روشنی

پیام امن اور صوفیاء کرام کا طرزِعمل…… سیّد احمد ثقلین حیدر

”کوئی بھی شخص اس وقت تک عارف اور کامل نہیں بن سکتا جب تک وہ اس زمین کی مانند نہ ہو جائے کہ جس پر نیک اور بد دونوں چلتے ہیں اور یہ دونوں کے آگے بچھتی چلی جاتی ہے، یہ اس بادل کی مانند نہ ہو جائے جو گلستان وبیابان دونوں پر سایہ کرتا ہے، یہ اس بارش کی مانند نہ ہو جائے جو پھولوں پر بھی برستی ہے اور کانٹوں پر بھی“۔ ایک ہزار سال سے بھی زیادہ عرصہ قبل کہے گئے یہ جملے اس عظیم الشان شخصیت کے ہیں جنہیں ”سیدالطائفہ“ بھی کہا جاتا ہے اور سلطان المحققین بھی۔
حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کے یہ الفاظ بڑے جامع بھی ہیں، پرکیف بھی اور حیات آفریں بھی جو پورے تصوف کے مزاج اور نصاب کو سمجھا دیتے ہیں۔ پوری تاریخ تصوف اور بزرگان دین کے تسلسل پر اِک نظر دوڑائیں تو احساس ہوتا ہے کہ ان اللہ والوں کا وجود اپنوں اور بیگانوں کے لیے اِک شجر سایہ دار کی مانند رہا جس کی ٹھنڈی چھاؤں میں ہر ایک کو آسودگی اور راحت میسر آئی، جس کا اظہار سلسلہ چشتیہ کے عظیم الشان بزرگ حضرت بابا فریدالدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے اس طرح فرمایا کہ لوگ درخت کا پھل بھی کھاتے ہیں، پھر اسی سے کچھ حصے کو کاٹ کر لے جاتے اور جا کر جلا بھی دیتے ہیں مگر یہ کبھی بھی اپنی چھاؤں کو سمیٹتا نہیں بلکہ ہر کسی پر بلاامتیاز اپنا سایہ دراز رکھتا ہے۔
صوفیاء کرام ؑ کی تعلیمات امن وآشتی، محبت والفت، ہمدردی و خیرخواہی، عجز وانکساری، صبروتحمل اور اخلاص ووفا سے عبارت ہیں۔ ان کی خانقاہوں کے دروازے بلاتفریق رنگ ونسل اور بلاتفریق مذہب وملت ہر کسی کے لیے دن رات کھلے رہے، محبت والفت کے یہ سفیر، اتفاق واتحاد کے یہ پیامبر، حلیم ونرمی کے یہ پیکر دُنیا میں رہے تو اس بہتی ندی کے مانند جو پیاسی زمین کو سیراب کرتی رہی اور دنیا سے گئے تو باد صبا کے اس خوشگوار جھونکے کی مانند جو ماحول کو معطر کر کے روحوں کو سرشار کر جاتا ہے۔ ان کو چمنستان حیات سے گئے ہوئے صدیاں بیت گئیں مگر آج بھی لاکھوں دلوں میں ان کی محبت اور عقیدت کے گلشن لہلہا رہے ہیں۔ سینے ان کے افکار کی مہک سے لبریز ہیں۔ روحیں ان کے فیض سے شاداب اور محافل ان کے تذکروں سے سرفراز ہیں، انہوں نے سوچوں کے بہتے دھارے کو ان خطوط پر استوار کیا کہ اگر تم سکون چاہتے ہو تو دوسروں کو سکون پہنچاؤ تو تم پرسکون ہو جاؤ گے۔ اگر تم خوش رہنا چاہتے ہو تو دوسروں میں خوشیاں تقسیم کرو تو تمہارا دامن بھی مسرت سے خالی نہیں رہے گا، دوسروں کے راستے سے کانٹے ہٹاؤ گے تو تمہیں منزل مراد جلد ملے گی، دوسروں کی خامیوں اور کمزوریوں کی پردہ پوشی کرو گے تو تمہاری آبرو محفوظ رہے گی، تم زمین پر بسنے والوں کے لیے راحت کا باعث بنو گے تو آسمان والا تم پر مہربان ہوتا چلا جائے گا۔ انہوں نے مخلوق سے محبت کی اور آج اسی مخلوق سے عقیدتوں کا خراج وصول کر رہے ہیں۔
سلطان ابراہیم بن ادھم رحمتہ اللہ علیہ کے اسم گرامی سے کون واقف نہیں جو سلاطینِ بلخ میں سے تھے، سخت سردی کے موسم میں آپ ایک مسجد کے قریب سے گزرے تو دیکھا کہ مسجد میں تین افراد سو رہے ہیں مگر ان کے اوپر کوئی کپڑا یا لحاف نہیں ہے، جب یہ دیکھا تو بڑھتے ہوئے قدم رُک گئے، دیکھا کہ مسجد کا دروازہ موجود نہیں ہے، آپ کے پاس بھی کوئی کپڑا موجود نہ تھا جو ان کے اوپر دے دیتے تو پھر آپ نے اپنے ہی وجود کو سردی سے بچاؤ کے لیے ڈھال بنایا اور دروازے میں بازو پھیلا کر کھڑے ہو گئے تاکہ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا کم سے کم اندر داخل ہو سکے، صرف اسی ایک واقعے کو دیکھیں کہ حضرت کو علم نہیں تھا کہ یہ کون لوگ ہیں، کہاں سے آئے ہیں اور کہاں جا رہے ہیں مگر اس درویش نے رب کی مخلوق سمجھ کر ان کو آسودگی پہنچائی اور پھر تاریخ میں یہ مقام پایا کہ آج کتاب تصوف اس وقت تک مکمل ہی نہیں سمجھی جا سکتی جب تک کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا نام نامی شامل نہ ہو۔
