سپیشل

پاکستان: اندھوں کی جنت یا جہنم؟

شعیب علی

یہ تحریر ہمارے معاشرے کے اس طبقے سے متعلق ہے جو بینائی سے محروم ہونے کے باوجود عرصہ دراز سے اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہا ہے۔اندھیری دنیا کے ان باسیوں کے احتجاج کی وجہ بننے والے مسائل، حکومتی رویے اور دوسری طرف دنیا میں ان کے لئے جنت بنانے والے ملک اور ادارے کی گرانقدر خدمات کا بھرپور جائزہ لیا گیا ہے۔

صوبائی دارالحکومت لاہور میں گزشتہ ماہ کم و بیش دو ہفتے سے زائد جاری رہنے والا نابینا افراد کا احتجاج ایک بار پھر حکومتی بے حسی کی نظر ہو گیا۔ مسلسل محنت کے بعد حکومتی وفد کے سربراہ نذیر چوہان ان خصوصی افراد کو ایک بار پھر 35 روز میں تمام مطالبات پورے کرنے کے وعدے پر ٹرخانے میں کامیاب ہو گئے۔ بصارت سے محروم ان خصوصی افراد کے سردی اور بارش میں کھلے آسمان تلے گزرے یہ شب و روز ریاست مدینہ کا دعوی کرنے والے حکمرانوں کی بند آنکھیں تو نہیں کھول سکے البتہ عوام کی آنکھیں ضرور کھولنے میں کامیاب ہو گئے جو ان کی بے بسی کا خیال کرتے ہوئے انھیں سردی سے بچانے کے لیے گرم کمبل اور کھانے پینے کی اشیاء فراہم کرتے رہے۔ حکومتی بے حسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان خصوصی مظاہرین کی عید میلاد النبیؐ بھی شہر کی سڑکوں پر گزری۔ مستقل دھرنے کے دوران نابینا افراد نے جشن عید میلاد النبیؐ کے سلسلے میں محفل نعت کا اہتمام بھی کیا اور نابینا نعت خوانوں نے نعتیہ کلام پڑھے لیکن ریاست مدینہ کا کوئی بھی حکمران ان کی بات سننے سے معذور رہا۔ اس پُررونق شہر کی سڑکوں پر نابینا افراد کا احتجاج نیا نہیں، بلکہ یہ گزشتہ پانچ سال سے جاری ہے۔

نابینا افراد کا سب سے پہلا احتجاج 2015ء میں معذور افراد کے واحد قانون بحالی معذوراں و روزگار ایکٹ 1981ء کے تحت ملازمتوں کے کوٹے پر عمل درآمد کے لئے کیا گیا۔ لیکن پانچ سال میں آج تک نہ اس قانون اور نہ ہی اس مطالبے پر مکمل عمل ہو سکا۔ 2015ء کے احتجاج کے بعد کچھ پڑھے لکھے نابینا مظاہرین کو ملازمت مل گئی جب کہ باقیوں کو ملازمت اور پھر انھیں مستقل کرنے سمیت دیگر سہولیات دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ 2016ء میں وعدہ وفا نہ ہونے پر دوبارہ احتجاج شروع کیا گیا جو کہ چار روز تک جاری رہا۔ اس احتجاج کے دوران مظاہرین اندھے قانون کے رکھوالوں کے ہاتھوں بدترین تشدد کا نشانہ بھی بنے۔ لیکن آنکھوں والے ”اندھے“ ایک بار پھر نابینا مظاہرین کو 2017ء میں مطالبات پورے کرنے کے جھوٹے وعدے پر ہی ٹرخانے میں کامیاب ہو گئے۔ 2017ء میں نابینا افراد نے ایک مرتبہ پھر مال روڈ اور کلمہ چوک پر احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دیا۔ اس بار احتجاج کے نتیجے میں حکومت نے 15اکتوبر 2017ء تک مطالبات پورے کرنے کا وعدہ کیا۔ مگر یہ وعدہ بھی دھوکہ نکلا۔15 اکتوبر کے بعد ایک بار پھر نابینا افراد نے احتجاج شروع کیا تو حکومت پنجاب کی جانب سے پھر نابینا افراد کو یقین دلایا گیا کہ بہت جلد اْن کے مطالبات پورے کر دیئے جائیں گے۔ اس یقین دہانی پر نابینا افراد احتجاج ختم کر کے منتشر ہو گئے۔ اس کے بعد جولائی 2018ء میں نیا پاکستان وجود میں آیا تو بصارت سے محروم ان افراد کو امید ہوئی کہ اب انھیں ان کے حقوق مل جائیں گے لیکن اپریل 2019ء میں نئے پاکستان سے مایوس ہو کر اندھیری دنیا کے یہ باسی مال روڈ پر دوبارہ احتجاج کے لئے نکلنے پر مجبور ہوئے۔

