تجزیہ

پرویز مشرف کی سزا کیخلاف ایم کیو ایم پاکستان کی ریلیاں اور پیپلزپارٹی کی خاموشی…… ریاض احمد ساگر

خصوصی عدالت کی جانب سے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو پھانسی کی سزا دینے اور ایک جج کی جانب سے سزا سے قبل انتقال کر جانے کی صورت میں سابق صدر مملکت کی لاش کو ڈی چوک پر تین دنوں تک لٹکانے کے فیصلے کے خلاف ایم کیو ایم پاکستان نے سندھ کے مختلف شہروں میں ریلیاں نکالیں اور کراچی میں جلسے کا انعقاد کیا جبکہ ایم کیو ایم بحالی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے بھی سابق صدر کو غدار قرار دینے کے فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے اور کہا کہ پرویز مشرف کو دفاع کا حق نہیں دیا گیا اور سب سے پہلے پاکستان کہنے والے کو غدار قرار دیا گیا۔ انہوں نے فیصلے میں استعمال ہونے والی زبان پر سوموٹو لینے کا بھی مطالبہ کیا۔
اسی طرح سندھ میں پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال اور حروں کے روحانی پیشوا اور فنکشنل مسلم لیگ کے سربراہ پیر صاحب پگارا نے بھی سابق صدر کو غدار قرار دیئے جانے کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا۔ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی حمایت میں اتوار 22 دسمبر کو ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے لیاقت آباد فلائی اوور پر منعقدہ جلسے سے ایم کیو ایم پاکستان کے مرکزی رہنماؤں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، عامر خان اور میئر کراچی وسیم اختر اور فیصل سبزواری نے خطاب کیا۔ اس موقع پر ایم کیو ایم کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ہم عدالتو ں کا احترام کرتے ہیں، ہم کہتے ہیں کہ ملک کو طا قت کے ذریعے نہیں انصاف سے چلایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے عوام کو برابر کے مفادات اور مساوی حقوق ملنے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ عدالتو ں کے انصاف کو سر اہا ہے لیکن ہم ڈرتے ہیں کہ عدالتو ں کے نظام انصاف سے عوام کا اعتما د نہ ختم ہو جائے۔ عوام چاہتے کہ کسی بھی شخص کے خلاف آئین و قانون سے ماورا فیصلہ نہ دیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ خصوصی عدالت کے فیصلے میں جو زبان اور الفاظ استعمال کئے گئے ہیں وہ ماورائے شریعت اور آئین ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس فیصلے سے ایک فرد کی نہیں پوری قوم کی توہین ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ہمیں اس پر اپیل کرنے اور اعتراض کا حق ہے جو ہم نے استعمال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے سندھ بھر میں بڑے اجتما عات کئے ہیں اور ہم نے ثابت کیا کہ ہم احسان فرامو ش نہیں جو پاکستان پر احسان کرتا ہے وہ ہم پر احسان کرتا ہے۔ ہم پرویز مشرف کی سزاکو متنازعہ کہہ رہے ہیں۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ 40 سال جنرل پرویز مشرف نے ملک کی خد مت کی۔ ان پر اگر آرٹیکل 6 لگتا ہے تو کسی کے پا س حق نہیں کہ اس کے ساتھ جڑے افراد کو چھوڑ دیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا تھا کہ ہم پرویز مشرف کے ساتھ انصاف چاہتے ہیں۔ سپریم کورٹ سے التجا ہے کہ وہ فیصلے کے پیرا 66 کو حذف کرے۔ واضح رہے کہ پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کے فیصلے کے فوراََ بعد میئر کراچی وسیم اختر دبئی گئے اور وہاں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنے والے ایم کیو ایم کے سابق رہنما حیدر عباس رضوی نے ملاقات کر کے انہیں اپنی حمایت کا یقین دلایا تھا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کے بعد اسٹاک مارکیٹ شدید مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا۔ اسٹاک مارکیٹ میں مندی کی وجہ سے 181 ارب روپے کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
ادھر پرویز مشرف کے خلاف فیصلے پر پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے انتہائی محتاط رویہ اختیار کئے جانے پر سندھ کے سیاسی حلقوں نے حیرت کا اظہار کیا ہے۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ کی ضمانتیں ہونے کے بعد پیپلز پارٹی نے پرویز مشرف کیس کی حساسیت کے پیش نظر بیان بازی اور سخت زبان استعمال کرنے سے دانستہ گریز کیا ہے۔ اس معاملے پر اگرچہ بلاول بھٹو زرداری نے فوری طور پر کوئی باقاعدہ بیان تو نہیں دیا مگر ٹویٹ ضرور کیا جس پر آصف علی زرداری نے برہمی کا اظہار کیا اور بلاول بھٹو کو بھی بیان بازی سے روک دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب سے بلاول بھٹو کو پرویز مشرف کے خلاف آنے والے عدالتی فیصلے پر بیان بازی سے روکے جانے کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے جمعہ 20 دسمبر کو اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف آنے والے تفصیلی فیصلے کے پیرا 66 کی کوئی آپریشنل حیثیت ہے اور نہ ہی اس سے اداروں میں تصادم ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر کے معاملے کے حل کے لئے عدالتی فورم اور قانون موجود ہے تاہم اگلے روز ہفتہ کو بلاول بھٹو زرداری نے نیب کی جانب سے نوٹس ملنے پر پشاور میں ورکرز کنونشن میں صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا کہ ”پرویز مشرف تکلیف میں ہیں“ نیب سے تو ردعمل آنا ہی تھا۔
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی ایک دفعہ پھر سیاسی مصلحتوں میں گھر چکی ہے۔ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت مزید مقدمات میں گرفتاریوں اور بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر کسی بھی قسم کی بدمزگی سے بچنا چاہ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کی سزا کے معاملے پر پیپلز پارٹی نے سیاست کے بجائے مفاہمانہ رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Leave a Reply

Back to top button