HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » خبریں » اقتصادیات » پاکستان میں تیل و گیس کے نئے ذخائر، امید یا حقیقت؟

پاکستان میں تیل و گیس کے نئے ذخائر، امید یا حقیقت؟

پڑھنے کا وقت: 5 منٹ

منصور مہدی …..

ہمارے وزیراعظم عمران خان گزشتہ کئی روز سے کئی بار کہہ چکے ہیں کہ قوم کو جلد بڑی خوشخبری مل سکتی ہے کہ کراچی کے نزدیک سمندر کے نیچے سے تیل اور گیس کا بڑا ذخیرہ دریافت ہونے کی امید ہے۔ ان کے بقول یہ خوشخبری آئندہ تین ہفتوں میں سامنے آ سکتی ہے اور اگر ایسا ہو گیا تو پاکستان کے تمام معاشی مسائل حل ہو جائیں گے اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔ عمران خان کے اس بیان کو سوشل میڈیا کے علاوہ بھارت کے اخبارات اور ایم ایس این جیسے آن لائن جوائنٹس نے بھی شہہ سرخیوں میں کوریج دی ہے۔
اس حوالہ سے بہت کچھ لکھا اور کہا جا رہا ہے،

کچھ ماہرین نے تیل و گیس کے ذخائر دریافت ہونے کی صورت میں پاکستان کو اوپیک کا حصہ نہ بننے کا مشورہ دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو تیل و گیس کے ذخائر دریافت ہونے کے بعد تیل کی پیدوار اور قیمتوں کا تعین کرنے والی تنظیم اوپیک کا حصہ بننے سے گریز کرنا چاہیئے۔ تیل کی پیدوار اور قیمتوں کا تعین کرنے والی تنظیم تیل کی قیمتوں اور پیداوار کے معاملے پر پاکستان کو بلیک میل کر سکتی ہے۔ پاکستان اس تنظیم کا حصہ بنے بنا ہی ممالک سے براہ راست تیل کی فروخت کے معاہدے کر سکتا ہے۔ جبکہ سعودی عرب بھی پاکستان کو اہمیت دینے پر مجبور ہو جائے گا۔

وزارت پٹرولیم کے سابق سیکرٹری ڈاکٹر گلفراز احمد کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اگر دوسری مرتبہ اس بات کو دہرا رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ انہیں وزارت پٹرولیم کی جانب سے، جو تیل اور گیس کی تلاش کو ریگولیٹ کرتی ہے، معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ کوئی شک نہیں کہ اس وقت کراچی کے نزدیک سمندر کیکڑا۔ون سے موسوم علاقے میں چار کمپنیاں ڈرلنگ (کھدائی) میں مصروف ہیں۔ دو کمپنیاں پاکستانی ہیں، او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل جبکہ دو غیر ملکی کمپنیوں میں اٹلی کی ای این آئی اور ایگزون موبائل شامل ہیں۔
ڈاکٹر گلفراز کہتے ہیں کہ ڈرلنگ بہت مہنگی مشق ہے۔ کیکڑا ون میں ڈرلنگ کی لاگت 80 ملین ڈالر آ رہی ہے جو گیس کمپنیاں خود خرچ کریں گی اور چاروں کمپنیاں برابر سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ ان کے بقول گیس کمپنیاں اس وقت تک ڈرلنگ شروع نہیں کرتیں، جب تک کہ انہیں ابتدائی سائنسی تجزیے مثبت اشارے نہ دے رہے ہوں۔ ڈاکٹر گلفراز کی معلومات کے مطابق تلاش کے دوران ”پریشر کِک“ ہوئی ہے اور اس دوران گیس کے شوز بھی آتے رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ کیکڑا۔ون کے علاقے میں سورس راک ہے جو بہت گہری ہے۔ اس سے گیس پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ بہت بڑا سائزایبل سٹرکچر ہے، اگر دریافت کامیاب رہی تو بہت بڑی دریافت ہو گی۔ تاہم وہ یہ کہتے ہیں کہ ذخیرہ کے جس قدر بھی قریب تک کھدائی کر لیں، حتمی کامیابی اسی وقت ہوتی ہے جب ذخیرے کے اندر ڈرلنگ ہو، اس کے پاس پہنچنا زیادہ معنی نہیں رکھتا۔

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ غالب امکان یہی ہے کہ یہ ذخیرہ محفوظ ہے، اگر اس میں لیکج ہوتی تو ابتدائی جائزوں میں پتا چل جاتا اور کمپنیاں ڈرلنگ تک نہ جاتیں۔

