خبریںپاکستان سے

پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپور راہداری کھولنے کے معاہدہ پر دستخط

ویب ڈیسک: پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپورراہداری کھولنے سے متعلق معاہدے کے مسودے پر دستخط کردیئے گئے۔
کرتارپور کے قریب زیرولائن پر پاکستان کی طرف سے دفترخارجہ کےترجمان ڈاکٹر محمد فیصل جبکہ بھارت کی طرف سے جوائنٹ سیکریٹری داخلہ ایس اسی ایل داس نے دستخط کئے۔
ڈاکٹرمحمد فیصل کے مطابق اس کے بعد آئندہ ماہ کی 9 تاریخ سے سکھوں کے روحانی پیشوا بابا گرو نانک کے پانچ سو پچاسویں جنم دن کے موقع پروزیراعظم عمران خان راہداری کا باضابطہ افتتاح کریں گے۔
معاہدے کے تحت سکھ یاتری بھارت سے کرتارپور صاحب یاترا کے لئے ہفتے کے ساتوں دن آئیں گے.
ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ معاہدے پر دستخط کی تقریب بھارت کی جانب سے پاکستان کے اس موقف کی تصدیق کے بعد ہو رہی ہے کہ کرتارپور آنے والے ہر فرد سے بیس ڈالرسروس فیس وصول کی جائے گی۔ یہاں کے خرچ کے حساب سے یہ ایک تہائی سے بھی کم ہے، ہمیں اس پراجیکٹ کو بہت آگے لے کر جانا ہے۔
ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ بھارت کے ساتھ پاکستانی سرحد کے اندر ساڑھے چار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع کرتارپور صاحب گوردوارہ کی یاترا کے لئے یومیہ پانچ ہزارسکھ یاتریوں کو اجازت دی جائیگی۔ یاتری اکیلے اور گروپ کی صورت میں بھی آسکتے ہیں، اگر کوئی پیدل آنا چاہے تو اس کو بھی اجازت ہو گی جب کہ بسیں بھی فراہم کی جائیں گی۔
رجمان کا کہنا تھا کہ یہ ویزا فری ٹریول ہے جس میں صرف شناخت کے لیے پاسپورٹ کی ضرورت ہوگا، یہ عمل بھی دو سے تین منٹ کا ہوگا اور پاسپورٹ پر اسٹیمپ بھی نہیں لگائی جائے گی، یاتری اسی طرح شام کو واپس روانہ ہو جائیں گے۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے کرتارپورراہداری منصوبے کا سنگ بنیاد 28 فروری 2018ء کو رکھا تھا، تقریباً ڈیڑھ سال میں دربار صاحب سے پاک بھارت سرحد تک ساڑھے چار کلو میٹر لمبی سڑک اور دریائے راوی پر پلُ کی تعمیر مکمل کی جا چکی ہے۔

Leave a Reply

Back to top button