کالم

پاک بھارت جنگ کا خطرہ؟

چار سال پہلے بھارت جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں پرویز مشرف کی مقبولیت اپنے عروج پر تھی۔ ہر دوسرا بھارتی یہ سمجھتا تھا کہ صرف پرویز مشرف ہی پاکستان اور بھارت میں امن قائم کر سکتے ہیں اور انہیں جلا وطنی ختم کرکے اپنے ملک واپس آنا چاہئے۔ کئی نامور بھارتی صحافیوں کا خیال تھا کہ پرویز مشرف کو ایک نئی سیاسی جماعت کا اعلان کرنا چاہئے کیونکہ وہ انتخابات سویپ کر جائیں گے۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے این ڈی ٹی وی پر پرونائے رائے کے پروگرام میں یہ کہا تھا کہ پرویز مشرف کا پاکستان میں کوئی سیاسی مستقبل نہیں اور اگر وہ واپس پاکستان آئے تو ان کے خلاف غداری کا مقدمہ چل سکتا ہے۔ میری بات سن کر پرونائے رائے بہت حیران ہوئے اور انہوں نے کہا کہ شائد بھارت کی حکمران اشرافیہ اور میڈیا پاکستان کے بارے میں ہمیشہ کئی غلط فہمیوں کا شکار رہتے ہیں۔ چار سال کے بعد گزشتہ ہفتے دوبارہ بھارت جانے کا اتفاق ہوا تو بھارتی میڈیا پرویز مشرف کیساتھ ساتھ بلاول بھٹو زرداری پر دن رات تنقید کرتا نظر آیا۔ دہلی پالیسی گروپ کی دعوت پر تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود اور یہ خاکسار واہگہ کے راستے بھارت میں داخل ہوئے تو ہمیں عام لوگوں کے رویے میں پاکستان کے متعلق کوئی تناﺅ نظر نہیں آیا۔ ہوائی سفر کے ذریعہ ہم امرتسر سے دہلی پہنچے تو ایئر پورٹ پر اترتے ہی ایسے لگا کہ شائد یہ دبئی ایئرپورٹ ہے۔
چار سال پہلے تک دہلی ایئر پورٹ اور اسلام آباد ایئرپورٹ میں زیادہ فرق نہ تھا لیکن صرف چار سال کے اندر اندر دہلی میں ایک نیا اور جدید ایئرپورٹ تعمیر کیا جا چکا ہے اور اس قسم کے ایئر پورٹ کا فی الحال پاکستان میں کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ دہلی ایئر پورٹ کے قریب کئی نئے فائیو سٹار ہوٹل تعمیر کئے جا چکے ہیں۔ شہر پہلے سے زیادہ خوبصورت اور صاف ستھرا نظر آتا ہے۔ ظاہر ہے یہ ترقی کانگریس کے دور حکومت میں ہوئی لیکن اس شہر نے پہلے کانگریس کو مسترد کر کے عام آدمی پارٹی پر اعتماد کا اظہار کیا اور جب عام آدمی پارٹی سے توقعات پور ی نہ ہوئیں تو بی جے پی کی لاٹری نکل آئی۔ سیکولر آئین کے حامل بھارت میں ہندو بنیاد پرستی کے علمبردار بی جے پی کے برسراقتدار آنے سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں ایک نئی نظریاتی اور سماجی کشمکش کا آغاز ہو چکا ہے۔ بھارت کے نئے وزیر اعظم نریندر مودی بظاہر اپنے ملک میں سیاسی استحکام کی علامت بن کر ابھرے ہیں لیکن عام لوگوں نے ان سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کرلی ہیں اور یہ توقعات پوری نہ ہوئیں تو وہ بہت سی مشکلات کا شکار ہوسکتے ہیں۔
بھارت کی حکومت اور اپوزیشن کے اختلافات کی نوعیت کچھ بھی ہو لیکن قومی سلامتی کے معاملات پر اور خاص طور پر پاکستان کے خلاف ان جماعتوں کی رائے میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ اس مرتبہ بھارت جانے کا اتفاق ایسے موقع پر ہوا جب سرحدوں پر کافی کشیدگی موجود ہے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ اس کشیدگی کے تناظر میں سب سے زیادہ تنقید بلاول بھٹو زرداری پر ہو رہی تھی حالانکہ وزارت عظمیٰ کی کرسی پر نواز شریف براجمان ہیں۔ بھارتی میڈیا کا خیال تھا کہ بلاول نے حالیہ دنوں میں بار بار کشمیر کا ذکر کرکے پہلے نواز شریف اور پھر پرویز مشرف کو بھی ہارڈ لائن لینے پر مجبور کر دیا۔ جب ہم نے اپنے بھارتی دوستوں کو کہا کہ وہ مشرف کے بیانات کو ضرورت سے زیادہ اہمیت نہ دیں تو ان کا کہنا تھا کہ مشرف فوج کا نمائندہ ہے اور مشرف کا بیان آج بھی فوج کا پالیسی بیان ہوتا ہے۔ یہ باتیں سن کر میرے اور شفقت محمود کے پاس ہنس دینے کے سوا کچھ نہیں بچتا تھا۔ ہم بھارتی میزبانوں کو اور وہ ہمیں بیوقوف سمجھتے رہے۔
