تجزیہ

پاکستان تحریک انصاف سندھ دھیڑے بندی کا شکار…… ریاض احمد ساگر

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی طبی بنیادوں پر رہائی کے بعد علاج کی غرض سے کراچی آمد کی وجہ سے وفاقی حکومت کے لئے سندھ حکومت کے خاتمے کا منصوبہ کھٹائی میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد نہ صرف پیپلزپارٹی کے اراکین سندھ اسمبلی کے فارورڈ بلاک کی خبریں گردش کرتی رہی ہیں بلکہ اس معاملے پر پاکستان تحریک انصاف سندھ کی قیادت، پی ٹی آئی کے وفاقی وزراء اور گورنر سندھ بھی سندھ حکومت کے خاتمے کے بیانات دیتے رہے ہیں تاہم اب صورتحال یکسر تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور پاکستان تحریک انصاف سندھ خود دھڑے بندی کا شکار ہو چکی ہے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق سندھ سے پاکستان تحریک انصاف کے لگ بھگ 19 اراکین اسمبلی کا ایک ناراض گروپ سامنے آ گیا ہے جن میں سات رکن قومی اسمبلی اور بارہ اراکین سندھ اسمبلی ہی۔ اس سے قبل کراچی اور سندھ میں تنظیم سازی کے معاملے میں بھی پی ٹی آئی کے ذمہ داران میں شدید اختلافات سامنے آ چکے ہیں جس کی وجہ سے تنظیمی انتخابات کا معاملہ طویل عرصے تک کھٹائی میں پڑا رہا۔ جس کے بعد پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما اور چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی نے کراچی آ کر پارٹی کے داخلی انتشار کو ختم کرانے کی کوشش کی، تب جا کر کراچی کی تنظیم کے عہدیداروں کا اعلان کیا گیا تاہم پارٹی کے اندرونی ذرائع بتاتے ہیں کہ کراچی کے تنظیمی عہدیداروں کے مابین اختلافات موجود ہیں۔
سندھ کے ناراض پارلیمانی گروپ کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی شکایات وزیر اعظم تک پہنچانے کے لئے رسائی نہیں دی جا رہی ہے۔ ناراض گروپ نے دھمکی دیتے ہوئے مشترکہ لائحہ عمل بھی تشکیل دے دیا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ناراض گروپ پہلے مرحلے میں اسمبلیوں کے اجلاس کا بائیکاٹ کرے گا اور پھر استعفوں کا آپشن بھی استمعال کر سکتا ہے۔ سندھ میں پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات کے بعد اس کے لئے سندھ میں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کو گرانا بظاہر ممکن دکھائی نہیں دیتا کیونکہ اب آصف علی زرداری نے خود کراچی میں ڈیرہ جما لیا ہے۔ آصف علی زرداری کی کراچی میں موجودگی اور پی ٹی آئی سندھ کے داخلی انتشار کے بعد پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت میں فارورڈ بلاک کا سوچنے والے اراکین اسمبلی اپنی سوچ تبدیلی کرنے پر مجبور ہوں گے۔
آصف علی زرداری کی کراچی آمد کے موقع پر بلاول ہاؤس کراچی میں منعقدہ جنرل ورکرز اجلاس میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سخت لہجے میں وفاقی حکومت کو پیغام دیا ہے کہ اس کی جانب سے سندھ حکومت کے خاتمے کی کوششوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت دیگر صوبوں کی طرح سندھ میں بھی کٹھ پتلی حکومت کا خواب دیکھ رہی ہے۔ انہوں اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی 27 دسمبر کو لیاقت باغ راولپنڈی میں نہ صرف اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرے گی بلکہ وفاقی حکومت کے خاتمے کے لئے ملک گیر تحریک چلانے کا بھی اعلان کرے گی۔
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ 27 دسمبر کو بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر پیپلزپارٹی کا سندھ سے باہر سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنا اور وفاقی حکومت کے خاتمے لئے ملک گیر احتجاجی تحریک چلانا کتنا مؤثر ہو سکتا ہے یہ آنے والا وقت ہی بتا سکے گا تاہم اب پیپلزپارٹی سندھ حکومت کی تبدیلی کے خوف سے نکلتی دکھائی دے رہی ہے۔ سیاسی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نہ صرف سندھ میں اندرونی خلفشار کا شکار ہے بلکہ سندھ میں اس کے اتحادی بھی پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت سے مایوس دکھائی دے رہے ہیں۔ اس حوالے سے وفاقی حکومت کی سندھ سے اتحادی جماعت ایم کیو ایم پاکستان تسلسل کے ساتھ یہ شکوہ کرتی آ رہی ہے کہ وفاقی حکومت ایم کیو ایم سے کئے جانے والے معاہدوں پر سست روی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ جمعہ 13دسمبر کو ایم کیو ایم پاکستان نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں رابطہ کمیٹی کے منعقدہ اجلاس میں وفاقی حکومت اور ایم کیو ایم کے مابین ہونے والے معاہدوں پر عملدرآمد سست ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ایم کیو ایم کچھ عرصہ سے حکومتی حلقوں کو آگاہ کرتی آ رہی ہے کہ ان کے ساتھ کئے جانے والے معاہدوں کی پاس داری نہیں کی جا رہی جس کی وجہ سے پارٹی عہدیدار اور ان کے ووٹرز پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ حکومت سے نکل جائیں۔ اس حوالے سے ایم کیو ایم کی اعلیٰ قیادت وزیراعظم کو اپنے تحفظات سے آگاہ کر چکی ہے جس پر وزیر اعظم عمران خان نہ صرف کراچی پیکیج پر تیز رفتاری سے عملدرآمد کی یقین دہانی کرا چکے ہیں بلکہ فنڈز کا اجراء بھی کر چکے ہیں تاہم کراچی پیکیج پر عملدرآمد کی رفتار سست روی کا شکار ہے۔
ادھر ایم کیو ایم پاکستان نے ملک میں آٹھ صوبے بنانے کا بل قومی اسمبلی میں جمع کرا دیا ہے۔ اس بل میں پنجاب میں تین، کے پی کے اور سندھ میں دو دو صوبے بنانے کی بات کی گئی ہے۔ ایم کیو ایم کی جانب سے سندھ میں دو صوبے بنانے کا بل قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے پر پیپلزپارٹی نے اسے سندھ کے خلاف ایک سازش قرار دے دیا ہے۔ اس حوالے سے سندھ کے وزیر اطلاعات سعید غنی نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے سندھ کی تقسیم کے حوالے سے ایم کیو ایم کی حمایتی جماعتیں اپنا مؤقف واضح کریں۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ میں دوسرا صوبہ بنانے کی تجویز اگرچہ ایم کیو ایم کی جانب سے آتی رہی ہے مگر ایم کیو ایم نے کبھی بھی اس معاملے پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ اس معاملے کو سیاسی بلیک میلنگ کے طور لیا ہے۔ ایم کیو ایم جب زیادہ طاقتور اور متحد تھی اس وقت بھی ایم کیو ایم نے اس مطالبے کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور اس سے سیاسی فوائد اٹھائے۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم نے جتنی دفعہ سندھ میں نئے صوبے کا مطالبہ کیا اتنی دفعہ اس مطالبے سے رجوع بھی کیا ہے۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم جو اب تک تو صوبے میں کوٹہ سسٹم ختم نہیں کرا سکی، وہ سندھ میں نیا صوبہ کیسے بنوا پائے گی۔

Leave a Reply

Back to top button