اب کی بار صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے سب کو مستقل کرنے کا وعدہ کیا۔ اب چھ ماہ کے انتظار کے بعد نابینا افراد ایک بار پھر دو ہفتے سے اندھے شہر کی مختلف شاہراہوں پر سراپا احتجاج ہیں اور آنکھوں والوں کو اتنی فرصت نہیں کہ وہ ان کے دکھوں اور مسائل کا مداوا کر سکیں۔ ان مظاہرین کا صرف یہی مطالبہ تھا کہ وہ مارچ 2015ء سے ڈیلی ویجز پر کام کر رہے ہیں۔ نئے پاکستان کی سرکار نے چھ ماہ قبل انھیں مستقل کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن یہ وعدہ اب تک وفا نہیں ہو سکا۔ لہذا پنجاب بھر میں موجود 1000ملازمین کو سکیل کے مطابق کنفرم کیا جائے اور اگر مطالبہ نہ مانا گیا تو دھرنا جاری رہے گا۔ اس بار نئے پاکستان میں بھی بصارت سے محروم ان مظلوم مظاہرین کو ایک بار پھر پولس تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ تاہم وہ آنکھوں والے ”اندھوں“ کا سامنا بڑے صبر و استقامت کے ساتھ کر رہے ہیں۔آنکھوں کے نور سے محروم اندھیری دنیا کے باسی ان مرد و خواتین کے اہم شاہراہوں پر ہوتا مسلسل احتجاج اور نتیجے میں دادرسی کی بجائے قانون کے رکھوالوں کا تشدد ہمارے ارباب اختیار کی آنکھیں دیکھنے سے قاصر ہیں۔ بینائی رکھنے والوں کا بینائی سے محروم طبقے کے ساتھ یہ سلوک اس وقت پوری دنیا کے سامنے ہے اور یہ ہماری مزید بدنامی کا باعث بن رہا ہے کیونکہ پُرامن احتجاج کرنے والے نابینا افراد پر پولیس تشدد بنیادی انسانی حقوق اور ملکی و بین الاقوامی قوانین کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔

یہاں ایسی ہی صورتحال کی عکاسی کرنے والے عالمی شہرت یافتہ پرتگالی ادیب حوزے سارا ماگو کے مشہور ناول "Blindness” (نابینائی) کا ذکر بھی ضروری ہے۔ 1995ء میں شائع ہونے والے اس شاہکار ناول پر سارا ماگو کو ادب کا نوبل انعام دیا گیا۔ پاکستان میں اس کا اردو ترجمہ ”اندھے لوگ“کے نام سے ہوا۔ یہ کہانی ایک ایسے شہر کی ہے جہاں لوگ اچانک بغیر کسی بیماری کے اندھے ہونے لگتے ہیں. یہاں تک کہ اکثریت نابینا ہو کر بھٹکنے لگتی ہے۔ ناول میں انسانی رویوں کی تلخ سچائیوں کو اندھے پن کی علامت سے اجاگر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ہماری فکر اور شعور جب اس اندھے پن کا شکار ہوتا ہے تو ہم ایک دوسرے سے نظریں چراتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کہانی کے آخر میں سب لوگ اس اندھے پن کے عجیب و غریب طرز زندگی کے عادی ہونے لگتے ہیں تو ایک ایک کر کے ان کا اندھا پن ختم ہو جاتا ہے اور بینائی لوٹ آتی ہے۔

