تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

وٹامن اے خشک آنکھوں کو تروتازہ بنائے اور بیماریوں سے بچائے

وٹامن اے کی شدید کمی نائٹ بلائینڈ کر دیتی ہے یعنی رات کے وقت بینائی کو ختم یا بہت کمزور کر دیتی ہے اور یہ بیماری ترقی پذیر ممالک خاص طور پر پاکستان میں بہت سے افراد کو متاثر کر رہی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق خواتین اس بیماری کا زیادہ شکار ہوتی ہیں اور وہ خواتین جن کی بینائی رات کو کم یا ختم ہوجائے کو وٹامن اے کا سپلیمنٹ دینے سے 6 ہفتے کے اندر اس بیماری پر 50 فیصد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔

وٹامن کا لفظ انگریزی کے ایک لفظ وائٹل سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے ناگزیر۔ حیاتین یا وٹامن ”حیات“ کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں اس لیے اردو میں انہیں حیاتین کہا جاتا ہے۔ حیاتین کی کئی قسمیں ہیں۔ ہر قسم کی الگ الگ خصوصیات ہیں، لیکن تمام حیاتین کیمیائی اعتبار سے نامیاتی خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں۔ حیاتین انسانی جسم کو انتہائی قلیل مقدار میں یعنی ملی گرام اور مائیکرو گرام میں روزانہ لازماً مطلوب ہوتے ہیں۔ انہیں روز مرہ خوراک سے آسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔یہ نہ تو جسم میں براہ راست قوت اور حرارت پیدا کرتے ہیں اور نہ ہی وزن پیدا کرتے ہیں، بلکہ خود اثر انداز ہوئے بغیر جسمانی افعال کو جاری کرنے کا موجب بنتے ہیں۔ کئی ایک حیاتین کی کچھ مقدار جسم میں از خود کیمیائی عمل کے دوران تحلیل ہو جاتی ہے۔ متعدد حیاتین حرارت، روشنی اور ہوا کے خلاف بھی مدافعت نہیں رکھتے اور ضائع ہو جاتے ہیں، اس لیے خوراک میں کچی سبزیوں اور تازہ پھلوں کے استعمال پر زیادہ زور دیا جاتا ہے، لیکن بعض حیاتین کئی گھنٹے مسلسل پکنے سے بھی متاثر نہیں ہوتے اور ان کی طاقت اور افادیت برقرار رہتی ہے۔

وٹامن اے کی کمی کی چند نشانیاں

آنکھوں کی خشکی:
آنکھوں کی صحت کا خراب ہونا وٹامن اے کی کمی کی سب سے بڑی نشانی ہے اور وٹامن اے کی شدید کمی بینائی سے محرومی کا باعث بن سکتی ہے اور وٹامن اے کی کمی آنکھوں کی نمی ختم کر کے آنکھوں کو خشک کر دینے کا باعث بنتی ہے،خشک آنکھوں میں آنسو نہیں پیدا ہوتے اور یہ وٹامن اے کی کمی کی سب سے پہلی علامت ہے اور پاکستان میں بچے بڑی تعداد میں اس کمی کا شکار ہیں، وٹامن اے کا زیادہ استعمال آنکھوں کی خشکی کو ختم کر سکتا ہے اور اس کے لیے وٹامن اے کے سپلیمنٹس کا استعمال کرنا بہت ضروری ہے۔ ایک تحقیق کے مُطابق چھوٹے اور بڑے بچوں کو اگر مسلسل سوا سال تک وٹامن اے کا سپلیمنٹ استعمال کروایا جائے تو اُن میں ڈرائی آئیز کی بیماری ٹھیک ہوجاتی ہے۔

رات کا اندھا پن:
وٹامن اے کی شدید کمی نائٹ بلائینڈ کر دیتی ہے یعنی رات کے وقت بینائی کو ختم یا بہت کمزور کر دیتی ہے اور یہ بیماری ترقی پذیر ممالک خاص طور پر پاکستان میں بہت سے افراد کو متاثر کر رہی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق خواتین اس بیماری کا زیادہ شکار ہوتی ہیں اور وہ خواتین جن کی بینائی رات کو کم یا ختم ہوجائے کو وٹامن اے کا سپلیمنٹ دینے سے 6 ہفتے کے اندر اس بیماری پر 50 فیصد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔

خشک جلد:
وٹامن اے ہماری جلد کو صحت مند رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ سکن کے ڈیڈ سیلز کو مرمت کرتا ہے اور جلد پر انفلامیشن کو روکتا ہے۔ وٹامن اے کی کمی جلد کی بہت سی بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے جس میں ایگزیما کی بیماری خاص طور اسی وٹامن کی کمی سے پیدا ہوتی ہے۔ ایگزیما میں جلد خشک ہوجاتی ہے اور جلد پر خارش ہوتی رہتی ہے اور سوجن ظاہر ہو جاتی ہے اور بہت سی میڈیکل تحقیقات کے مُطابق اس بیماری کو وٹامن اے سے پھرپور کھانے اور وٹامن اے کے سپلیمنٹ استعمال کرنے سے ختم کیا جاسکتا ہے۔ ایک اور تحقیق کے مطابق ایگزیما کے شکار افراد میں اگر وٹامن اے 10 سے 40 ملی گرام روزانہ مقدار بدل بدل کر استعمال کروایا جائے تو تین مہینے میں اس بیماری پر 50 فیصد سے زیادہ قابو پایا جاسکتا ہے۔ ڈرائی سکن یعنی جلد کی خشکی کی کئی اور وجوہات کی وجہ سے بھی پیدا ہو سکتی ہے اور اس کے علاوہ وٹامن سی کی کمی بھی جلد کو خُشک کر دینے کا باعث بنتی ہے۔

1 2 3 4اگلا صفحہ

Leave a Reply

Back to top button