تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

چاول کے چوکر (بھوسے) کا تیل, قدرتی اینٹی آکسیڈینٹ کا خزانہ

چاول غذائیت سے بھرپور ایک فصل ہے۔اس میں اعلیٰ قسم کی پروٹین کی وافر مقدار پائی جاتی ہے، جسے انسانی جسم آسانی سے ہضم اور جذب کرسکتا ہے۔ یہ وٹامن بی اور وٹامن ای اور فیٹی ایسڈزسے بھرپور ہوتے ہیں۔ ان کے علاوہ چاولوں میں پوٹاشیم، میگنیشیم، زنک، آئرن، اور مینگنیزجیسے مرکبات بھی پائے جاتے ہیں۔ چاول کے چوکر (بھوسے) سے تیل بھی نکالا جاتا ہے، جس میں قدرتی اینٹی آکسیڈینٹ ہوتے ہیں یعنی ٹوکوفیرول، ٹوکوٹریئنول اور اورزینول جو جسم میں فری ریڈیکلز کے خلاف کام کرتے ہیں۔

چاول مستقل غذا کے طور پر گندم کے استعمال کے بعد دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ جن ممالک کی مستقل اور اہم غذا گندم ہے،ان ملکوں کے باشندوں کے گھروں میں بھی چاول ہر روز نہیں تو کم از کم ہفتے عشرے میں دستر خوان کی زینت ضرور بنتے ہیں۔ اس کے استعمال میں اضافے کی وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ ایک تو چاول رکھنے سے خراب نہیں ہوتا‘ دوسرے اس کا پکانا زیادہ آسان ہے۔پھر چاول کی ایک اور بڑی خوبی یہ ہے کہ پکانے کے بعد اس کی مقدار تین گنا زیادہ ہو جاتی ہے۔

چاول کی تاریخ
چاول کا ذکرقدیم زمانہ سے چینی اور ہندوستانی تہذیب میں ملتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چین میں چاول تقریباً 7 ہزار سال قبل بھی پکایا جاتا تھا۔ ماہرین ہندوستان میں بھی چاول کی قدامت کا عرصہ لگ بھگ چین جتنا پرانا ہی بتاتے ہیں۔ لیکن چاول کا اصل پیدائشی مقام چین ہی ہے۔ جہاں سے پھر یہ فصل آہستہ آہستہ دیگر ممالک میں پہنچی۔

چاول کا مختلف تہذیبوں میں استعمال:
چاول کا مختلف تہذیبوں میں مختلف استعمال رہا ہے۔ جیسے چین اور ہندوستان کی معاشرتی زندگی میں چاول کا ایک استعمال یہ بھی تھا کہ نوبیاہتا جوڑے پر لوگ نیک دعاؤں کے اظہار کے لیے چاول نچھاور کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اس سے جوڑے کی ہونے والی اولاد میں خیر و برکت آئے گی‘ فصلیں اچھی ہوں گی اور یہ گھرانہ پھلے پھولے گا۔جاپان کی ایک دیومالی روایت (myth) ہے کہ پہلے پہل سورج دیوتا نے آسمان پر چاول اگائے تھے اور پھر خوش ہو کر چاول کے بیج اس نے جاپان کے بادشاہ کی اولاد کو تحفتاً دیے۔ واضح رہے کہ جاپان میں صدیوں تک دولت ناپنے کا معیار چاول ہی تھا۔ جاگیرداروں کی حیثیت کا تعین اس بات سے کیا جاتا تھا کہ ان کی ملکیت میں چاول پیدا کرنے والی زمین کتنی ہے۔ عہدِ قدیم کی بعض تہذیبوں میں سامورے یعنی جنگجوؤں کو تنخواہ کے طور پر چاول دیے جاتے تھے۔ جاپانی اور چینی زبانوں میں مشترکہ طور پر ”کھانے“ کے لیے لفظ ”چاول“ بولا جاتا ہے۔ جاپان میں چاول کے دیوتا کو مذہبی عقائد میں اہم مقام حاصل ہے اور وہاں اس کے ہزاروں مندر ہیں۔ جاپانی لوگ سالِ نو کی خوشیاں منانے کے لیے صرف چاول کے کیک بناتے ہیں جن کو وہ ”موچی“کہتے ہیں۔ انڈونیشیا میں جاوا کے علاقے میں چاول کی دیوی سری کا دیا ہوا تحفہ مانا جاتا ہے۔ یہ لوگ اس بات پر بھی یقین رکھتے تھے کہ چاول میں روح ہوتی ہے۔

چاول میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
چاول غذائیت سے بھرپور ایک فصل ہے۔اس میں اعلیٰ قسم کی پروٹین کی وافر مقدار پائی جاتی ہے، جسے انسانی جسم آسانی سے ہضم اور جذب کرسکتا ہے۔ یہ وٹامن بی اور وٹامن ای اور فیٹی ایسڈزسے بھرپور ہوتے ہیں۔ ان کے علاوہ چاولوں میں پوٹاشیم، میگنیشیم، زنک، آئرن، اور مینگنیزجیسے مرکبات بھی پائے جاتے ہیں۔ چاول کے چوکر (بھوسے) سے تیل بھی نکالا جاتا ہے، جس میں قدرتی اینٹی آکسیڈینٹ ہوتے ہیں یعنی ٹوکوفیرول، ٹوکوٹریئنول اور اورزینول جو جسم میں فری ریڈیکلز کے خلاف کام کرتے ہیں۔

1 2 3اگلا صفحہ

Leave a Reply

Back to top button