سیلف ہیلپ

پُر سکون زندگی گزارنے کا مؤثر ترین طریقہ…… رحمت اللہ شیخ

موجودہ دور میں عیش و عشرت کے بے شمار ظاہری اسباب مہیا ہونے کے باوجود معاشرے کا ہر دوسرا فرد بے چینی اور بے سکونی کی شکایت کرتا نظر آتا ہے۔ مال و دولت کی فراوانی کے باوجود کئی لوگ سکون کی تلاش میں در در بھٹکتے نظر آتے ہیں۔ زندگی پُرسکون نہ ہونے کی وجہ سے طبعیت غصے، چڑچڑے پن اور ذہنی دباؤ جیسے امراض کا شکار ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں بعض اوقات ذہن میں مختلف خیالات گردش کرنے لگتے ہیں اور بات خودکشی تک جا پہنچتی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ مال و دولت یا شہرت وغیرہ سے سکون جیسی عظیم نعمت کو حاصل کرنا ناممکن ہے۔ بڑے بڑے بنگلے، ایئر کنڈیشنڈ کمرے، نرم و گرم بستر اور آرام کے دیگر ذرائع سے چین و سکون کا حاصل ہوجانا بعید از قیاس ہے۔ مہنگی مہنگی دوائیاں لینے کے باوجود پوری رات کروٹیں بدلتے گزر جاتی ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی ہوئی ایک عظیم نعمت ہے جسے دنیاوی ذرائع سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ میں نے بارہا سستا اور سادہ لباس پہنے مدارس کے طلباء کو زمین پر بستر بچھا کر گہری اور پُرسکون نیند کے مزے لیتے دیکھا ہے۔
آخرکار وہ کون سا نسخہ ہے جس کو استعمال کر کے زندگی کو پرسکون بنایا جاسکتا ہے؟ وہ کون سا راستہ ہے جس پر چل کر زندگی میں سکون و طمانیت کی بہار لائی جا سکتی ہے؟ ہم مسلمانوں کا یہ ایمان ہے اور فرمانِ خداوندی بھی کہ ہمارے لئے رسول کریم ؐ کی سنت میں زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ موجود ہے جس پر عمل کر کے نہ صرف ہم اپنی زندگی کو خوشگوار بنا سکتے ہیں بلکہ اپنی آخرت بھی سنوار سکتے ہیں۔ دراصل دلوں کے چین و سکون کا راز اللہ کے ذکر میں پنہاں ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے کہ خوب سن لو! اللہ کی یاد ہی سے دلوں کا چین ملتا ہے۔(سورۃ رعد) ہم اپنی پوری زندگی مال ودولت کمانے میں صرف کردیتے ہیں۔ ہمیشہ ہمارا ذہن دولت کمانے کی گھتیاں سلجھانے میں مصروف رہتا ہے۔ مال کمانے کے نشے میں ہم حلال و حرام کے درمیان تمیز کرنا ہی بھول جاتے ہیں اور نتیجتًا ہم سے سکون و آرام جیسی عظیم نعمت چھین لی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو شخص میری نصیحت سے منہ موڑے گا، اس کے لیے معیشت تنگ ہو گی۔ (سورۃ طٰہ)۔ مفسرین کرام نے اس آیت کی مختلف تفاسیر بیان کی ہیں۔ حضرت سعید بن جبیر ؓ نے معیشت کی تنگی کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اس شخص سے قناعت سلب کی جائے گی اور حرصِ دنیا بڑھا دی جاوے گی۔ یعنی ایسا شخص مال سے کبھی بھی سیر نہیں ہو گا بلکہ پوری زندگی دنیا کمانے کے چکر میں مصروف رہے گا اور بالآخر موت اسے اپنی آغوش میں لے لی گی۔
دنیا میں کئی ایسے دولت مند افراد کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے زندگی سے تنگ آکر خود کشی کا راستہ اختیار کیا۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ مال و دولت کا حصول زندگی میں سکون و طمانیت پیدا نہیں کر سکتا۔ اس دنیا میں موجود اگر کوئی شخص چاہتا ہے کہ اسے ہمیشہ خوشی ہی نصیب ہو، مصیبت اور تکالیف اس کے گھر کا دروازہ بھی نہ کھٹکھٹائیں تو ایسا ہونا ناممکن ہے۔ زندگی خوشی اور غم کے نشیب و فراز سے عبارت ہے۔ تکلیف اور خوشی کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ لہٰذا ایسی سوچ آپ کی زندگی میں بے چینی اور بے سکونی کا سبب بن سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا میں راضی رہنا ہماری زندگی کو چین و سکون سے بھر دیتا ہے۔ایک مسلمان کو چھوٹی سے چھوٹی تکلیف کا بھی اجر ملتا ہے بشرطیکہ وہ صبر کا دامن تھامے رکھے۔ اگر خوش ہے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور اگر کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر کے اس پر صبر کرے۔ دونوں صورتوں میں وہ رضائے الٰہی کا مستحق ٹھہرے گا اور اس کے نامہ اعمال میں نیکیوں کا اضافہ ہوتا رہے گا۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ رسول کریم ؐ نے فرمایا کہ جس شخص کو یہ چار چیزیں عطا کی گئیں وہ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں پا گیا۔ شکر کرنے والا دل، ذکر کرنے والی زبان، مصائب پر صبر کرنے والا بدن اور نیک و صالح عورت۔ معلوم ہوا کہ صبر اور شکر نہ صرف آخرت کے لیے ذخیرہ ہیں بلکہ دنیا و آخرت کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہیں۔ صبر انسان کو مصائب و تکالیف سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ فراہم کرتا ہے اور شکر ہمیں کئی خطرناک گناہوں سے بچاتا ہے۔ ہمارے کئی سادہ مسلمان موقعہ ملتے ہی قدرت کی طرف سے عطا کی ہوئی نعمتوں کی ناقدری شروع کر دیتے ہیں حالانکہ اگر ہم صرف اپنے وجود پر ہی نظر کریں تو بے شمار ایسی نعمتیں ملیں گی جن کے بدلے میں پوری زندگی سجدے میں گزار دیں تو بھی ان کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ بے صبری اور ناشکری کی وجہ سے ہم ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں اور نتیجتًا زندگی سے چین و سکون ختم ہوجاتا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ شریعت کی تعلیمات کو اپناتے ہوئے اپنے ذہن سے بے صبری، ناشکری، لالچ، حسد، کینہ وغیرہ جیسی بیماریاں نکال باہر پھینکیں اور صبر، شکر، ایثار، خلوص اور پیار جیسی نعمتوں سے اپنا ذہن تروتازہ رکھیں۔

Leave a Reply

Back to top button