی دی ہے اور یہ سب کچھ حسین نواز کے جے آئی ٹی میں پیش ہونے کے بعد شروع ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے خلاف منظم مہم شروع کردی گئی جو قابل تشویش ہے، ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ججز اور جے آئی ٹی ممبران کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

فواد چوہدری نے پاناما کیس کی سماعت کے لیے بنائے گئے خصوصی بینچ کے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کا نوٹس لیں کہ ‘کس طرح حکومتی کارندے اس پورے معاملے کا اسکینڈل بنا رہے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی انصاف کے حصول کے لیے کھڑی ہے اور پاکستان کے لوگ بھی انصاف کے حصول کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دیں گے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات و مرکزی ترجمان شفقت محمود نے نہال ہاشمی کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت محسوس کی تو عدالت عظمیٰ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کریں گے۔

Leave a Reply

Back to top button