دہلی پالیسی گروپ کی دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا موضوع 2034ءمیں بھارت کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات تھا۔شفقت محمود کو پاک بھارت تعلقات اور مجھے پاکستان اور بھارت کے افغانستان کےساتھ تعلقات پر گفتگو کرنا تھی۔ کانفرنس سے خطاب کرنے والے امریکی مندوبین نے اپنے بھارتی دوستوں کے ساتھ مل کر پاکستان پر جائز اور ناجائز تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا لیکن شفقت محمود نے بڑے موثر انداز میں پاکستان کا دفاع کیا۔ بظاہر وہ نواز شریف حکومت کی مخالف جماعت کے اہم رہنما ہیں لیکن بھارت میں وہ تحریک انصاف کی نہیں بلکہ صرف پاکستان کی نمائندگی کرتے رہے جس پر وہ بھرپور خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ خوش قسمتی یہ تھی کہ اس کانفرنس میں افغانستان کی نئی حکومت کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر حنیف اتمار نے پاکستان پر الزام بازی کے ذریعہ بھارت کو خوش کرنے کی کوئی کوشش نہ کی بلکہ دہشت گردی کے مقابلے کیلئے مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔
ایک موقع پر بھارت میں امریکہ کے سابق سفیر رابرٹ بلیک ول نے افغانستان میں دہشت گردی کا ذمہ دار صرف پاکستان کو قرار دیا تو میں نے کانفرنس کے شرکاءکو افغانستان، پاکستان اور ایران میں امریکی سی آئی اے کے علاوہ بھارتی خفیہ اداروں کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا اور کچھ امریکی صحافیوں کی رپورٹوں کے حوالے دیئے تو رابرٹ بلیک ویل ناراض ہو گئے۔ میں نے چین، ایران اور برما کو سارک میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی تو بنگلہ دیش کی سپیکر قومی اسمبلی شیریں چودھری نے اس تجویز کی تائید کی۔ اس کانفرنس میں بھارت کے نیشنل سکیورٹی کے سابق ایڈوائزر ایم کے نارائنن نے کہا کہ 2034ءمیں پاکستان اسلامی بنیاد پرستی اور عسکریت پسندی کا گڑھ بن چکا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں ماﺅ نواز باغیوں کی لیفٹ ونگ عسکریت پسندی قابو میں آ چکی ہے۔ بھارتی انٹیلی جینس بیورو کے سابق سپیشل ڈائریکٹر پی مہندرا نے نارائنن سے اتفاق نہیں کیا اور اعدادوشمار کی مدد سے بتایا کہ لیفٹ ونگ عسکریت پسندی نے غربت اور ناانصافی سے جنم لیا ہے اور مغربی بنگال، چھتیس گڑھ، جھاڑ کھنڈ، تلنگانہ ، اڑیسہ ، کیرالہ اور کرناٹک سے نکل کر بہار، آندھرا پردیش، ہریانہ، مشرقی پنجاب اور دہلی کے گرد و نواح تک پھیل چکی ہے۔ لیفٹ ونگ عسکریت کو ختم کرنے کیلئے حکومت نے 69 سکیمیں شروع کیں لیکن کامیابی نہیں ہو رہی۔ پی مہندرا نے بتایا کہ 2034ءمیں بھارت کیلئے اصل خطرہ اسلامی عسکریت پسندی نہیں ماﺅ نواز باغی ہوں گے۔
اس کانفرنس کے مندوبین کی اکثریت نے یہ کہا کہ پاکستان اور بھارت کو سرحدوں پر کشیدگی میں کمی کیلئے مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنا چاہئے۔ کچھ بھارتی ماہرین کو یقین تھا کہ سرحدوں پر چھوٹی موٹی جھڑپیں ہوتی رہیں گی لیکن پاک بھارت جنگ کا خطرہ نہیں کیونکہ اس جنگ کا زیادہ نقصان بھارت کو ہو گا جو مغربی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن رہا ہے۔ امکان ہے کہ اگلے ماہ کھٹمنڈو میں سارک کانفرنس کے موقع پر پاک بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات کے بعد سرحدوں پر کشیدگی میں کمی واقع ہو گی اور نریندر مودی ناں چاہتے ہوئے بھی مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کریں گے کیونکہ 2034ء میں بھارت کا بڑا مسئلہ جموں و کشمیر نہیں بلکہ 12 دیگر ریاستوں میں پھیلی ہوئی عسکریت پسندی ہو گی۔
بشکریہ روزنامہ ”جنگ“

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button