خبریںپاکستان سے

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ایسے نہیں جہاں دھمکیوں کی زبان استعمال ہوتی ہو: سعودی عرب

ویب ڈیسک: سعودی عرب نے پاکستان کو کوالالمپور سمٹ میں شرکت نہ کرنے پر مجبور کرنے کی خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات ایسے نہیں جہاں دھمکیوں کی زبان استعمال ہوتی ہو.
سعودی عرب کے سفارت خانے نے میڈیا پر چلنے والی اس بے بنیاد خبر کی تردید کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کو کوالالمپور سمٹ میں شرکت نہ کرنے پر مجبور کیا ہے اور پاکستان کو دھمکی دی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تعلقات باہمی تزویراتی تعلقات ہیں جو اعتماد، افہام وتفہیم اور باہمی احترام پر قائم ہیں۔
سعودی عرب کے سفارت خانے کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بیش تر علاقائی، عالمی اور بہ طور خاص امت مسلمہ کے معاملات میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے، سعودی عرب نے ہمیشہ دوستانہ تعلقات کی بنیاد پر پاکستان کا ساتھ دیا ہے تا کہ پاکستان ایک کام یاب اور مستحکم ملک کے طور پر اپنا کردار ادا کر سکے۔
واضح رہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے کوالالمپور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان پر سعودی عرب کا دباؤ تھا، سمٹ میں پاکستان کیوں شریک نہیں ہوا، ہم اس کی مجبوریاں جانتے ہیں۔
طیب اردوان نے کہا تھا کہ سعودی عرب نے روزگار کے لیے موجود 40 لاکھ پاکستانیوں کو وطن واپس بھیجنے اور اسٹیٹ بینک میں رکھے اربوں ڈالر نکالنے کی دھمکی دی تھی، پاکستان معاشی مشکلات پر دباؤ میں آیا۔
ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے بھی بیان میں کہا تھا کہ پاکستان نے ملائیشیا سمٹ میں شرکت نہیں کی اور شرکت نہ کرنے کی وجہ امت مسلمہ کی تقسیم ہے۔ امت مسلمہ کے ممکنہ تقسیم کے خدشات دور کرنے کی کو ششوں کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Back to top button