اس وقت ایک کردار ناول کا مرکزی خیال بیان کرتا ہے کہ ہم اندھے کیوں ہوئے تھے؟ میں نہیں جانتا شاید ایک دن ہمیں معلوم ہو جائے گا۔ ”میرا نہیں خیال کہ ہم اندھے ہوئے تھے۔ میرا خیال ہے کہ ہم اندھے ہیں، اندھے لیکن دیکھنے والے، اندھے لوگ جو دیکھ سکتے ہیں، لیکن نہیں دیکھتے۔۔۔“اس ناول کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اس میں کسی خاص شہر یا ملک کے نام یا کردارکا ذکر نہیں کیا گیا۔ لیکن اگر بغور جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس ناول میں شاید ہمارے دیس کے حالات ہی بیان کئے گئے ہیں کیونکہ جیسا رویہ ہمارے حکمرانوں کا اپنی رعایا کو ان کے بنیادی حقوق فراہم کرنے میں ہے، وہ اسی اندھے پن کا شکار لگتا ہے جس کا کہانی میں ذکر کیا گیا۔

حکومت کی معلومات کے لئے یہ بتانا ضروری ہے کہ ہم اندھے پن میں خاصے خودکفیل ہو چکے ہیں اور ہمارے ہاں ہر قسم کے اندھے پائے جاتے ہیں۔ کوئی آنکھوں والا اندھا ہے، تو کوئی عقل کا اندھا اور معاشرتی طور پر تو ہم ہیں ہی اندھے۔ کسی تھانے جانا پڑ جائے یا کسی پولیس والے سے پالا پڑ جائے تو وہاں بھی سب اندھے ہی نظر آئیں گے۔ کیونکہ پولیس والوں کو عمومی طور پر نہ کسی کی مجبوری نظر آتی ہے اور نہ ہی جرائم پیشہ افراد نظر آتے ہیں بلکہ جرم سرزد ہوتا دیکھ کر وہ نہ صرف خود فوری اندھے ہو جاتے ہیں بلکہ قانون کو بھی اندھا بنا دیتے ہیں۔ اسی طرح عدالتوں اور کچہریوں میں بھی ہمارا زیادہ تر واسطہ اندھے قانون سے پڑتا ہے۔ یعنی ہمارا قانون بھی اندھا ہے اور وہ کسی مصیبت زدہ کو دیکھ کر حرکت میں نہیں آتا جب تک کہ فائل کا پیٹ ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ بھرا نہ جائے۔ الغرض آپ کسی بھی سرکاری ادارے یا دفتر میں چلے جائیں آپ کا ایسے ہی آنکھوں والے ”اندھوں“ سے واسطہ پڑے گا۔ عوام بھی اسی طرح اندھے ہیں کہ جرم سرزد ہوتا دیکھ کر بھی برملا اپنے اندھے پن کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انھوں نے کچھ نہیں دیکھا۔ بعض اوقات ضروریات اور خواہشات بھی ہمیں اندھا بنا دیتی ہیں اور ہم اچھے برے کی تمیز بھول کر اس قسم کے آنکھوں والے اندھے بن جاتے ہیں جسے اپنے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ جب بطور ریاست یا معاشرہ ہم دوسروں کو تکلیف یا مصیبت میں دیکھ کر نظر انداز کر دیں تو پھر کسی اندھے یا آنکھوں والے میں کیا فرق رہ جاتاہے؟ جیسا کہ بقول شاعر:
یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

آج کے جدید دور میں دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک معذور افراد کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے قوانین بنا کر ان پر سختی سے عمل پیرا ہیں۔ بصارت سے محروم افراد کے لئے کام کرنے والے ممالک میں سپین سر فہرست ہے۔ سپین کے بارے میں یہ مقولہ مشہور ہے کہ اگر آپ بینائی کھو رہے ہیں تو آپ کو سپینش ہونا چاہیئے یا اگر کسی نابینا نے دنیا میں آنا ہے تو وہ سپین میں پیدا ہو۔ کیونکہ دنیا میں سپین کو بصارت سے محروم افراد کی جنت سمجھا جاتا ہے۔ اس کا کریڈٹ سپین کے ڈکٹیٹر فوجی حکمران فرانسسکو فرانکو اور اس کے قریبی ساتھی سیرانو سنر کو جاتا ہے۔جنھوں نے سپین میں خانہ جنگی کے دوران 13 دسمبر 1938ء کو نابینا افراد کو خدمات فراہم کرنے کے لئے ایک قومی ادارے کی بنیاد رکھی۔ سپینش زبان میں اس کا نام Organización Nacional de Ciegos Españoles یعنی (نیشنل آرگنائزیشن فار سپینش بلائنڈ پیپل) رکھا گیا۔ تاہم آج دنیا بھر میں اس کی شہرت "ONCE” کے نام سے ہے اور انگریزی زبان میں اسے ”اون سے“ کہا جاتا ہے۔ سپین میں 1936ء سے 1939ء تک خانہ جنگی جاری رہی جس میں بڑی تباہی ہوئی اور کوئی نہیں جانتا کہ کتنے افراد نابینا ہوئے۔ ڈکٹیٹر فرانکو نے نابینا افراد کی مشکلات ختم کرنے کے لئے اس ادارے کو قومی لاٹری بنانے کی اجازت دے دی اور اس انعامی لاٹری کا پہلا ڈرا آٹھ مئی 1939ء میں نکالا گیا۔

