تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

وٹامن ای آئل قوت معدافعت بڑھائے اور بیماریاں بھگائے

وٹامن ای آئل صحتمند زندگی کیلئے کیوں اور کتنا ضروری ہے؟ اس کے کیا کیا بے مثال فوائد ہیں؟ ان کی فہرست تو کافی طویل ہے، لیکن ہم یہاں اس کے چند ایسے فائدے بیان کرنے جا رہے ہیں جن کو جان کر آپ حیران رہ جائیں گے۔

سویابین آئل، سن فلاور آئل اور ہری سبزیوں میں پایا جانے والا انتہائی اہم غذائی جز وٹامن ای انسانی زندگی کیلئے ازحد ضروری ہے۔ ماہرین کی رائے میں روزانہ 400 ملی گرام وٹامن ای لینا ضروری ہے۔ سبزیاں کھا کر حاصل کرنے کے علاوہ اسے کیپسولز میں آئل صورت میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

وٹامن ای آئل کے فوائد
وٹامن ای آئل صحتمند زندگی کیلئے کیوں اور کتنا ضروری ہے؟ اس کے کیا کیا بے مثال فوائد ہیں؟ ان کی فہرست تو کافی طویل ہے، لیکن ہم یہاں اس کے چند ایسے فائدے بیان کرنے جا رہے ہیں جن کو جان کر آپ حیران رہ جائیں گے۔

انٹی ایجنگ ہے
خوبصورت اور جوان نظر آنا کس کی خواہش نہیں ہوتی، یقیناً ہر کوئی ایسا چاہتا ہے۔ اگر آپ بھی سدا جوان اور خوبصورت نظر آنا چاہتے ہیں تو لیجئے! وٹامن ای آئل کا ایک کمال جانیئے۔ رات کے وقت سونے سے قبل چہرے کو صاف پانی سے دھونے کے بعد وٹامن ای والے تیل کے چند قطرے کسی بھی کریم میں شامل کر لیں اور اس کو نرمی سے چہرے پر لگا دیں۔ ایسا کرنے سے ایک تو آپ کے چہرے کی جلد نرم اور چمکدار ہو جائے گی اور دوسرا اس عمل سے چہرے پر جھریاں پڑنے کا عمل سست ہو جائے گا اور آپ ہمیشہ جوان نظر آنے لگیں گے۔

کیل مہاسوں، چھائیوں اور داغ دھبوں کا دشمن
کئی لوگ خصوصاً خواتین چہرے پر چھائیوں اور داغ دھبوں کی وجہ سے پریشان رہتی ہیں۔ اگر آپ بھی اس مسئلے سے دوچار ہیں تو پریشان نہ ہوں، اس کا حل بھی وٹامن ای آئل کے پاس ہے۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ جلد پر پگمنٹ کی زیادتی کے باعث چھائیاں پڑ جاتی ہیں اور ان کا دشمن ہے وٹامن ای آئل۔ آپ نے کرنا یہ ہے کہ وٹامن ای آئل کو وٹامن سی کے ساتھ ملا کر چہرے پر لگانا ہے، اس سے نہ صرف چہرے پر موجود داغ دھبوں کا خاتمہ ہوتا ہے بلکہ جلن پیدا کرنے اور چہرے کی خوبصورتی کو خراب کرنے والی ایکنی سے بھی نجات ملتی ہے۔

قوت مدافعت بڑھانے کا زریعہ
انسان صحت مند ہو تو عام خوراک بھی جزوِبدن بن کر اس کو خوبصورت اور چاک و چوبند بنا دیتی ہے، لیکن ایسا ہوتا تب ہی جب انسان کا مدافعتی نظام مناسب طور پر عمل کرے۔ جان لیجئے کہ وٹامن ای آئل میں خوبی موجود ہے کہ یہ قوت مدافعت میں اضافہ کر کے جسم کو بیماریوں سے لڑنے کیلئے کی طاقت دیتا ہے۔

1 2اگلا صفحہ

Leave a Reply

Back to top button