کتابیں

چالیس چراغ عشق کے…… نعیم سلہری

چالیس سالہ ایلا تین بچوں اور ایک بے وفا شوہر کے ساتھ ناخوش گوار زندگی گزار رہی ہے۔ اس کی حیات مستعار کا رُخ اس وقت بدلنا شروع ہو جاتا ہے جب اسے ایک اشاعتی ادارے میں بطور ریڈر نوکری ملتی ہے۔ ایلا کو نظرثانی کے لئے ایک ناول دیا جاتا ہے جو تیرھویں صدی کے صوفی شاعر جلال الدیں رومی ؒ اور ان کے مرشد شمش تبریز ؒ کی زندگی کے بارے میں ہے۔

ناول کے اہم کردار ترکی سے تعلق رکھنے والے عزیز کا یہ پہلا ناول ہے، واضح رہے کہ ناول Forty Rules of Love یعنی”چالیس چراغ عشق کے“ کی مصنفہ ایلف شفق کا تعلق بھی ترکی سے ہے۔ ایلف شفق عہد حاضر کی مقبول ترین ترک ناول نگار ہیں جن کے ناول کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکے ہیں۔ ان کے دیگر مشہور ناولوں میں ”باسٹرڈز آف استنبول“ اور ”پہناں“ شامل ہیں۔ تصوف کو موضوع بنا کر اپنا نقطہ نظر قاری تک پہنچانا ایلف شفق کا خاصا ہے۔

ایلا پہلے تو ناول پڑھنے کی ذمہ داری لینے سے ہچکچاتی ہے کیونکہ ناول کا زمان و مکاں اس کے اپنے عہد سے بالکل مختلف ہے۔ وہ ناول کے مطالعہ کے دوران مصنف عزیز کے ساتھ ای میلز کا تبادلہ کرتی ہے،کہانی بھی اس کو اپنی طرف کھینچتی ہے، اس طرح وہ ناول اور ناول نگار کے سحر میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ ناول پڑھتے ہوئے ایلا کے ذہن میں سوالات جنم لیتے ہیں کہ کیسے اس نے حقیقی محبت اور جذبات سے عاری زندگی گزارنے کے لئے خود سے سمجھوتہ کیا ہے۔
ناول کے وسط میں ایلا کی ملاقات شمش تبریز سے ہوتی ہے۔ شمس ایک ایسے درویش ہیں جو روایتی دانش، سماجی اور مذہبی تعصبات کو چیلنج کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ مسلسل سفر میں ہیں۔ سفر کا مقصد روح کے ساتھی کی تلاش ہے۔ شمس کی روح کا مقصد اپنے شاگرد، مرید رومی ؒ کو بدلنا ہے۔ رومی ؒ ایک آسودہ خاطر، مطمئن اور ہر دلعزیز مبلغ ہیں اور شمس کا مقصد انہیں دنیا کا ایک عظیم ترین شاعر بنانا ہے۔ ان کے اندر عشق کی خوابیدہ چنگاری کو جگانا ہے تاکہ وہ عشق کی صداکو ہر دل تک پہنچانے کا سبب بن سکیں۔

رومی تو سیکھنے پر آمادہ طالب علم ہیں مگر ان کے اہل خانہ و اہل ارادت شمس سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک شمس ان کی آباد اور معمول کی زندگی میں ہلچل مچانے کا سبب بن رہے ہیں۔ رومی ؒ کو ان کے حلقہ ارادت اور معاشرے میں ایک اعلیٰ مقام حاصل ہے اور شمس انہیں ان کے اس کمفرٹ زون سے باہر نکالنا چاہتے ہیں تا کہ وہ آتش عشق میں تپ کر کندن بن سکیں۔ اس مقام پر پہنچ کر ناول میں حقیقت اور رومانس کا عمدہ امتزاج نظر آتا ہے۔

حقیقت میں جو تعلق رومی ؒ اور شمس کے درمیان پیدا ہوتا ہے، ناول میں اسی تجربے سے ایلا اور عزیز گزرتے ہیں۔ یہاں ایلا رومی جب کہ عزیز شمس ہیں۔ ایلا اور رومی اپنے اپنے مرشد کے زیر اثر آتے اور اس مقام تک پہنچ جاتے ہیں جہاں وہ زندگی میں موجود تحفظ پر سوال اُٹھاتے اور ایک غیر یقینی مگر وجدان پر مبنی شاہرہ حیات پر چل نکلتے ہیں۔ شمس اور عزیز کوئی عارضی نشاط نہیں بلکہ ارفع ملاپ، الہامی عشق اور گہری ہم آہنگی کی راہ دکھاتے ہیں جو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان جھوٹی انا اور عزت واحترام کی خاطر وضع کی گئی کھوکھلی اقدار کو تیاگنے کے قابل ہو جائے۔

شمس ہمیں عشق کے چالیس اصولوں سے آگاہ کرتے ہیں۔ یہ اصول خالص صوفیانہ دانش پر مبنی ہیں، وہ ان اصولوں کا پرچار ہی نہیں بلکہ ان پر عمل بھی کرتے ہیں۔ شمس روایتی سماجی اور مذہبی رسم و رواج کو چیلنج کرتے ہیں۔ ان کا یہ عمل علماء ظاہر اور روایتی اخلاقیات کے مبلغوں کے غصے اور نفرت کا سبب بنتا ہے۔ مگر وہ ان باتوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے رومی ؒ کو وہ بننے پر آمادہ کرتے ہیں، جو بننا ان کے مقدر میں ہے۔ اسی طرح عزیز، اور اس کی رومی و شمس کی کہانی ایلا کو اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ وہ ایسی شادی کے بندھن سے آزاد ہو جائے جو اس کی جذباتی اور روحانی زندگی کا گلا گھونٹ رہی ہے۔

ایلف شفق کے ناول Forty Rules of Love کے دو اردو تراجم میری نظر سے گزرے ہیں۔ جن میں سے ایک کا عنوان ”عشق کے چالیس اصول“ اور دوسرے کا ”چالیس چراغ عشق کے“ ہے۔ ثانی الذکر عنوان کی مترجم ہما انور ہیں جو اوّل الذکر سے کہیں زیادہ بہتر اور معیاری ہے، یہی بات دونوں تراجم کی اشاعت کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔

Leave a Reply

Back to top button