فن اور فنکار

پرانی باتیں مجھ سے نہ کیجیے: گلزار

80 سالہ گلزار نے بھارتی فلم انڈسٹری کو کئی یادگار فلمیں دی ہیں
آپ کو اپنی پرانی فلموں میں سے کون سی سب سے زیادہ پسند ہے؟ پرانے دور کے گانوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کون سا گیت آپ کے دل کے سب سے زیادہ قریب ہے؟
’انگور،‘ ’آندھی،‘ ’موسم،‘ اور ’ماچس‘ جیسی یادگار فلمیں بنانے والے اور بے حد مقبول نغمے لکھنے والے ہدایت کار نغمہ نگار گلزار کو یہ سارے سوال پریشان کرتے ہیں۔
ہٹ کیا ہوتا ہے نغمہ یا دھن؟
ہٹ تو ہمیشہ دھن ہوتی ہے۔ ورنہ کئی الفاظ تو سمجھ میں ہی نہیں آتے۔ اس انڈسٹری میں صرف دو ہی شاعر ہوئے ہیں جن کے الفاظ پر ٹیون بنتی تھی: پردیپ اور ساحر لدھیانوی۔
وہ کہتے ہیں: ’مجھ سے پرانے دور کی باتیں نہ کریں۔ آگے کی بات کیجیے، نوجوان نسل کی باتیں کیجیے۔‘
گلزار میڈیا سے دوری رکھنے کے لیے جانے جاتے ہیں اور کسی فلم کے لیے گلزار پروموشن کریں ایسا تقریباً ناممکن سا لگتا ہے خواہ وہ اس فلم سے منسلک ہی کیوں نہ ہوں۔
فلم ’کل دل‘ کے سلسلے میں جب انھوں نے فلم کی ٹیم کے اصرار پر میڈیا سے بات کرنا منظور کیا تو اس پر خوش گوار حیرت ہوئی۔
یشراج بینر کی اس فلم میں گلزار نے ’سویٹا،‘ ’بول بیلیا،‘ ’کل دل‘ جیسے گانے لکھے۔
نئے نغموں، ان کے بولوں اور سروں پر گذشتہ زمانے کے کئی گلوکار، نغمہ نگار، اور موسیقار سوال اٹھاتے رہے ہیں، لیکن گلزار کو ان گانوں اعتراض نہیں۔
وہ کہتے ہیں: ’ہر دور کی اپنی میلوڈی ہوتی ہے۔ اپنی موسیقی، اپنی رفتار ہوتی ہے۔ آج کی موسیقی کی لے بڑی خوبصورت ہے۔ رفتار ضرور تھوڑی زیادہ ہے، لیکن پرانی رفتار سے چلوں گا تو چل نہیں پاؤں گا۔‘
’کل دل‘ کے ہدایت کار شاد علی ہیں، جن کی ہٹ فلم ’بنٹی اور ببلی‘ کے گیت بھی گلزار نے لکھے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ موسیقار شنکر، احسان اور لوئے کا مثلث بہت عمدہ ہے۔
نوجوانوں کے ساتھ کام کرنے کو وہ اپنی خوش نصیبی سمجھتے ہیں۔
گلزار کہتے ہیں: ’دیکھیے، بزرگوں کا ہاتھ اگر بچے نہ پکڑیں تو وہ کمرے میں ہی بند رہیں۔ نئے فلم ساز مجھے موقع دیتے ہیں۔ میں خوش نصیب ہوں۔‘
گلزار کہتے ہیں: ’ہٹ تو ہمیشہ دھن ہوتی ہے۔ ورنہ کئی الفاظ تو سمجھ میں ہی نہیں آتے۔ اس انڈسٹری میں صرف دو ہی شاعر ہوئے ہیں جن کے الفاظ پر ٹیون بنتی تھی، پردیپ اور ساحر لدھیانوی۔‘
80 سالہ گلزار کو کام کرتے رہنا بہت پسند ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’میں تو ڈھیٹ ہوں، جب تک گر نہیں پڑوں گا تب تک چلتا ہی رہوں گا۔

Leave a Reply

Back to top button