Uncategorized

وہ خوبصورت مقامات جو کسی کی بھی سانسیں روک دیں


ہماری اس دنیا میں ایسے مقامات کی کوئی کمی نہیں جو کسی نہ کسی انفرایت کے حامل ہوتے ہیں مگر بیشتر افراد ان سے واقف ہی نہیں ہوتے۔ تو ایسے ہی چند انتہائی انوکھے مگر گمنام مقامات کے بارے میں جانیے جو اکثر افراد کی نگاہوں سے چھپے رہتے ہیں مگر کیمرے کی آنکھ ان کی خوبصورتی سب کے سامنے لے آئی ہے اور کہا جاتا ہے کہ ان کو دیکھنے والوں کی سانسیں کچھ لمحوں کے لیے تھم جاتی ہے۔

اب یہ کہاں تک ٹھیک ہے اس کا فیصلہ تو آپ خود ہی کرسکتے ہیں۔

وائٹ ہیون بیچ

54c75d38be097

— وکی پیڈیا فوٹو

آسٹریلیا کے وائٹ سن ڈے آئی لینڈ کا یہ وائٹ ہیون بیچ جس کا 98 فیصد حصہ سفید ریت پر پھیلا ہوا ہے جس نے اس ساحل کو زبردست سفید رنگت میں ڈھال دیا ہے، اور سلیکا نامی بے رنگ معدنی عنصر کی وجہ سے یہ سفید ریت عام ریت کے مقابلے میں کم گرم ہوتی ہے اور یہی وہ ہے کہ یہاں کے نیلے شفاف پانیوں کے گرد ننگے پاﺅں گھومتے ہوئے پیر نہیں جلتے۔

ڈینز بلیو ہول

54c75d37298c5

— فائل فوٹو

بہاماز کے لانگ آئی لینڈ میں واقع یہ سمندری مقام اسکوبا ڈرائیورز میں بہت زیادہ مقبول ہے یہ سمندر حیرت انگیز طور پر دو مختلف رنگوں میں تقسیم نظر آتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں دنیا کی اب تک دریافت ہونے والی سب سے گہری زیرآب سمندری غار ہے جس کے اندر کی سیر مہم جوﺅں کے ہی بس کی بات ہے عام لوگ تو اس کی نامعلوم گہرائی کا تصور کرکے ہی گھبرا جاتے ہیں۔

ہمیلٹن پول پریزرو

54c75d3a05790

— اسکرین شاٹ

یہ تاریخی تیراکی کا میدان ٹیکساس کے چونے کے پتھروں سے گھری چٹان کے اندر ہے۔ یہاں سے پچاس فٹ بڑی آبشار بہتے ہوئے گزرتی ہے اور اس خوبصورت ترین قدرتی سوئمنگ پول میں پانی کو کبھی خشک نہیں ہونے دیتی۔

کلیموتو

54c75d39a880e

— آن لائن فوٹو

انڈونیشیاء میں واقع یہ آتش فشانی مقام تین جھیلوں کا گھر بھی ہے جن میں ہر ایک کا رنگ دوسرے سے مختلف ہے اور ان کا نظارہ دیکھنے والوں کی سانسیں روک دیتا ہے تاہم یہاں تک پہنچنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ اس کے لیے کافی اونچائی تک ٹریکنگ کرنا پڑتی ہے اور اس کے لیے کافی ہمت اور عزم کی ضرورت پڑتی ہے۔

ہوئیٹسرکر

54c766a523e49

— بشکریہ وکی میڈیا کامنز

آئس لینڈ کا یہ مقام کسی عجوبے سے کم نہیں، ہنا بے نامی ساحلی مقام پر واقع ہوئیٹسرکر چٹان کی بناوٹ ایسی ہے کہ دیکھنے والا دیکھتا ہی رہ جاتا ہے، کچھ لوگوں کے خیال میں تو اس چٹان کی شکل کسی سمندری عفریت جیسی ہے جبکہ کچھ کو یہ کسی اونٹ کی طرح نظر آتی ہے خیر جو بھی ہو یہ مقام کسی کو بھی اپنے اندر گم کردینے کے لیے کافی ہے۔

