الیکشنتازہ ترینخبریںپاکستانپاکستان سے

پنجاب کا بلدیاتی انتخابات میں ای وی ایم کے استعمال کے قانون میں ترمیم کا فیصلہ

اس ضمن میں پنجاب حکومت لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) ایکٹ (پی ایل جی اے) 2021 کے بارے میں اپنے اتحادی مسلم لیگ (ق) کے تحفظات کو دور کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

پنجاب حکومت نے آئندہ بلدیاتی انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) متعارف کرانے کے اپنے منصوبے کا اعلان کر دیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت پہلے ہی قانون سازی کر چکی ہے اور آئندہ تمام انتخابات میں ای وی ایم کے استعمال کو لازمی قرار دے چکی ہے۔

اس ضمن میں پنجاب حکومت لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) ایکٹ (پی ایل جی اے) 2021 کے بارے میں اپنے اتحادی مسلم لیگ (ق) کے تحفظات کو دور کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے کہا کہ وفاقی حکومت نے قانون سازی کی ہے کہ ضمنی انتخابات سمیت تمام آئندہ انتخابات ای وی ایم کے ذریعے کرائے جائیں گے تو پنجاب اس قانون سے کیسے انحراف کر سکتا ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت اب پوری شدت سے چاہتی ہے کہ تمام آنے والے انتخابات میں ای وی ایم کے استعمال سے متعلق شق کو پی ایل جی اے 2021 میں شامل کیا جائے، جو اس وقت حتمی مراحل میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے پہلے ہی الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) سے کہا کہ ضمنی انتخابات سمیت اگلے تمام انتخابات ای وی ایم کے ذریعے کرائے جائیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی عندیہ دیا تھا کہ اگر حکومت ای وی ایم کے ذریعے انتخابات نہیں کرواتی تو کمیشن کو فنڈز فراہم نہیں کرے گی۔

اس دوران کمیشن نے پنجاب حکومت سے کہا کہ وہ ترمیم شدہ پی ایل جی اے 2021 کا مسودہ ایک ہفتے میں پیش کرے بصورت دیگر قانون کے مطابق ایل جی کے انتخابات کرائے جائیں گے۔

ای سی پی کے ایک اہلکار نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ای سی پی قانون کے ترمیم شدہ مسودہ کے مطابق حلقوں کی نئے سرے سے حد بندی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، بصورت دیگر وہ ایل جی کے حلقوں کی پرانی حد بندی کے مطابق انتخابات کرانے پر مجبور ہو جائے گا۔

تاہم اپوزیشن جماعتوں نے پنجاب حکومت کے تمام اہم قانون سازی کو بلڈوز کرنے کے منصوبے کو سختی سے مسترد کر دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ پی ایل جی اے 2021 کو غیر جمہوری طریقے سے منظور کیا جا رہا ہے کیونکہ کسی اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہیں کی گئی ہے۔

یہاں تک کہ پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) نے بھی پہلے اعتراضات اٹھائے تھے اور اس کے وزیر محمد رضوان نے پنجاب کابینہ کے اجلاس سے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے چھوڑ دیا تھا کہ ان کی پارٹی سے مشاورت نہیں کی گئی۔

گورنر پنجاب چوہدری سرور اس وقت ملک سے باہر ہیں اور پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی گورنر کا قائم مقام چارج سنبھال رہے ہیں، اس لیے انہوں نے پی ایل جی اے 2021 میں مجوزہ ترامیم پر بریفنگ طلب کی۔

مسلم لیگ (ق) کے پنجاب کے صدر مسٹر الٰہی نے مطالبہ کیا تھا کہ تحصیل کونسلوں کو بلدیاتی نظام کا حصہ بنایا جائے اور ساتھ ہی میئر اور ڈسٹرکٹ کونسل چیئرمین کے لیے اہلیت کے تقاضے بھی طے کیے جائیں۔

وزیراعلیٰ نے مسلم لیگ (ق) کے ساتھ مشاورت جاری رکھنے اور ان کے اعتراضات کو دور کرنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ نئے ایل جی ایکٹ کا مسودہ نچلی سطح پر بااختیار بنانے کے لیے مشاورت اور سخت محنت سے تیار کیا گیا ہے۔

ذرائع نے دعویٰ کیا کہ پنجاب حکومت کے ایک سرکاری وفد نے ایک مرتبہ پھر پرویز الٰہی سے ملاقات کی اور انہیں باور کرایا کہ تحصیل کونسلوں کو قانون میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔

اس اعتراض پر کہ میئر اور ضلع کونسل کے چیئرمین کے لیے کم از کم انٹرمیڈیٹ تعلیم کو لازمی قرار دی جائے، وفد نے قائم مقام گورنر کو بتایا کہ اہلیت کا پہلو شامل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ایم پی اے اور ایم این اے کے لیے ایسی کوئی شرط نہیں ہے۔

Leave a Reply

Back to top button