جبکہ دیگر ماہرین وزیراعظم کے جانب سے اس بیان کو غیر مناسب اور قبل از وقت خیال کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک جس علاقے میں تیل اور گیس کے ذخیرے کے برآمد ہونے کی بات کی جا رہی ہے، وہاں کامیابی کے امکانات بارہ فیصد سے زیادہ نہیں۔ ہمارے وزیر اعظم پاکستانیوں کی خوشی اور خوشحالی کے لئے بے چین ہیں اور اسی بنا پر وہ سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے لئے کھودے جانے والے کنویں کیکڑا نمبر 1 کے بارے میں پرجوش و پرامید نظر آ رہے ہیں۔ تاہم اس ضمن میں جلد بازی ان کے منصب کے شایانِ شان نہیں۔ پرامید ہونا تو اچھی بات ہے لیکن کھدائی کی تکمیل سے پہلے ہی ایشیا میں تیل و گیس کے سب سے بڑے ذخیرے کے دریافت کی خوش خبری سنا دینا ہمارے خیال میں کسی طور مناسب نہیں۔

 

تیل کے ذخیرے کی دریافت کے لئے چند اہم باتیں
تیل کے ذخیرے کی دریافت کیجگہ مسام دار چٹانیں جیسے چونے کا پتھر یا ریت ضروری ہیں، جن میں تیل یا گیس جمع رہے۔ تیل گیس اور پانی زیر زمین چٹانوں کے مسامات میں اسی طرح جمع رہتے ہیں جیسے اسفنج میں پانی۔ یہ مسام دار چٹانیں ہی کیکڑا کا ہدف ہے۔

دوسری ضروری چیز یہ ہے کہ اس مسام دار چٹان کے اوپر ایک غیر مسام دار چٹان موجود ہو جو اس تیل و گیس کے ذخیرے کو محفوظ رکھ سکے۔ اگر ذخیرے کے اوپر چٹانوں کی کوئی سخت پرت موجود نہ ہو یہ تیل و گیس اوپر اور دائیں بائیں لیک ہو جائے گی۔

تیسری اہم بات یہ ہے کہ اس جگہ کی ساخت و بناوٹ ایسی ہو کہ تیل و گیس ہر طرف سے سمٹ کر ذخیرے کی طرف آ سکے۔

ان تینوں نکات کا حتمی تعین اسی صورت ہو سکتا ہے جب ہدف تک کامیابی سے کھدائی مکمل کر لی جائے اور محض کھدائی کافی نہیں بلکہ مسامات کے تجزئے و پیمائش، ذخیرے میں موجود تیل و گیس کی مقدار کے تعین، اس کے دباو¿ اور غیر مسام دار چٹان کے تجزئے کے لئے تفصیلی پیمائش و آزمائش کے بعد ہی تیقن کے ساتھ کچھ کہا جاسکتا ہے۔ اس سے پہلے ہونے والے مشاہدات و نشانات سے کچھ اندازہ تو ہوتا ہے لیکن اس کی بنیاد پر امید قائم کر لینا مناسب نہیں۔

سانگھڑ اور گمبٹ میں پی پی ایل کے دو کنوﺅں سے تیل اور گیس کے ذخائر ملے ہیں، اعلامیے کے مطابق ایک کنویں سے 18.6 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دریافت ہوئی جب کہ دوسرے کنویں سے 12 ملین مکعب فٹ گیس دریافت ہوئی ہے۔ اس طرح پاکستان پیٹرولیم نے دونوں کنوﺅں سے 317 بیرل یومیہ تیل نکلنے کا تخمینہ لگایا ہے۔
اس ضمن میں آج کل پریشر ککس کا بڑا شور ہے اور لوگوں کا خیال ہے کہ یہ زیر زمین تیل و گیس کے غیر معمولی دباو¿ کا مظہر ہے۔ پریشر ککس کو سمجھنے کے لئے احباب تصور کریں کہ چار پانچ ہزار میٹر مٹی سے دبی چٹانوں میں مائعات (تیل ، پانی یا گیس) پھنسے ہوتے ہیں اور جب کھدائی کے دوران اوپر کی پرت ادھڑتی ہے تو یہ مائع پوری قوت سے کنویں کے راستے اوپر کی طرف اٹھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس دباو¿ کا مقابلہ کرنے کے لئے پانی میں مختلف کیمیکل ملا کر نیچے پمپ کیا جاتا ہے جسے کیچڑ یا Mud کہتے ہیں۔کیچڑ کی کمیت بڑھانے کے لئے اس میں وزن دار کیمیکل جیسے بیرائٹ ملایا جاتا ہے جس کی وجہ سے کیچڑ بھاری ہو جاتا ہے۔ کیچڑ سے زیر زمین پڑنے والے دباو¿ کو Hydrostatic Pressure کہتے ہیں۔ جبکہ زیر زمین اوپر کی جانب دباو¿ Formation Pressure کہلاتا ہے۔ کوشش کی جاتی ہے کہ Hydrostatic Pressure زیر زمین دباو¿ سے اتنا زیادہ تو ہو کہ چٹانوں میں پھنسا مائع اوپر کی جانب سفر نہ کر سکے لیکن اتنا زیادہ بھی نہ ہو کہ اس کے دباو¿ سے زیر زمین چٹانیں ٹوٹ پھوٹ جائیں۔

جواب دیجئے