خاورِ تصوف کے درخشندہ آفتاب حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر معرفتِ حق چاہتے ہو توکبھی کسی کو آزار نہ پہنچاؤ اور سرخیل اولیا حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت جسے دوست رکھتا ہے اسے تین خصلتیں عطا فرماتا ہے، اولاً دریا کے مثل سخاوت، ثانیاً سمندر کے مثل شفقت، ثلاثتاً زمین کے مانند تواضع۔ اب ذرا قول وفعل کی یکجائی کا بھی ایک دلکش منظر ملاحظہ فرمائیں کہ اللہ والے جو کہتے تھے پہلے خود اس پر عمل کرتے تھے، آپ کا ہمسایہ آتش پرست تھا۔ ایک رات آپ جائے استراحت پر آرام فرمانے لگے تو ہمسائے کے گھر سے شیرخوار بچے کے رونے کی آواز سنائی دی، آپ چند لمحے تو سنتے رہے مگر جب آواز بدستور آتی رہی تو مضطرب اور بے چین ہو گئے اور جاکر بچے کے رونے کا سبب دریافت کیا تو پتہ چلا کہ گھر میں چراغ نہیں ہے اور بچہ اندھیرے کے باعث رو رہا ہے۔
آپ رحمتہ اللہ علیہ نے یہ سن کر اپنا چراغ اٹھایا اور ان کو دے دیا، پھر یہ معمول بن گیا کہ اس چراغ کو تیل سے بھرتے اور سرشام ہمسایہ کے گھر کی دیوار پر رکھ دیتے۔ کئی دنوں کے بعد جب گھر کا مالک وہ آتش پرست واپس آیا تو اسے اس بات کا علم ہوا تو آپ رحمتہ اللہ علیہ کے حلقہ غلامی میں شامل ہو گیا، اللہ والوں نے مخلوق پر غصہ یا جبر کا راستہ نہیں اپنایا۔ ان کے باطن روشن تھے اس لیے انہیں ہر چہرہ ہی روشن دکھائی دیتا۔ جس شخص کا باطن تاریک ہو اسے دوسرے چہرے بھی تاریک نظر آتے ہیں۔ انہوں نے مخلوق کو اپنے قریب کیا، جو اپنے لیے پسند کرتے وہی دوسروں کے لیے پسند کرتے، کانٹا کسی کے پاؤں میں لگتا اس کی چبھن یہ محسوس کرتے، مصیبت کسی پر پڑتی تڑپ یہ اٹھتے، مشکل میں گرفتار کوئی ہوتا بے چین یہ ہو جاتے، کیا خوب فرمایا ہے حضرت نظام الدین محبوب الٰہی رحمتہ اللہ علیہ نے کہ اگر کوئی تیری راہ میں کانٹے بچھائے تو اس کی راہ میں کانٹے مت بچھا کیونکہ اگر تو نے بھی کانٹے بچھا دیے تو پھر پوری وادی کانٹوں سے بھر جائے گی۔ حضرت ابوبکر شبلی رحمتہ اللہ علیہ دوسرے شہر سے گندم کی ایک بوری خرید کر لائے، جب زمین پر رکھی تو اس میں سے اک چیونٹی نکل کر بے تابانہ ادھر ادھر دوڑنے لگی، جب اس مرد درویش نے یہ دیکھا تو سوچا کہ میری وجہ سے اس مخلوق کو تکلیف پہنچی، یہ خیال آتے ہی اسے اٹھایا اور جا کر وہاں چھوڑ آئے جہاں سے گندم خریدی تھی، یہ بظاہر بڑا عجیب واقعہ ہے لیکن مزاج تصوف کو سمجھا دیتا ہے کہ جو صوفی اور درویش چیونٹی کی تکلیف برداشت نہ کر سکے کیا وہ رب کی مخلوق میں سے کسی کو تکلیف پہنچا سکتا ہے؟
آج اگر ہم دنیا میں امن چاہتے ہیں، آپس میں محبت کے جذبوں کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں تو ہمیں تعصب کی عینک اتار کر بزرگانِ دین کی تعلیمات اور ان کے احوال کو پڑھنا ہو گا اور سچ بات ہے کہ اگر ہم ان کی راہ کو اپنا لیں تو پھر دوریاں قربتوں میں بدل جائیں گی اور تلخیاں آسودگیوں میں۔

Leave a Reply

Back to top button