سپورٹس

پاکستان کا آسٹریلیا کے خلاف تاریخی وائٹ واش

پاکستان نے ابو ظہبی میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں آسٹریلیا کو 356 رنز کے ریکارڈ مارجن سے شکست دے کر سیریز میں 2-0 سے تاریخی وائٹ واش کر لیا۔

یہ 20 سال بعد پاکستان کی آسٹریلیا کے خلاف کسی ٹیسٹ سیریز میں پہلی کامیابی ہے جبکہ 32 سال بعد وائٹ واش کیا ہے۔

آسٹریلیا نے 603 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 143 رنز چار کھلاڑی آؤٹ سے اپنی دوسری نامکمل اننگ کا دوبارہ آغاز کیا تو مچل مارش اور اسٹیون اسمتھ وکٹ پر موجود تھے۔

دونوں کھلاڑیوں نے محتاط انداز سے بلے بازی شروع کی اور پاکستانی باؤلرز کو کافی پریشان کرتے ہوئے پانچویں وکٹ کے لیے سنچری شراکت قائم کی۔

اس موقع پر یہ شراکت خطرناک شکل اختیار کرتی جارہی تھی کہ محمد حفیظ نے مچل مارش کو اسد شفیق کی مدد سے پویلین رخصت کردیا، وہ 47 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

اس کے بعد آنے بریڈ ہیڈن اور اسمتھ نے کھانے کے وقفے تک مزید کوئی اور وکٹ نہ گرنے دی اور کھانے کے وقفے تک پانچ وکٹ پر 238 رنز بنا لیے تھے۔

لنچ کے بعد کا کھیل آسٹریلیا کے لیے کسی بھیانک خواب سے کم نہ تھا جہاں دوسری ہی گیند پر اسمتھ آؤٹ ہو گئے، انہوں نے 97 رنز بنائے۔

اگلے ہی اوور میں ذوالفقار بابر نے بریڈ ہیڈن کی وکٹیں بکھیر کر آسٹریلیا کو ساتویں وکٹ سے محروم کردیا۔

کھانے کے وقفے کے بعد تیسرے اوور میں یاسر شاہ نے مچل جانسن کو باؤلڈ کر کے آسٹریلیا کو آٹھواں نقصان پہنچایا۔

اسکور 245 تک پہنچا تو یاسر شاہ نے مچل اسٹارک کو کلین باؤلڈ کر کے پاکستان کو فتح سے مزید قریب کردیا۔

اگلے ہی اوور میں ذوالفقار بابر نے ناتھن لایون کو آؤٹ کر کے پاکستان کو 356 رنز کی تاریخی فتح سے ہمکنار کرا دیا۔

آسٹریلیا کی آخری پانچ وکٹیں صرف آٹھ رنز کے اضافے سے گریں۔

پاکستان کی جانب سے اسپنرز نے آسٹریلیا کا کام تمام کرتے ہوئے تمام وکٹیں حاصل کیں، ذوالفقار بابر نے پانچ، یاسر شاہ نے تین اور حفیظ نے دو وکٹیں حاصل کیں۔

کپتان مصباح الحق کو دونوں اننگ میں سنچری اسکور کرنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی جبکہ یونس کو سیریز میں شاندار بلے بازی پر مین آف دی سیریز کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔

یاد رہے کہ رنز کے اعتباد سے پاکستان کی آسٹریلیا کے خلاف سب سے بڑی فتح ہے۔

اس سے قبل قومی ٹیم نے 2006 میں ہندوستان کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں 341 رنز سے فتح حاصل کی تھی۔

واضح رہے کہ پاکستان نے پہلے میچ میں آسٹریلیا کو 221 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دے تھی۔

کپتان مصباح الحق کے کیے یہ سیریز انتہائی خوش قسمتی کی علامت ثابت ہوئی تو اس کے ساتھ ساتھ وہ پاکستان کے کامیاب ترین کپتانوں کی فہرست میں بھی آگئے۔

مصباح نے بطور قائد 14 فتوحات حاصل کر کے پاکستان کے کامیاب ترین کپتان کی فہرست میں عمران خان اور جاوید میانداد کو جوائن کر لیا، دونوں نے 14 فتوحات حاصل کی تھیں۔

اس میچ میں فتح کے ساتھ ہی پاکستان عالمی رینکنگ میں نمبر چھ سے نمبر تین پر آگیا ہے ہاں پہلے نمبر جنوبی افریقہ اور دوسرے پر آسٹریلین ٹیم موجود ہے۔

Leave a Reply

Back to top button