HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » سیاسیات » پاک ایران مثالی تعلقات خطہ میں امن کیلئے ناگزیر!

پاک ایران مثالی تعلقات خطہ میں امن کیلئے ناگزیر!

پڑھنے کا وقت: 11 منٹ

منصور مہدی …..
اس بات میں اب کوئی شک نہیں رہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت داخلہ اور خارجہ سطح پر ایسی تبدیلیاں لا رہی ہے کہ جن کی حقیقت میں مملکت خدا داد کو ضرورت تھی۔ داخلی سطح پر نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کا فیصلہ اور خارجہ سطح پر ہمسایہ ممالک سے مثالی تعلقات قائم کرنا، جبکہ علاقائی اور عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات میں توازن پیدا کرنے کی حکمت عملی اپنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

سی پیک کے بعد روس کے ساتھ ملکی تاریخ کے ایک بڑے فوجی معائدے کی تیاریاں اور اب وزیر اعطم کے دورہ ایران کے دوران دونوں ممالک (پاک ایران ) کی جانب سے سرحدی علاقوں میں دہشت گردی اور شدت پسندی کی روک تھام کے لیے ایک مشترکہ سریع الحرکت سکیورٹی فورس بنانے اور ایران کی قیادت کو پاکستان کی سرزمین اس کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی یقین دہانی پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی مظہر ہے۔

عمران خان پہلا دورہ ایران
وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد عمران خان کا ایران کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے جس سے صرف چند دن قبل پاکستان کے صوبے بلوچستان میں اورماڑہ کی ساحلی شاہراہ پر شدت پسندوں نے ایک مسافر بس میں سوار چودہ افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس حملے میں چن چن کر ہلاک کیے جانے والوں میں دس پاکستانی بحریہ کے اہلکار تھے۔ اس واقع کے بعد پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا تھا کہ اس واردات میں ملوث ’دہشت گردوں کی کمیں گاہیں ایران میں ہیں۔‘
چنانچہ وزیر اعظم پاکستان کے دورہ کے دوران ایران اور پاکستان نے سرحدی علاقوں میں شدت پسندی کی روک تھام کے لیے ایک مشترکہ سریع الحرکت ردعمل سکیورٹی فورس بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کا اعلان پیر کو تہران میں ایران کے صدر حسن روحانی نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔ صدر حسن روحانی نے کہا وزیر اعظم عمران خان اور انھوں نے سریع الحرکت مشترکہ سرحدی ردعمل فورس بنانے پر اتفاق کرلیا ہے۔

یاد رہے کہ سرحدوں کے دونوں طرف سے کئی ماہ سے ہونے والے شدت پسندی کے واقعات سے دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ ایران کے جنوب مشرقی صوبے سیستان بلوچستان میں ایرانی سکیورٹی فورسز پر متعدد حملے ہو چکے ہیں۔

توانائی کے اہم شعبے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایرانی صدر نے پاکستان کی تیل اور گیس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایران بھر پور تعاون کے لیے تیار ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن ایران کی سرحد تک تیار ہے۔ ایران پاکستان کو بجلی درآمد کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔

اس موقع پر پاکستانی وزیر اعظم نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ ایران کے اندر ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں ایسے عناصر ملوث رہے ہیں جو پاکستان کی سرزمین استعمال کر کے اپنی کارروائی منظم کرتے ہیں۔ عمران خان نے ایرانی صدر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ سکیورٹی کے سربراہ اپنے ایرانی ہم منصب سے ملیں گے اور اس سلسلے میں تفصیلات طے کریں گے۔

عمران خان نے کہا کہ ‘ہمیں یقین ہے کہ دونوں ملکوں کی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ ہم اپنی سرزمین سے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچنے دیں گے۔’

واضع رہے کہ گزشتہ ماہ مارچ میں ایرانی صدر نے پاکستان کی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایران کے صوبے سیستان میں پاسداران انقلاب پر فروری کی تیرہ تاریخ کو ہونے والے حملے کے ذمہ داران کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔ پاسداران انقلاب کی پریڈ پر ہونے والے اس حملے میں 27 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ اس حملے میں ملوث خود کش حملہ آور کا تعلق پاکستان سے تھا اور اس حملے کی ذمہ داری ایک تنظیم جیش و عدل نے قبول کی تھی جو مبینہ طور پر پاکستان کے صوبے بلوچستان سے اپنی سرگرمیاں منظم کرتی ہے۔

پاکستان نے اورماڑہ کے حملے کے بعد کہا تھا کہ وہ دہشت گرد تنظیمیں جو بلوچستان میں دہشت گردی کی وارداتیں کر رہی ہیں ان کے تربیتی مراکز اور رسد گاہیں پاکستان کے صوبے بلوچستان سے متصل ایران کے سرحدی علاقے میں قائم ہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم نے کہا کہ ان کے ایران کے دو روزہ سرکاری دورے کا بنیادی مقصد سرحد کے آر پار ہونے والی دہشت گردی کی مسلسل وارداتوں کا مستقل حل تلاش کرنا ہے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ ‘سب سے زیادہ اہم وجہ میری یہاں موجودگی کی صدر صاحب یہ ہے کہ میں محسوس کرتا ہوں کہ دہشت گردی کا مسئلہ مشکلات کا باعث بن رہا تھا۔ میرے لیے یہ بہت ضروری تھا کہ میں اپنے سکیورٹی سربراہ کے ساتھ یہاں آو¿ں تاکہ یہ مسئلہ حل ہو سکے۔’ حسن روحانی نے عمران خان کے ساتھ اپنی ملاقات کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھنے کے لیے یہ ایک اہم قدم ہے۔ ایرانی صدر نے کہا کہ تہران اور اسلام آباد باہمی تعلقات کو مستحکم کرنے کے خواہشمند ہیں تاکہ کوئی تیسرا ملک ان تعلقات پر اثرا انداز نہ ہو سکے۔ روحانی نے کہا کہ افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے بھی دونوں ملکوں نے سیکیورٹی تعاون بڑھنے پر بات چیت کی۔

ایران کے صدر نے کہا کہ انھوں نے پاکستانی حکام کے ساتھ امریکہ کی طرف سے کیے جانے والے ‘غلط اقدامات’ پر بھی بات چیت کی۔ حال ہی میں امریکہ نے ایران کے پاسداران انقلاب کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔ ایران کے صدر نے امریکہ کے اس اقدام کو تضحیک آمیز ٹھہرایا۔ صدر روحانی نے کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے یقین دلایا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی جنگی اتحاد کا حصہ نہیں بنیں گے۔

توانائی کے اہم شعبے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایرانی صدر نے پاکستان کی تیل اور گیس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایران بھر پور تعاون کے لیے تیار ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن ایران کی سرحد تک تیار ہے۔ ایران پاکستان کو بجلی درآمد کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔

جواب دیجئے