خبریںپاکستان سے

پاکستان سی پیک کے حوالے سے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار رکھتا ہے: امریکا

ویب ڈیسک: امریکی سفیر نے کہا ہے کہ پاکستان، پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کے حوالے سے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار رکھتا ہے۔
اسلام آباد میں تعینات امریکی سفیر پاؤل ڈبلیو جونز کا کہنا تھا کہ امریکی معاون سیکریٹری ایلس ویلز کے سی پیک کے حوالے سے دیے گئے بیان کا مقصد ایک مباحثہ شروع کرنا تھا تاہم یہ پاکستان کا مکمل اختیار ہے کہ (اس سے منسلک) مستقبل کا خود فیصلہ کرے۔
پاکستان کے موقر انگریزی اخبار’’ڈان‘‘ کی رپورٹ کے مطابق ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس بات کی توقع نہیں کرتے کہ ہر کوئی ہماری بات سے یا امریکی عہدیدار کی تقریر کے ہر پہلو سے اتفاق کرے۔
امریکی سفیر کے فنڈ برائے تحفظ ثقافت کے تحت تاریخی مسجد وزیر خان کی بحالی کے کام کا جائزہ لینے کے لیے کیے گئے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاول ڈبلیو جونز کا مزید کہنا تھا کہ ایلس ویلز کی تقریر پر بہت زیادہ مباحثے اور بات چیت ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایلس ویلز کا بیان سمجھنا چاہیے اور اسے مثبت انداز میں لینا چاہیے، اس بیان کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
امریکی سفیر نے مزید کہا کہ نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک میں بھی عوام کی خوشحالی کے لیے ترقی کا راستہ اہم ہوتا ہے، اس لیے اسے شفاف ہونا چاہیے اور اس پر کھل کر بات چیت ہونی چاہیے۔
خیال رہے کہ ایک ’غیر معمولی‘ تقریر کرتے ہوئے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں جنوبی ایشیائی امور کی سب سے اعلیٰ عہدیدار ایلس ویلز نے کہا تھا کہ یہ کثیر الارب (ملٹی بلین) ڈالر منصوبہ (سی پیک) پاکستانی معیشت کے لیے ادائیگی کے وقت مشکلات کا سبب بنے گا۔
ایلس ویلز کے بیان پر ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان میں تعینات چینی سفیر یاؤ جِنگ نے سی پیک منصوبے میں کرپشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا، سی پیک پر کرپشن کے الزامات لگاتے ہوئے احتیاط کرے۔
انہوں نے کہا تھا کہ سی پیک کے بارے میں کرپشن کی بات کرنا تب آسان ہے، جب آپ کے پاس درست معلومات نہ ہوں، ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ نیب اور حکومتی ایجنسیوں کو سی پیک منصوبوں میں کرپشن کے کوئی ثبوت نہیں ملے اور مکمل شفافیت پائی گئی لہٰذا امریکا، سی پیک پر کرپشن کے الزامات لگاتے ہوئے احتیاط کرے۔
دوسری جانب پاکستان نے بھی سی پیک کے حوالے سے امریکی خدشات کو مسترد کردیا تھا۔
وزیر خارجہ خورشید محمود قریشی نے ردِ عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کہنا کہ سی پیک کی وجہ سے ہمارے ڈیبٹ سروسنگ (قرض) میں بے پناہ اضافہ ہوگا یہ درست نہیں ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہا سی پیک کے منصوبے جاری رہیں گے بلکہ توسیعی منصوبے کے تحت اس کے فیز ٹو کا آغاز کردیا گیا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہماری معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے۔

Leave a Reply

Back to top button