تجزیہسیاسیات

پاکستان تحریک انصاف کی 7ماہ بعد اسمبلی میں واپسی‘ ایم کیو ایم کا اظہار ناراضگی

اسلام آباد: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما فاروق ستار نے آج پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پی ٹی آئی کے اراکین کی شرکت کو غیر قانونی وغیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں جمہوریت کا مذاق اڑایا گیا ہے۔

اجلاس کے بعد دیگر اراکین کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں فاروق ستار نے تحریک انصاف کی 7 ماہ بعد اسمبلی میں واپسی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی آج کے اجلاس میں شرکت غیر قانونی وغیرآئینی ہے، کیونکہ آئین کے تحت 40 روز تک اسمبلی سے غیر حاضر رہنے والا رکن ڈی سیٹ ہوجاتا ہے۔

ایم کیو رہنما کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 64 کی شق 8 کے تحت جیسے ہی کوئی رکن پارلیمنٹ استعفیٰ دیتا ہے، وہ منظور ہوکر نافذ العمل ہوتا ہے اور اس کی آئینی حیثیت ہوتی ہے۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اراکین نے استعفے دینے کے بعد 7 ماہ تک واپس نہیں لیے اور آج پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے چیئرمین کی حیثیت سے اسپیکر اسمبلی سردار ایاز صادق نے انہیں اسمبلی میں آنے کی اجازت دی، لیکن انہیں اس کا صوابدیدی اختیار نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کے بلند و بانگ دعوے کرنے والے اپنی مصلحتوں کے لیے آئین کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں اور آئین کا مذاق اڑایا جارہا ہے، جبکہ آئین ہمارا تابع نہیں ہے بلکہ ہم آئین کے تابع ہیں۔

فاروق ستارکا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے استعفوں پر وضاحت نہ ملنے تک ہم احتجاج کرتے رہیں گے اور واک آؤٹ یا بائیکاٹ سمیت احتجاج کے ہر طریقہ کو اختیار کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ آج شام 5 بجے اس فیصلے سے متعلق آگاہ کیا جائے گا۔

تحریک انصاف اسمبلی میں ‘اجنبی’ و ‘نامحرم’ قرار

اس موقع پر ایم کیو ایم رہنما خالد مقبول صدیقی نے تحریک انصاف کے اراکین کو اسمبلی میں ‘اجنبی’ اور ‘نامحرم’ قرار دے دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ استعفے تین طلاق کی طرح ہوتے ہیں، "دے دیئے تو منظور ہوگئے”۔

خالد مقبول صدیقی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘اگر یہ اجنبی اسمبلی میں ہو سکتے ہیں تو کوئی بھی اسمبلی میں ہوسکتا ہے’۔

انہوں نے سوال کیا کہ 1990ء میں جب ‘ہم لوگ روپوش ہوئے تھے اور ہم نے استعفے دیے تو ہمارے چہرے دیکھے بغیر استعفے منظور کرلیے گئے تھے، تو پھر وہ لوگ جنہوں نے ازخود جاکر استعفے دیے، ان کے استعفے کس طرح نامنظور ہوسکتے ہیں’۔

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ وہ لوگ جنھوں نے 40 دن بلکہ 7 ماہ تک رجوع بھی نہیں کیا، ہر لحاظ سے اسمبلی کے لیے ‘نامحرم’ اور ‘اجنبی’ ہیں اور ان کی موجودگی میں بیٹھنا پارلیمنٹ اور ایوان کے اراکین کے لیے توہین ہے۔

Leave a Reply

Back to top button