شخصیات

ولئ کامل: حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری ؒ …… مختاراحمد جمال

حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت باسعادت افغانستان کے شہر غزنی میں 400 ہجری میں ہوئی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ سادات خاندان کے چشم وچراغ تھے۔آپ ؒ کا اسم مبارک علی، کنیت ابُوالحسن اور لقب داتا گنج بخش ہے۔
آپ رحمتہ اللہ علیہ نے چار برس کی عمر میں اپنے والدِ محترم حضرت عثمان بن علی سے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی۔آپ رحمتہ اللہ علیہ غیر معمولی ذہانت کے مالک تھے اور تھوڑے ہی عرصہ میں قرآن مجید پڑھنے کی سعادت حاصل کر لی۔ اس کے بعد آپ ؒ نے عربی، فارسی اور دیگر علوم کے حصول کے لئے سفر کی صعوبتیں خندہ پیشانی سے برداشت کیں اور شام، عراق، بغداد، مدائن، فارس،کوہستان، طربستان اور خراسان وغیرہ کے معتبر علماء سے شرفِ تلمذ حاصل کیا۔
شیخ ابو قاسم گرگانی رحمتہ اللہ علیہ کا شمار آپ ؒ کے اساتذہ میں سب سے پہلے نمبر ہوتا ہے۔ جن سے آپؒ نے درسی علوم حاصل کرتے ہوئے سب سے زیادہ استفادہ کیا۔ آپ نے خود ”کشف الاسرار“ میں شیخ گرگانی کو اپنا علمِ دین کا استاد لکھا اور فرمایا ہے ”میرے علمِ دین کے استاد فرمایا کرتے تھے، فقر میں رضا جوئی مرشد سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں ہے، پس فقیرکو چاہیے کہ مرشد ہی کی حضوری رکھے یعنی تصور میں ہر وقت اپنے مرشد کو اپنے پاس ہی سمجھے“۔
حضرت علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ نے سلسلہ جنیدیہ میں حضرت شیخ ابو الفضل ختلی رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ شفقت پر بیعت فرمائی جو اپنے زمانے کے قرآن وحدیث کے اعلیٰ پائے کے عالم، متقی وپرہیزگار بزرگ تھے۔
حضرت علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ”ایک دفعہ میں اپنے پیر ومرشد حضرت شیخ ابو الفضل ختلی کے ساتھ بیت الجن سے دمشق کا سفر کر رہا تھا کہ راستے میں بارش ہو گئی، جس کی وجہ سے بہت زیادہ کیچڑ ہو گیا اور ہم بہت ہی مشکل سے چل رہے تھے، اچانک میری نظر پیرومرشد پر پڑی تو کیا دیکھتا ہوں کہ اُن کا لباس بھی بالکل خشک ہے اور پاؤں مبارک پر بھی کیچڑ کا کوئی نشان بھی نظرنہ آیا۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی، دریافت کیا تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا ”ہاں جب سے میں نے پروردگارِ عالم پر توکل کرتے ہوئے ہر قسم کے وہم وشبہ کو خود سے دور کر دیا ہے اور دل کو حرص ولالچ کی دیوانگی سے محفوظ کر لیا ہے، تب سے اللہ رب العزت کی ذاتِ مقدس نے میرے پاؤں کو کیچڑ سے محفوظ رکھا ہے“۔ حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے شیخ ابو الفضل ختلی رحمتہ اللہ علیہ کے علاوہ دو بزرگوں، ابو سعید ابو الخیر اور امام ابو القاسم قشیری سے بھی خصوصی فیض حاصل کیا۔
آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ازدواجی زندگی کے بارے میں تاریخ صرف اتنا ہی بتاتی ہے کہ آپ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے مگر تھوڑے ہی عرصہ کے بعد بیوی سے علیحدگی ہو گئی اور پھر تاحیات دوسری شادی نہ کی۔ بہ اختلاف روایت432 ہجری میں مرشد حضرت شیخ ابو الفضل ختلی رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کو حکم فرمایا کہ علی! تم لاہور روانہ ہو جاؤ وہاں تمہاری شدید ضرورت ہے۔ سر زمینِ ہند تمہارا انتظار کر رہی ہے اور تمہارے فیض کا سلسلہ لاہور ہی سے جاری ہوگا۔ آپ نے ایک لمحے کے توقف کے بعد مودبانہ انداز سے عرض کیا کہ حضور! وہاں تو ہمارے پیر بھائی اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کے مریدِ کامل حضرت میراں حسین زنجانی رحمتہ اللہ علیہ موجود ہیں۔ اُن کے ہوتے ہوئے میری وہاں کیا ضرورت ہو سکتی ہے؟ شیخ رحمتہ اللہ عیلہ قدرے مسکرائے اور فرمایا کہ یہ تمہارے سوچنے کا کام نہیں، بس تم فوراََ روانہ ہو جاؤ اور دین اسلام کی ترویج واشاعت کا کام کرو۔
آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے پیرومرشد کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے وطن کو خیر باد کہا اور دینِ اسلام کی تبلیغ کا شوق لیے کئی مہینوں کے کٹھن سفر کے بعد لاہور پہنچے۔ شہر کے داخلی دروازے تک پہنچتے پہنچتے شام ہو گئی، شہر کی حفاظت کے پیش نظر داخلی دروازے شام کو بند کر دیئے جاتے تھے اِس لیے آپ ؒ کو اپنے دیگر ساتھیوں اور مسافروں کے ہمراہ، رات بیرونِ شہر ہی بسر کرنی پڑی۔ جب صبح ہوئی تو شہر کی جانب روانہ ہوئے۔ ابھی چند ہی قدم چلے تھے کہ سامنے سے ایک بہت بڑا ہجوم آتا ہوا نظر آ رہا تھا، قریب آئے تو معلوم ہوا کہ یہ ایک جنازہ ہے۔ غزنی سے نو وارد مسافروں نے دریافت کیا تو پتا چلا کہ یہ حضرت شیخ میراں حسین زنجانی رحمتہ اللہ علیہ کاجنازہ ہے۔ یہ سن کر حضرت علی ہجوریرحمتہ اللہ علیہ دم بخود ہو گئے اور بے اختیار زبان مبارک سے نکلا کہ ”اللہ شیخ کو جزائے خیر دے، وہ واقعی روشن ضمیر تھے۔“ جب جنازے کے شرکاء نے آپ کا یہ عجیب فقرہ سنا تو استفسار کیا۔آپ ؒ نے انہیں پورا واقعہ سنا دیا۔ جب لوگوں کو پتا چلا کہ آپ ؒ حضرت شیخ حسین زنجانی رحمتہ اللہ علیہ کے پیر بھائی ہیں تو انہوں نے جنازہ پڑھانے کا اصرار کیا اور یوں آپ ؒ نے پہلے جنازہ پڑھایا اور پھر تدفین کے عمل سے فارغ ہو کر شہر کی جانب روانہ ہوئے۔ اس کے بعد لاہور میں مستقل سکونت اختیار فرمائی۔
لاہور میں مسلمانوں کو استحکام حاصل کیے کچھ ہی عرصہ ہوا تھا، ہر طرف ہندومذہب کے پیرو کار اور پیشواؤں کا دور دورہ تھا۔ مگر آپ رحمتہ اللہ علیہ کی شریعتِ مطہرہ کی پابند، بے داغ اور دلکش سیرت اور شفقت سے بھر پور شخصیت ……لوگوں کو کفرو کی دلدل سے نکال کر صراطِ مستقیم کی طرف لانے کا باعث بنی۔ دیکھتے ہی دیکھتے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے ارشاداتِ عالیہ اور مواعظِ حسنہ کی اثر انگیزی سے لوگوں نے اسلام کی حقانیت کو سمجھا اور جوق درجوق دائرہ اسلام داخل ہونے لگے۔
حضرت داتا گنج بخش علی ہجوی ریرحمتہ اللہ علیہ کے حسنِ اخلاق اور نگاہِ فیض کے باعث جو خوش قسمت لوگ آپ ؒ کے دستِ حق پرست پر مشرف بہ اسلام ہوئے، وہ نہ صرف خود، تادمِ واپسیں، دامنِ مصطفےٰﷺ تھامتے ہوئے شجرِ اسلام سے وابستہ اور اُس پہ قائم رہے، بلکہ اُن کی نسلیں بھی تقریباََ ساڑھے نو سو سال گزرنے کے باوجود اسلام پر قائم ہیں۔ ایسا کیوں نہ ہوتا……کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ ایک ایسے مردِکامل، صوفی با صفاء، درویش اور بزرگ تھے، جن کے پاس نہ تو کوئی خزانہ تھا، نہ سپاہ……نہ دنیاوی وسائل اور نہ ہی جاہ وحشمت!کہ جس سے لوگ مرغوب ہو کرآپ رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آتے……بس آپ ؒ اپنے مصلہ پر بیٹھے ہوئے ہمہ وقت اپنے حقیقی خالق کی یاد میں مصروف رہتے تھے۔ اللہ رب العزت نے آپ ؒ کو وہ شان عطا فرمائی کہ لوگ آپ ؒ کے پاس دوڑے چلے آتے اور آپ کے نورانیت سے بھرپور چہرے کو دیکھ کر ایمان کی دولت سے مالا مال ہو جاتے تھے۔
