تراجم

پہلا باب: خواب دُنیا کو بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں

”تاریخ خواب دیکھنے والوں کی ہے، خواب دُنیا کو بدلنے کی طاقت ہیں“
سکول کے زمانے میں میں غریب تھا مگر میں تنہا ہی ایسا نہیں تھا، اس وقت تقریباً ہر کوئی غریب تھا۔ آج سے تیس سال قبل کوریا کی فی کس آمدنی 70 ڈالر تھی جو اب چھ ہزار ڈالر سے بھی زائد ہے لہٰذا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اس وقت زندگی ہمارے لیے کتنی کٹھن تھی۔ بے شک غریب لوگ کوریا میں آج بھی موجود ہیں مگر کوریائی جنگ کے بعد والے دنوں میں ہر طرف شدید غربت چھائی ہوئی تھی۔
ہم اُس وقت سیول کے علاقے چانگ چنگ دنگ میں آباد تھے اور مجھے چھ میل سے بھی زائد فاصلے پر موجود یونسی یونیورسٹی جانے کے لےے دو گھنٹے پیدل چلنا پڑتا تھا۔ میری جیب میں ایک سکّہ تک نہیں ہوتا تھا مگر میرے پاس خواب ضرور تھے۔ جب میں رات دیر گئے لائبریری سے باہر نکلتا اور گھر واپس آتے ہوئے لمبے پیدل سفر کے دوران آسمان کی طرف دیکھتا تو مجھ پر ایسے جذبات طاری ہو جاتے جن کو میں اب بھی بھلا نہیں پاتا۔ ایسے لگتا تھا کہ یہ دُنیا میری ہے اور میں اس کائنات کو اپنی بانہوں میں سمیٹ سکتا ہوں۔ مجھے کچھ ناممکن لگتا اور نہ ہی کوئی ایسی چیز تھی جو میری راہ میں حائل ہو سکتی کیونکہ مجھ میں جوانی کا جوش تھا جس نے میرے دل میں خواب بھر دیئے تھے۔
جوانی کی تابانیوں میں خواب سب سے اہم ہیں۔ خوابوں کے مالک غربت نام کی کسی چیز کو نہیں جانتے کیونکہ کسی انسان کے خواب جتنے زرّخیز ہوں وہ خود اتنا ہی امیر ہوتا ہے۔ جوانی زندگی کا وہ مرحلہ ہے جس میں اگر خواب ہوں تو آپ کے پاس کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی سب کچھ ہوتا ہے۔
”تاریخ خواب دیکھنے والوں کی ہے، خواب دُنیا کو بدلنے کی طاقت ہیں“
میں یہ بات دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ لوگ جن کے پاس ایّام شباب میں عظیم خواب تھے وہی آج تاریخ عالم کا رُخ متعین کر رہے ہیں۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ امریکہ کے ابتدائی آبادکاروں کے عظیم خوابوں اور پہل کاری کے جذبے نے ہی امریکہ کو اس قدر تیز رفتار ترقی کرنے کی طاقت عطا کی جس کے بل بوتے پر وہ آج دُنیا کی تاریخ کا رُخ موڑنے میں مصروف ہے۔
میں اکثر سُنتا ہوں کہ آج کل کے نوجوانوں کے پاس مستقبل کے بارے میں تعمیری خواب نہیں ہیں اور اگر ہیں بھی تو وہ صرف حال تک ہی محدود ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر افراد یا کسی قوم کے لیے اس سے زیادہ قابلِ افسوس امر اور کوئی نہیں رہتا۔
خواب نہ صرف انسان کی شخصیت بناتے ہیں بلکہ اس کے کام حتیٰ کہ اس کی قسمت تک کو کنٹرول کرتے ہیں۔ زندگی میں خواب وہی حیثیت رکھتے ہیں جو پتوار بحری جہاز میں، پتوار نظروں سے اوجھل ہوتے ہوئے بھی جہاز کے صحیح سمت میں سفر کا ضامن ہوتا ہے۔ پتوار کے بغیر جہاز پانی پر تیرتا ہوا وہ ڈھانچہ ہے جو کسی بھی وقت بحری کائی میں پھنس سکتا ہے،اسی طرح خوابوں سے خالی انسان بے منزل راہی کی طرح بھٹکنے کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتا۔
ایسا انسان جس کے خواب منفی ہوں یا پھر اُن کا دائرہ ذاتیات تک ہی محدود ہو، کسی بھی طرح ایسے انسان سے مختلف نہیں جس کی زندگی میں خواب نہیں ہوتے۔
جب ہم پانچ افراد نے ڈائیوو انٹرنیشنل کمپنی کا آغاز کیا تو میرا یہ خواب تھا کہ میں اجتماعی کاوش کے ذریعے سماجی ترقی کے عمل میں حصہ دار بنوں۔ ہم نے محض دس ہزار ڈالر سے ایک عمارت کے چھوٹے سے کرائے کے کمرے میں کام کا آغاز کیا۔ کمرہ چھوٹا مگر میرا خواب اس کائنات سے بھی بڑا تھا۔