اس انعامی لاٹری کا سلسلہ آج تک جاری ہے اور بے حد ترقی کر چکا ہے۔ فرانکو کی وفات کے بعد جب سپین میں جمہوریت بحال ہوئی تو ”اون سے“ سپین کا سب سے کامیاب کاروباری اور دنیا بھر میں معذوروں کی امداد کے سب سے بڑے ادارے کے طور سامنے آیا۔ آج اگر آپ کو سپین میں جانے کا اتفاق تو آپ کو ہر جگہ سفید چھڑی پکڑے گہرے شیشوں والی عینک پہنے نابینا افراد ہر جگہ گھومتے پھرتے نظر آئیں گے جس کی ایک ہی وجہ ہے کہ یہاں نابینا بہت اچھے طریقے سے رہتے ہیں اور یہ سب ”اون سے“کے ملازمین ہیں۔ نابیناؤں کے لئے فنڈز اکٹھا کرنے کے لئے شروع ہونے والا لاٹری کا ٹکٹ پیر سے جمعے تک فروخت ہوتا ہے۔ جس پر پانچ یورو یعنی ڈیڑھ پاؤنڈ سے گیارہ ملین یورو یعنی 35 ہزار پاؤنڈ کا انعام رکھا گیا ہے۔ اس لاٹری کا کم ازکم انعام ڈیڑھ پاؤنڈ ہے جو سب سے چھوٹی ٹکٹ کی قیمت ہے۔ اسی طرح جمعہ کے روز بڑا انعام نکالا جاتا ہے جس کی ٹکٹ تین پاؤنڈ اور انعام 90 لاکھ پاؤنڈ ہے۔اگر ایک یا دو پاؤنڈ مزید خرچ کریں تو انعامی رقم بالترتیب ایک کروڑ بیس لاکھ پاؤنڈ اور ایک کروڑ پچاس لاکھ پاؤنڈ بن جاتی ہے۔

لاٹری کے ٹکٹس کی فروخت کے لئے سپین میں ہر شاہراہ، ایئرپورٹس، شاپنگ مالز میں کاونٹرز قائم ہیں جن پر جلی حروف میں ”اون سے“ لکھا نظر آتا ہے۔ ان تمام کاونٹرز میں مجموعی طور پر 20 ہزار نابینا افراد کام کرتے ہیں جو کہ ادارے کے قیام کا بنیادی مقصد ہے۔ آج ”اون سے“کے کل سٹاف کی تعداد 1,36000 ہے جس میں 88،5 فیصد معذور ہیں اور نابینا ملازمین کی تعداد 60 ہزار ہے۔ یوں آج پوری دنیا میں معذور افراد کو روزگار فراہم کرنے میں ”اون سے“کا مقابل کوئی نہیں ہے۔
امریکہ سمیت تمام ملکوں میں اندھے پن کا رشتہ بھیک مانگنے سے جڑا ہوا ہے اور نابینا افراد کو روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔امریکہ میں نابیناؤں کے لئے بیروزگاری کی شرح 70 فیصد ہے، جرمنی میں 41 ہزار نابینا ہیں اور 7000 کے پاس روزگار ہے جب کہ سپین میں نابینا افراد کے لئے بیروزگاری کی شرح صفر ہے۔ اسی لاٹری کی مدد سے ”اون سے“ ایک بزنس ایمپائر کھڑی کر چکا ہے اور ہوٹلز سے لے کر تعمیرات تک ہر شعبے میں کام کر رہا ہے۔ اپنے قیام کے 43 ویں سال 1982میں ”اون سے“نے منافع سے بڑا گائیڈ ڈاگ سکول، نابیناؤں کے لئے چھڑیاں اور بریل سیٹ بنانے والی فیکٹری، بولنے سے چلنے والا کمپیوٹر اور سماجی بحالی کے مراکز بھی بنائے۔ اسی طرح یہ ادارہ مائیکروسافٹ اور نابیناؤں کے لئے دیگر تکنیکی ایجادات پر بھی کام کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ادارے نے نابینا افراد کے لئے سپین میں Touch & Feel میوزیم بھی قائم کیا۔ اب یہ ادارہ 19 ممالک میں کام کر رہا ہے اور اس نے اپنا دائرہ کار دیگر معذوریوں میں مبتلا افراد تک بڑھا دیا ہے۔ ”اون سے“کے پاس کوئی حکومتی سبسڈی نہیں اور یہ ایک خودمختار بورڈ کے ذریعے کام کرتا ہے جسے ممبران ہر چار سال بعد منتخب کرتے ہیں جو سب کے سب نابینا ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سپین میں نابینا افراد کے لئے 1938ء میں کام شروع کیا گیا۔ جب کہ اس سے نو سال قبل 1930ء میں فرانس کے شہر پیرس میں بصارت سے محروم افراد کو درپیش مشکلات کا احساس کرتے ہوئے”سفید چھڑی“کا دن منایا جا چکا تھا جو آج نابینا افراد کی نمایاں پہچان بن چکی ہے۔ پیرس میں 15 اکتوبر 1930ء کو عام لاٹھیوں کو سفید رنگ دے کر اس دن کو متعارف کروایا گیا، اور پندرہ اکتوبر 1965ء سے اس دن کو باضابطہ طور پر اقوام متحدہ کے چارٹر میں شامل کیا گیا تاکہ نابینا افراد کو درپیش مسائل اور مشکلات سے معاشرے کو آگاہ کرتے ہوئے یہ باور کرایا جائے کہ معذور افراد بھی تھوڑی سی توجہ کے ساتھ ایک ذمہ دار شہری ثابت ہو سکتے ہیں۔