آپ رحمتہ اللہ علیہ کی نگاہِ فیض کا اظہار حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ نے بھی فرمایا۔جب ایک بار خواجہ غریب نواز لاہور تشریف لائے اور داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کے مزارِ اقدس پر حاضری دی، چلہ کاٹا اور عبادت وریاضت میں مصروف رہے۔ اِس دوران حضور داتا نے جو فیوض برکات کی بارش آپ ؒ پر کی، اس کا اندازہ خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ ہی لگا سکتے ہیں۔ جب خواجہ معین الدین چشتی اجمیری چلہ سے فارغ ہو کر رخصت ہونے لگے تو بے ساختہ ان کی زبان مبارک پر داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کے لئے بطورِ خاص یہ شعر جاری ہوا:
گنج بخش فیضِ عالم مظہرِ نور خدا
نا قصاں را پیرِکامل کاملاں رارہنما
اس مردِ خدا کی زبان مبارک سے نکلا ہوا یہ شعر اِس قدر زبان زدخاص وعام ہوا جس کی گونج چہار سو پھیل گئی اور لوگ آپ ؒ کے آستانہ سے فیض پانے لگے۔
حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ ……نماز کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ”نماز ایسی عبادت ہے جو شروع سے آخر تک اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس کے چاہنے والوں کی رہنمائی کرتی ہے۔ وہ ہمیشہ اسی میں مشغول رہتے ہیں، اُن کے مقامات اسی سے ظاہر ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے چاہنے والوں کی طہارت توبہ ہے۔۔۔۔ صوفیاء میں سے کچھ لوگ فرض نماز تو لوگوں کے سامنے ادا کرتے ہیں جبکہ نوافل چھپ کر پڑھتے ہیں ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس طرح ریاکاری نہ ظاہر ہو۔ عبادت اور اعمال میں نمائش کا خیال اور لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کی خواہش ہو تو وہ ریاکاری ہوتی ہے“۔
انسان خطا کار ہے اور دنیا کی رنگینیاں اُس پہ اثر انداز ہو جاتی ہیں۔ لیکن پروردگارِ عالم نے بخشش اور مغفرت کا دروازہ بھی اپنے بندوں کے لئے ہر وقت کھلا رکھا ہوا ہے۔ بس! ضرورت اِس بات کی ہوتی ہے کہ آئندہ گناہوں سے اجتناب کرتے ہوئے اللہ رب العزت کے قریب ہوا جائے اور توبہ کی جائے۔
”ایک بار ایک شخص نے توبہ کی اور پھر گناہ کر بیٹھا، اس کے بعد پچھتایا اور دل میں سوچا کہ اب اللہ پاک کی بارگاہ میں جاؤں گا تو نہ جانے کیا حشر ہوگا۔ اس وقت غیب سے آواز ائی”تو فرماں بردار تھا تو ہم نے تمہیں قبول کرلیا، تُو نافرمان ہوا تو ہم نے تمہیں مہلت دی اگر اب بھی تُو ہماری طرف آئے گا تو ہم تمہیں قبول کرلیں گے۔“
حضرت داتا گنج بخشؒ……علم ومعرفت کے ہزاروں دیئے جلاکر آخر کار 19صفر 465 ہجری،1087عیسوی کو وصال فرما گئے۔آپ رحمتہ اللہ علیہ کا سالانہ عرسِ مقدس 19صفر کو انتہائی عقیدت واحترام اور شایانِ شان طریقے سے منایا جاتا ہے جس میں نہ صرف پاکستان بھر سے بلکہ بیرون ممالک سے بھی آپؒ کے عقیدت مندوں کی کثیر تعداد شرکت کرنے کا شرف حاصل کرتی اور فیض پاتی ہے۔

Leave a Reply

Back to top button