Uncategorized

پاکستان کا وہ ریلوے اسٹیشن جو تاریخ کا حصہ بن گیا

r1

گولڑہ شریف ریلوے اسٹیشن کی تعمیر 1881 میں ہوئی

"چائے گرم، گرما چائے”، یہ آواز میرے ذہن میں اس وقت گونجی جب میں گولڑہ شریف ریلوے اسٹیشن میں چہل قدمی کررہا تھا حالانکہ یہاں آنے والے افراد کے لیے چائے دستیاب ہی نہیں۔ ایک درخت کے سائے تلے ایک پرانے سائن بورڈ میں چائے کا اشتہار پانچ زبانوں انگلش، اردو، گورمکھی، ہندی اور بنگالی میں لگا ہوا تھا۔

گولڑہ شریف ریلوے اسٹیشن اسلام آباد کے مضافات میں واقع ہے جو ماضی کی جھلک پیش کرتا ہے۔ تارکول سے بنی سڑک اسٹیشن کی جانب لے جاتی ہے مگر اس کے آخر میں آپ کو ارگرد اپنی منزل کا نشان پوچھنا ہی پڑتا ہے۔

1

گولڑہ شریف جنکشن کا ایک سائن بورڈ

یہ اسٹیشن آنے والوں کا استقبال برگڈ کے پرانے درختوں کے نظارے، بھاپ سے چلنے والے انجنوں، ایک چھوٹی وکٹوریہ انداز کی عمارت اور پرسکون ماحول کے ساتھ کرتا ہے۔

اس کا قیام 1881 میں عمل میں آیا اور اسے 1912 میں ایک جنکشن کی حیثیت دی گئی اور گولڑہ شریف ریلوے اسٹیشن ارگرد کے دیہات کے رہائشیوں کو ایک صدی تک سفر کی سہولت فراہم کرتا رہا۔

اگرچہ حالیہ برسوں میں اس اسٹیشن کو استعمال کرنے والے افراد کی تعداد میں کمی آئی ہے تاہم اسسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر اطہر منیر کے مطابق ” اب بھی سو سے زائد مسافر روزانہ یہاں سے سفر کرتے ہیں”۔

2

لگ بھگ سو سال پرانا ایک نیرو گیج اسٹیم انجن

مگر یہ تعداد مذہبی تہواروں جیسے ملتان میں عرس کے موقع پر بڑھ جاتی ہے، اطہر منیر بتاتے ہیں ” متعدد افراد مہر ایکسپریس کے ذریعے ملتان کا سفر کرتے ہیں”۔

مہر ایکسپریس یہاں رکنے والی دو ٹرینوں میں سے ایک ہے حالانکہ اس لائن سے روزانہ بیس کے لگ بھگ گاڑیاں گزرتی ہیں تاہم جو دوسری ٹرین یہاں رکتی ہے وہ حویلیاں پسنچر ہے۔

3

ڈیزل انجن کا ایک ماڈل جو اب پاکستان ریلوے استعمال کرتی ہے

اطہر منیر نے بتایا ” یہ ریلوے اسٹیشن مرکزی ریلوے لائن پر واقع ہے جو پشاور کو کراچی سے ملاتی ہے”۔

پنجاب کو ملک کے شمال مغری علاقوں سے ملانے والا یہ اسٹیشن برطانوی عہد میں ‘ گریٹ گیم’ اور افغانستان میں فوجی مہمات کے دنوں میں لاجسٹک شریان کے طور پر تعمیر کیا گیا اور یہ اہم تجارتی راستوں میں سے ایک کے طور پر بھی کام کرتا رہا۔

آج گولڑہ شریف ریلوے اسٹیشن کو سفر کی بجائے ریلوے ثقافتی میوزیم کے طور پر زیادہ جانا جاتا ہے جس کا قیام اکتوبر 2003 میں عمل میں آیا اور یہ میوزیم اپنی طرز کا منفرد مقام ہے جو بند ہالوں تک مھدود نہیں بلکہ اس میں پرانی ٹرینیں، بھاپ کے انجن اور لفٹرز وغیرہ شامل ہیں۔

4

برطانوی عہد کا ایک لفٹر

یہاں آنے والے افراد کوچز کے ساتھ لگے پرانے انجنوں کے گرد گھوم سکتے ہیں، ایسے دو انجن گیج اسٹیم انجنز ہیں جبکہ دیگر دو براڈ گیج انجنز ہیں۔ ان براڈ گیج انجنز میں سے ایک کینیڈین اسمبلڈ اسٹیم انجن ہے جبکہ دوسرا برقی انجن ہے جو پہلے کبھی لاہور، خانیوال ٹریک پر استعمال کیا جاتا تھا۔

ان انجنوں کے ساتھ لگی بوگیوں کی تاریخ بھی بھرپور ہے اور کہا جاتا ہے کہ ان کا تعلق لارڈ ماﺅنٹ بیٹن اور جودھ پور کے مہاراجہ سے ہے۔ علاوہ ازیں ایک جرمن پوسٹل بوگی اور برطانوی عہدی کی پرتعیش کوچز بھی آنے والوں کی توجہ کا مرکز ہوتی ہیں۔