پاکستان میں یہ دن پہلی بار پندرہ اکتوبر 1972ء کو منایا گیا، مگر حکومتی عدم توجہی کے باعث یہ دن صرف منانے کی حد تک ہی محدود رہ گیا۔ پاکستان میں معذور افراد کی تعداد کے حوالے سے صوبہ پنجاب سرِ فہرست ہے۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان اس بات کا پابند ہے کہ اپنے معذور شہریوں کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے، لیکن اس کے باوجود ملک میں معذور افراد کی فلاح و بہبود کے لیے قومی بحالی و روزگار برائے معذوران ایکٹ 1981ء کے علاوہ کوئی جامع قانون موجود نہیں۔ اس ایکٹ کے تحت معذور افراد کا تمام نجی و سرکاری اداروں میں ملازمتوں کا تین فیصد کوٹہ، علاج کی مفت سہولتیں، اور اعضاء کی بحالی کے اقدامات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ معذور افراد کے بچوں کی سرکاری اداروں میں 75 فیصد جب کہ نجی اداروں میں 50 فیصد فیس معافی اور روزگار کی فراہمی کو لازم قرار دیا گیا۔

مگر بد قسمتی سے ہمارے ملک میں نہ تو اس ایکٹ پر عمل درآمد ہو سکا اور نہ ہی کوئی نیا قانون بن سکا۔ حکومت کی کسی امداد کے بغیر اعلی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود روزگار کے مواقع نہ ہونے کے باعث ہمارے ملک میں یہ خصوصی افراد سڑکوں پر احتجاج کرتے اور پولیس سے مار کھاتے نظر آتے ہیں۔ معذوروں کے ساتھ ایسے سلوک کی دنیا کے کسی بھی ملک میں دیکھنے کو مثال نہیں ملتی۔ لگتا ہے ریاست مدینہ کا دعویٰ کرنے والے حکمرانوں کو بھی آنکھوں کے علاج کی ضرورت ہے تاکہ انھیں یہ بصارت سے محروم افراد نظر آ سکیں جن کا احتجاج پہلی دفعہ آٹھویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔ ریاست کو اب اس بارے سنجیدگی سے عملی اقدامات کرنے چاہیں کیونکہ ہمارے یہاں سپین اور دیگر عالمی دنیا کی طرز پر اس طبقے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے ورنہ دنیا کو اسے معذور افراد کی جہنم سمجھنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔
یہ اندھوں کا شہر ہے بھائی اندھوں کا
وقت لگے گا آنکھیں ڈھونڈ کے لانے میں

Leave a Reply

Back to top button