بیناگِل

54c75d3cbef70

— اے ایف پی فوٹو

پرتگال کا یہ ساحلی قصبہ اپنے شفاف نیلے پانیوں کی بدولت جانا جاتا ہے مگر یہاں کی اصل شہرت یہاں واقع ذہن گھما دینے والی سمندری غار ہے جہاں تک رسائی ماہی گیر کشتیوں کے ذریعے ہی ممکن ہوپاتی ہے اور وہاں کی سیر کسی جادوئی سفر سے کم نہیں۔

میلیسانی غار

54c75d3cc0272

— اسکرین شاٹ

گریک آئی لینڈ میں واقع اس غار سے متعدد ماورائی داستانیں جڑی ہیں اور یہاں پہنچ کر وہ حقیقی لگنے لگتی ہیں کیونکہ یہاں کی خوبصورتی میں عجیب ہیبت محسوس ہوتی ہے جو انسانی حواس پر طاری ہوجاتی ہے تاہم اس کی خوبصورتی بھی یہاں آنے والوں کو مسحور کرکے رکھ دیتی ہے۔

گلفوس

54c75de99e0a6

— ورڈپریس فوٹ

یہ آئس لینڈ کا ایک اور عجوبہ ہے یعنی گلفوس نامی آبشار جو دیکھنے والوں کو حیرت میں مبتلا کردیتی ہے درحقیقت یہاں آبشار کی شدت اور اس کے ارگرد کے خوبصورت مناظر دیکھنے والی آنکھ کو دنگ کرکے رکھ دیتے ہیں کیا آپ کو بھی اس کی تصویر دیکھ کر قدرت کے اس عجوبے پر حیرت نہیں ہوتی؟

دی فلیٹ آئرنز

54c75d3debe2c

— بشکریہ وکی میڈیا اکمنز

امریکی علاقے کولوراڈو میں واقع ان چٹانوں کی انوکھی بناوٹ کوہ پیماﺅں کا صدیوں سے استقبال کر رہی ہے اور اگرآپ کوہ پیما نہ بھی ہوں تو بھی ان سپاٹ چٹانوں کا نظارہ حیرت میں مبتلا کردینے کے لیے کافی ہے اور منہ سے بے اختیار تعریفی الفاظ نکلنے لگتے ہیں۔

لیک ناٹرون

54c75d3abb221

— اسکرین شاٹ

تنزانیہ کی اس خون رنگ جھیل کے بارے میں کافی افواہیں پھیلی ہوئی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ لوگوں کو جانوروں سے لے کر پتھروں تک کسی بھی چیز میں بدل سکتی ہے اگرچہ یہاں کا درجہ حرارت اسے متعدد افراد کے خطرناک بنا دیتا ہے مگر یہاں پھیلی افواہیں بس افواہیں ہی ہیں اور ان میں کوئی حقیقت نہیں درحقیقت اس سے کچھ دوری برقرار رکھ کر اس کا نظارہ زندگی بھر کا ناقابل فراموش تجربہ ثابت ہوتا ہے۔

واتناجوکول آئس کیوز

54c75d3e5771b

— رائٹرز فوٹو

یہ آئس لینڈ کا ایک اور عجوبہ مقام ہے یہاں اندرونی دیواریں دیکھ کر لگتا ہے کہ انسان کسی اور ہی سیارے پر پہنچ گیا ہے، آئس لینڈ کے گلیشیئر کے اندر پھیلے غاروں کا یہ سلسلہ پوری طرح دیکھنا ممکن ہی نہیں کیونکہ یہ بہت سرد مقام ہے اور یہاں اتنی سردی ہوتی ہے کہ اس کا تصور بھی کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

مروئے سوڈان

54c75d36c5cc5

— وکی پیڈیا فوٹو

اگر آپ کا خیال ہے کہ زمانہ قدیم کے مصری شہریوں نے صرف مصر میں ہی اہرام تعمیر کیے ہیں تو وہ بالکل غلط ہے۔

درحقیقت اس عہد میں وادی نیل مصر کے جنوب میں سوڈان تک پھیلی ہوئی تھی اور 800 قبل مسیح میں مصری سرزمین پر حکمران نوبیا سلطنت نے دو سو سے زائد اہرام سوڈان کے علاقے مروئے میں تعمیر کرائے۔

اگرچہ حجم کے اعتبار سے یہ گیزہ کے اہراموں جیسے تو نہیں مگر پھر بھی ان کا نظارہ دیکھنے والوں کو مسحور ضرور کردیتا ہے۔

Leave a Reply

Back to top button