کمپنی کی ترقی کے ساتھ ساتھ میرا خواب حقیقت میں بدلتا گیا اور صرف دس سال کے عرصہ میں میرے پاس کوریا کی سب سے بڑی عمارت تھی جو آج ڈائیوو سنٹر کے نام سے جانی جاتی ہے۔ ڈائیوو سنٹر کی تعمیر کے وقت میرے کچھ تحفظات ضرور تھے۔ میں سوچتا تھا کہ بہتر ہو گا کہ یہ رقم پیداواری سہولیات پر خرچ کی جائے جو زیادہ تیز اور فوری معاشی ترقی کا سبب بن سکیں۔ میں اس بات سے بھی ڈرتا تھا کہ کمپنی کو رئیل اسٹیٹ کے حوالے سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
تاہم میں نے اپنی سوچ کو بدلا اور اس خواب کی تکمیل کے بعد ایک نیا خواب دیکھنا شروع کر دیا۔ یہ خواب کمپنی کی وسعت کے بارے میں تھا کہ اسے اس حد تک وسیع کیا جائے کہ ڈائیوو سنٹر جیسی بڑی عمارت کو ڈائیوو کے عملہ سے بھر دیا جائے۔ اس وقت ایسا خواب واقعی ناقابلِ تصور تھا مگر میں نے پانچ سال میں یہ خواب بھی سچ کر دکھایا۔ اب ڈائیوو کے عملہ کی تعداد ایک لاکھ سے بھی زائد ہے جن کے لےے ڈائیوو سنٹر جتنی بڑی تین عمارتیں درکار ہیں۔
میں کئی عالمی ریکارڈ بنا چکا ہوں، جن میں پسان میں موجود دُنیا کی سب سے بڑی گارمنٹس فیکٹری، ڈائیوو شپ بلڈنگ کے آکپوشپ یارڈ میں بندرگاہ کی سب سے بڑی گودی (Deck) اور دُنیا میں گارمنٹس کی سب سے زیادہ سیل شامل ہیں۔ اس کے باوجود میرے کچھ اور خواب ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ میں دُنیا کی کوئی ایسی معیاری اور بہترین چیز بناﺅں جو پارکر پن یا نائیکون کیمرے جیسی مشہور ہو۔ یہ چیز کیا ہو گی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، میں تو بس یہ چاہتا ہوں کہ لوگ پکار اُٹھیں کہ یہ کِم وو یُنگ کی تیارکردہ ہے۔ مجھے یہ خواب بڑا عزیز ہے مگر لگتا یوں ہے کہ یہ مستقبل قریب میں آسانی سے شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا۔ ممکن ہے میرا یہ خواب اس وقت حقیقت کا رُوپ دھارے جب میں ڈائیوو کو اپنے کسی ذہین وفطین جانشین کے سپرد کر چکا ہوں۔
میرا ایک اور خواب، سب سے بڑا خواب یہ ہے کہ میں ایک معزز (Entrepreneur) مختارِکاروبار کے طور پر یاد کیا جاﺅں نہ کہ کسی ایسے کاروباری آدمی کے طور پر جس نے بہت زیادہ دولت اکٹھی کی ہو۔
روایتی طور پر کوریا میں کاروباری لوگوں کی عزت نہیں کی جاتی، انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور لوگ ان سے ذرا فاصلے پر رہنا ہی پسند کرتے ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں اور شاید سب سے بڑی وجہ سماجی مراتب کی کانگ فوزی (کنفیوشسی) روایت ہے جس میں دانشور اور اہلِ علم سب سے اُوپر، ان کے بعد کسان، فنکار وغیرہ اور سب سے آخر میں کاروباری لوگ ہیں۔ اس کی ایک وجہ موجودہ دور کے کاروباری افراد کا دولت کے انبار لگانے کا مقصد بھی ہو سکتی ہے مگر مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ ایک کاروباری شخص وہ مقام ومرتبہ اور عزت حاصل کیوں نہیں کر سکتا جو ایک پروفیسر یا فنکار کے پاس ہے۔
میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے شعبے کے بہترین پیشہ ور انسان کے طور پر یاد رکھا جاﺅں۔ میرا آخری خواب یہ ہے کہ میں ایک ایسا معاشرہ تشکیل دوں جس میں کاروباری افراد کا احترام کیا جائے۔ میں اپنے اس خواب کو حقیقت کا لبادہ پہنانے کے لیے شب وروز محنت کرتا رہوں گا۔ (جاری ہے)

Leave a Reply

Back to top button