مسافروں کا پرانا ویٹنگ روم اب ریلوے کی تاریک کے قابل قدر حصوں کا گھر بن چکا ہے، 1880 کے زمانے کے ریلوے ٹولز اور باقیات کو ان ریلوے آلات کے ساتھ رکھا گیا ہے جن پر پاکستان نے 1965 کی پاک ہندوستان جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا جن میں پرانی گنیں، ملبوسات، آئل لیمپس، لائٹس، برتن، گھنٹیا، ٹیلیونز، ٹرین ماڈلز، چولہے، ہیٹرز، پنکھے، طبی آلات، فرنیچر، دستاویزات اور فوٹوگرافس وغیرہ شامل ہیں۔

5

چائے کا ایک اشتہار جو پانچ مختلف زبانوں میں ہے

بیشتر نوادرات برطانوی راج کے عہد سے تعلق رکھتے ہیں جب پاکستان ریلوے کو نارتھ ویسٹرن ریلوے کے طور پر جانا جاتا تھا۔

پاکستان ریلوے کے عملے کے ایک رکن اور میوزیم گائیڈ فریدالحق نے بتایا ” میوزیم میں رکھی اشیاءملک بھر سے اکھٹی کی گئی ہیں اور ان میں بیشتر ابھی بھی کارآمد ہیں”۔

6

وکٹورین انداز کا ایک سیوریج پائپ

انہوں نے بتایا کہ ویٹنگ روم کا 1882 میں تعمیر کیا گیا اور ان کا دعویٰ تھا کہ اسے حقیقی شکل میں رکھا جارہا ہے۔

فرید الحق کے مطابق عام دنوں میں بیس سے تیس افراد یہاں آتے ہیں جبکہ ویک اینڈ کافی مصروف گزرتا ہے کیونکہ یہ تعداد سو سے تجاوز کرجاتی ہے۔ اسی طرح اسکولوں کی جانب سے بھی طالبعلموں کو یہاں لایا جاتا ہے اور میوزیم میں انٹری فیس دس روپے ہے جو کہ درحقیقت ایک پلیٹ فارم ٹکٹ ہوتا ہے۔

7

برطانوی عہد کا ٹیلیفون جو اس زمانے میں ریلوے اسٹیشنوں میں کمیونیکشن کے لیے استعمال ہوتا تھا

انہوں نے بتایا کہ گولڑہ سے ٹیکسلا تک ایک خصوصی ٹرین سفاری ٹرین بھی چلائی گئی تاہم گزشتہ چند برسوں سے یہ مستقل طور پر کام نہیں کررہی ” اب یہ صرف بکنگ کے ذریعے ہی دستیاب ہوتی ہے، عام طور پر اسکولوں یا کالجوں کی جانب سے اسے بک کرایا جاتا ہے یا اشتہاری ایجنسیاں اسے شوٹنگ کے لیے لیتی ہیں”۔

یہ اسٹیشن میوزیم اسلام آباد کے چند تفریحی مقامات میں سے ایک ہے مگر اس کے باوجود جڑواں شہروں کے بیشتر رہائشی اس کے بارے میں زیادہ جانتے نہیں۔

8

میوزیم میں رکھا براڈ گیج اسٹیم انجن کا ایک ماڈل جس کا حقیقی انجن بھی گولڑہ شریف ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر کھڑا ہے

ذوالقرنین عباسی راولپنڈی کے ایک رہائشی ہیں جو اس میوزیم میں اپنے خاندان کے ہمراہ سیر کے لیے آئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انہیں اس مقام کے بارے میں ایک دوست کی جانب سے سوشل میڈیا پر تصاویر شیئر کرنے سے معلوم ہوا۔

حسن ابدال اور ٹیکسلا سے موازنہ کرتے ہوئے ذوالقرنین نے کہا کہ یہ میوزیم ” بہت اچھے طریقے سے چلایا جارہا ہے اور میں یہاں موجود ریلوے کے عملے کو سراہتا ہوں جو بہت زیادہ تعاون کرنے والا ہے”۔

تاہم انہیں لگتا ہے کہ اس مقام کے حوالے سے بہتر انداز میں اشتہاری مہم چلائے جانے کی ضرورت ہے۔

9

بارش کے دنوں میں بھیگتا ریلوے اسٹیشن

یہاں سیر کے لیے آنے والے ایک اور فرد محمد مدثر نے کہا کہ وہ اسلام آباد میں اتنے پرامن اور تاریخی مقام کی موجودگی کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے ” میں یہاں چائے کے ایک کپ کو بہت مس کررہا ہوں”، یہ بات انہوں نے چائے کے سائن بورڈ کو دیکھتے ہوئے کہی اور مزید کہا کہ ” ان پرانے درختوں کے سائے تلے اور اسٹیم انجنز کے قریب چائے کا ایک کپ مزے کو دوبالا کرسکتا ہے”۔

10

Leave a Reply

Back to top button